کیا چین اب پاکستان اور بھارت میں بھی دوستی کرواۓ گا

چین کے ذریعے سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کیلئے ایک سبق ہے. چین اگر ایران اور سعودی عرب کی دیرینہ دشمنی کو دوستی میں بدلنے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اب وہ جنوبی ایشیا کے دو متحارب ایٹمی ممالک پاکستان اور بھارت کو قریب لانے میں اپنا اہم کردار ادا کرے . ان خیالات کا اظہار پاکستان کے اعزازی سفیر ، ممتاز صنعت کار اور کالم نویس مرزا اشتیاق بیگ نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ایرانی ہم منصب امیر عبدالبیان کی گزشتہ دنوں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ملاقات کو دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدے کے حوالے سے ایک تاریخ ساز قدم قرار دیا جارہا ہے جس میں دونوں ممالک کے سفارتخانے کھولنے اور پروازیں دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق رائے ہوا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ چین کی ثالثی کے نتیجے میں بیجنگ میں سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدے کا اعلان کیا جس نے امریکہ سمیت پوری دنیا کو حیرت زدہ کردیا۔ حالیہ معاہدے اور سفارتی تعلقات کی بحالی کو مشرق وسطیٰ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور خطے میں امریکہ کے کردار کیلئے چیلنج کے طور پر دیکھا جارہا ہے. چین نے سعودی عرب اور ایران کو یہ باور کرایا کہ سعودیہ ایران کشیدگی دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں بلکہ امریکہ کے مفاد میں ہے جو دو اسلامی ممالک کے درمیان ’’تقسیم کرو اور اپنا تسلط قائم کرو‘‘ جیسی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے بعد چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران نے تعلقات میں بحالی کیلئے یہ انتہائی مثبت قدم اٹھایا۔
ماضی میں سعودی عرب اور ایران خطے میں دوسرے مسلم ممالک شام ، یمن، لبنان اور لیبیا میں جاری تنازعات میں پارٹی بنے ہوئے تھے جس سے امریکہ اور اسرائیل فائدہ اٹھارہے تھے تاہم حالیہ پیشرفت سے ان ممالک میں جاری تنازعات بھی دم توڑ رہے ہیں جس کی حالیہ مثال یمن میں جنگ بندی اور جنگی قیدیوں کی رہائی، ایک خوش آئند امر ہے۔ دوسری طرف حالیہ معاہدے سے امریکہ کے مدمقابل خطے میں چین، روس، سعودی عرب اور دیگر ممالک پر مشتمل ایک نیا گروپ تشکیل پارہا ہے جس میں چین مرکزی کردار ادا کررہا ہے۔ مرزا اشتیاق بیگ کہتے ہیں کہ سعودیہ ایران سفارتی معاہدے کے پاکستان سمیت خطے میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان ہمیشہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان اچھے تعلقات نہ ہونے کے باعث آزمائش سے دوچار رہا ہے۔ تاہم حالیہ سعودیہ ایران معاہدہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور پاکستان بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ایران پر امریکی پابندیوں کے باعث کئی سالوں سے تعطل کا شکار ہے۔ ایران نے پائپ لائن پاکستان کی سرحد تک بچھادی ہے لیکن مالی مشکلات کے باعث پاکستان اپنے حصے کی پائپ لائن بچھانے میں ناکام رہا ہے اور منصوبے پر تاخیر سے ایران خوش نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور چین کی مدد سے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچائے جس سے نہ صرف پاکستان میں انرجی بحران پر قابو پایا جاسکے گا بلکہ پیٹرولیم مصنوعا ت پر انحصار بھی کم ہوگا۔ مرزا اشتیاق بیگ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ پیشرفت پاکستان اور بھارت کیلئے ایک سبق ہے۔ اس معاہدے سے عالمی برادری کا دونوں ممالک پر دبائو بڑھے گا کہ وہ بھی خطے میں امن کیلئے اپنے دیرینہ مسائل بالخصوص مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ اگر چین، ایران اور سعودی عرب کی دیرینہ دشمنی کو دوستی میں بدلنے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے تو یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ خطے کے دو ایٹمی ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی جس سے جنوبی ایشیاکا امن خطرے میں پڑا ہوا ہے اور ایٹمی جنگ کے خطرے کی تلوار برصغیر پر مسلسل لٹک رہی ہے، میں کمی اور دونوں ممالک کو قریب لانے میں اپنا اہم کردار ادا کرے۔سعودیہ ایران تعلقات کی بحالی کو ایک مثبت قدم قرار دیا جارہا ہے۔بلاشبہ چین نے وہ کام کر دکھایا ہے جس پر چینی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے۔ حالیہ معاہدے کے نتیجے میں چین خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں کامیاب ہوگیا ہے جبکہ امریکہ کا خطے میں کردار محدود ہوکر رہ گیا ہے جو یقیناًپاکستان کے مفاد میں بھی ہے۔
