کیا پیپلز پارٹی تحریک انصاف سے ہاتھ ملانے والی ہے؟

سابق وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کو مسلسل ہدف تنقید بنانے والے بلاول بھٹو نے اب اپنی توپوں کا رخ نون لیگ کی طرف کر لیا ہے جبکہ انہوں نے نام لیے بغیر اسٹیبلشمنٹ کو بھی ہدف تنقید بنانا شروع کر دیا۔ مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کی نئی حکمت عملی سے لگتا  یہی ہے کہ پی ٹی آئی اور پی پی پی کے فاصلے کم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

بلاول بھٹو مسلم لیگ نون کے الیکشن سے بھاگنے پر تنقید کرکے پی ٹی آئی کے نوے روز میں الیکشن کروانے کے مطالبے کو دوہرا رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ ”کٹھ پتلیاں بنانے والوں‘‘ کو پیغام دے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے عوام پر تجربے کرنا بند کر دیں اور لوگوں کو اپنے فیصلے خود کرنے دیں۔ بلاول بھٹو کے لہجے میں ایسا اعتماد ہے کہ وہ بظاہر اس معاملے پر اپنے والد آصف علی زرداری کی رائے کو بھی ماننے کو تیار نہیں ہیں۔

پیپلز پارٹی کی نئی حکمت عملی بارے سیاسی تجزیہ کار جاوید فاروقی کہتے ہیں کہ اس وقت پیپلز پارٹی ہی وہ واحد جماعت ہے، جو تحریک انصاف کے ساتھ فعال رابطے رکھے ہوئے ہے۔  پی ٹی آئی کو سیاسی تنہائی سے نکلنے کے لیے اتحادیوں کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی نظریں پی ٹی آئی کے ووٹ بینک پر ہیں، ”عمران خان کی حمایت میں انتہائی سرگرم کردار ادا کرنے والے چوہدری اعتزاز احسن جنہیں پیپلز پارٹی سے نکالنے کی باتیں ہو رہی تھیں اب ان کی پیپلز پارٹی کے ایک حالیہ مرکزی اجلاس میں شرکت اور پزیرائی کو بھی سیاسی پنڈت اہمیت کی حامل پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔‘‘

جاوید فاروقی کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی نہیں چاہتی کی مسلم لیگ نون اسے نظر انداز کرکے تنہا اقتدار کے مزے لے۔ ان کے بقول پی پی پی کو یہ بات بھی پسند نہیں کہ مولانا فضل الرحمن جی ڈی اے سے مل کر سندھ میں پیپلز پارٹی کے لیے انتخابی مشکلات پیدا کر رہے ہیں، ”جب سے نگران حکومت برسر اقتدار آئی ہے، تب سے سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف کارروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کو یہ دکھ بھی ہے کہ طاقتور حلقے بلوچستان میں پی پی پی کو حکومت دینے کے وعدے سے پھر چکے ہیں اور پی ٹی آئی سے پیپلز پارٹی کا رخ کرنے والوں کو روکا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے لوگوں میں بنیادی گفتگو کا آغاز ہو چکا ہے۔‘‘

دوسری جانب صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے الیکشن کمیشن اور حلقہ بندیوں کی حمایت میں دیے جانے والے تازہ بیان سے یہ لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا زرداری سے رابطہ بحال ہو گیا ہے اور ان میں پھر سے بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے مابین کسی ممکنہ انتخابی اشتراک کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ایسا بالکل ممکن ہے، ”پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ سرکاری ہتھکنڈوں کی زد میں آئی ہوئی پی ٹی آئی کتنی بچتی ہے، پاکستانی سیاست میں اس کا کتنا وزن باقی رہتا ہے اور اسے الیکشن میں حصہ لینے کی کتنی آزادی ملتی ہے اور وہ اپنے ووٹ بینک کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے کیسی حکمت عملی اپناتی ہے۔ ‘‘

دوسری جانب پنجاب میں مسلم لیگ نون کسی کے ساتھ لمبی چوڑی انتخابی شراکت پر فی الحال تیار دکھائی نہیں دے رہی۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ بھی کھٹائی کا شکار ہو چکا ہے۔ نون لیگ کے رہنما جاوید لطیف نے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ ان کی جماعت کا پیپلز پارٹی کے ساتھ کبھی اتحاد نہیں رہا اور وہ صرف انتحابی اصلاحات اور معاشی ابتری کی صورتحال میں بہتری کے لیے قومی حکومت بنانے پر متفق ہوئے تھے۔

مبصرین کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کا تارا سمجھے جانے والے شہباز شریف یہ تاثر دے کر وزیر اعظم ہاؤس سے رخصت ہوئے تھے کہ جیسے وہ کچھ ہی دیر بعد پھر وزیر اعظم بن جائیں گے۔ وہ بھی مختلف اندیشوں کے ساتھ ”دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی پالیسی لیے ملک سے باہر سدھار گئے ہیں۔

جاوید فاروقی کا خیال ہے کہ اس وقت پاکستان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ سپریم کورٹ کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے مطابق، ”ہمیں انتظار کرنا ہوگا کہ نیب ترامیم کے بارے میں سپریم کورٹ کیا فیصلہ دیتی ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں نیب کے قانون میں کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دے دیا گیا تو پھر نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز ، آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی، اور خورشید شاہ سمیت بہت سے سیاست دانوں کے خلاف کیسز دوبارہ کھل سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی افق سے کئی چہرے مائنس ہو جائیں۔‘‘وہ مزید کہتے ہیں کہ پہلے یوں لگ رہا تھا کہ نواز شریف اقتدار سنبھالنے آ رہے ہیں اور اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ دوسرے آپشن بھی دیکھ رہی ہے، ”اس کو اس بات کا اندازہ ہو رہا ہے کہ عام لوگ عمران خان کی حکومت کے خاتمے پر اتنے ناراض نہیں ہیں جتنا وہ اس بات پر نالاں ہیں کہ عمران خان کو گھر بھیج کر ان لوگوں کو لایا جا رہا ہے جن کے بارے میں خود اسٹیبلشمنٹ نے بار بار کہا تھا کہ وہ چور اور بد دیانت ہیں۔ یہ صورتحال آج کے زیرو کو کل کا ہیرو بھی بنا سکتی ہے۔ ‘‘

Back to top button