کیا کپتان اوراسٹیبلشمنٹ میں دوریاں پیدا ہونے جا رہی ہیں؟

اپنی بدزبانی کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنامی کما کر اقتدار سے رخصت ہونے والے ٹرمپ کی فراغت سے کیا پاکستانی سیاست پر بھی فرق پڑے گا۔ کیا پاکستان میں بھی کوئی بڑی سیاسی تبدیلی آنے والی ہے؟ کیا پاکستانی ٹرمپ کے بھی برے دن شروع ہونے والے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو کہ اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں زبان زد عام ہیں؟ بنیادی وجہ یہ ہے کہ کپتان حکومت کی تمام تر ہمدردیاں ٹرمپ کے ساتھ تھیں اور اسکی خواہش یہی تھی کہ وہ جو بائیڈن کو شکست دے دیں۔ اب جبکہ ٹرمپ صدارتی الیکشن میں شکست کھا چکے ہیں تو اپوزیشن کے حلقے امید کر رہے ہیں کہ بائیڈن کے اقتدار میں آنے سے پاکستان میں انسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کی صورت حال بہتر ہو جائے گی اور پاکستان عسکری جمہوریت سے اصلی جمہوریت کی طرف سفر کرنے میں کامیاب ہوگا۔ یہ امید بھی کی جا رہی ہے کہ اب اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کا کوئی نہ کوئی مثبت نتیجہ ضرور نکلے گا۔
اپوزیشن حلقوں کی اس امید افزا سوچ کی بڑی وجہ ایسی افواہیں بھی ہیں کہ کپتان کی فوج کے حق میں حالیہ تقاریر کے باوجود حکومت اور عسکری حلقے اب اس طرح ایک پیج پر نہیں ہیں جیسے کہ ماضی میں ہوا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے سے فوج اور فوجی قیادت کے دفاع میں کی جانے والی تقاریر کا بنیادی مقصد اپوزیشن اور عسکری حلقوں کے مابین معاملات کو مزید خراب کرنا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ نواز شریف کی جانب سے فوجی قیادت کا نام لیکر تنقید کا مقصد ان پر کسی ڈیل کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔ لیکن دوسری طرف عسکری حلقے بھی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی جانب سے ان پر ہونے والی تنقید کی بنیادی وجہ ان کا حکومت کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فوج یا آئی ایس آئی بطور ادارہ اپنے سربراہوں پر ہونے والی ایسی کڑی تنقید کا بوجھ زیادہ عرصہ تک نہیں اٹھا سکتے۔۔اسلیے عسکری قیادت بھی سمجھتی ہے کہ اب اسے اپوزیشن قیادت کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں میں حصہ دار ہونے کا تائثر ختم کرنے کے لیے پیچھے ہٹنا اور عمران خان کا ساتھ چھوڑنا ہوگا۔ لہذا اب اب اسلام آباد کے حلقوں میں یہ افواہیں گردش میں ہیں کہ عسکری اور حکومتی قیادت اب اس طرح ایک صفحے پر نہیں جیسا کہ ماضی قریب میں ہوا کرتی تھی۔
سینیئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کے بقول ابھی کل کی ہی بات ہے کہ اُس ایک صفحے کا بہت چرچا تھا۔ ایک بیانیہ تھا کہ پہلی بار پنڈی اور اسلام آباد ایک صفحے پر ہیں۔ یہ بیانیہ بھی اہم رہا کہ فوج اور عدلیہ حکومت کی پُشت پر ہیں اور اس میں دو رائے بھی نہیں۔ مگر اب اُس ایک صفحے کی تحریر کی روشنائی مدھم پڑتی دکھائی دے رہی ہے؟ اب ایک نئے صفحے کی تیاری ہے مگر عاصمہ شیرازی کے خیال میں اب کی بار یہ صفحہ حزب اختلاف کے ہاتھ ہے۔ پی ڈی ایم جلسوں کے بعد اپوزیشن کا بیانیہ ’نامی گرامی‘ شخصیات کو تو شاید اتنا ظاہری نقصان نہیں پہنچا سکا جتنا حکومت کی ساکھ کو پہنچایا ہے۔
کیا عجیب بات ہے کہ ایک ایک کر کے اچانک تمام اتحادی حکومت کو آنکھیں دکھانے لگے ہیں۔ پنجاب کی سیاست کو بغور دیکھنے والے اچھے سے جانتے ہیں کہ گجرات کے چوہدری وضع داری میں اپنی مثال آپ ہیں۔ اگر وہ بھی وزیراعظم کے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں تو مراد کیا ہے۔ یاد رہے کہ قاف لیگ کی قیادت نے وزیر اعظم کے ایک حالیہ ظہرانے میں نہ صرف شرکت سے معذرت کر لی بلکہ یہ بیان بھی داغ دیا کہ ان کا وزیر اعظم سے اتحاد کھانوں کے لیے نہیں ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کا وہ بیانیہ ہے جس میں میاں نواز شریف کی زبان سے ادا شدہ فوجی سیاسیات کے نام بیانیے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ میاں صاحب نے نام کیوں لئے؟ یہ وہ سوال ہے جو نہ صرف اپوزیشن بلکہ ن لیگ کے رہنما بھی ایک دوسرے سے پوچھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ناموں کا دھچکا صرف بلاول کو ہی نہیں لگا بلکہ مولانا بھی اس پر چونک اٹھے۔ خطرہ چار سو چالیس نے اپوزیشن کو بہر حال دہلا دیا ہے۔
دوسری طرف میاں نواز شریف کے قریبی ساتھیوں کا خیال ہے کہ اب اشاروں کنایوں میں بات کرنے کا وقت گزر چکا ہے اور اپوزیشن کو نام لے کر ایسے عسکری کرداروں پر تنقید کرنا ہو گی جنہوں نے پاکستانی سیاست کو پراگندہ کیا اور 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کرکے اپنی مرضی کا کٹھ پتلی وزیراعظم برسراقتدار لائے۔ نوازشریف سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ عمران کو اقتدار میں لانے والے عناصر اب تک ان کی کمزور ترین حکومت کو بچانے کے لیے سرگرم ہیں اور اگر وہ طاقت میں رہے تو پاکستان میں سیاسی تبدیلی لانا بہت مشکل ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق نواز شریف کی طرف سے عسکری قیادت کے نام لیکر تنقید کرنے کا مقصد ایک تو ان کو ان کے اپنے ادارے کے اندر کمزور اور سنگل آؤٹ کرنا ہے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ وہ دباؤ میں آ کر عمران خان کی کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چھوڑ دیں۔ تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ اگر فوجی اور انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ عمران کے سر پر سے ہاتھ اٹھا لے تو قومی اسمبلی میں وہ فوری طور پر اکثریت کھو بیٹھیں گے اور صرف ایک عدم اعتماد کی تحریک ان کی حکومت کے خاتمے کا باعث بن جائے گی۔
اسی لیے اب بات اپوزیشن کے جلسوں سے آگے بڑھتی اور لانگ مارچ تک جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ اب کی بار اپوزیشن اپنے اعلامیے کو ایک نئے میثاق میں ڈھالنے میں مصروف ہے جس میں پہلے نمبر پر حکومت کی برطرفی اور دوسرے نمبر پر اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں کردار کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔ کشمیر پر سودا بازی کے خلاف اور سچائی کمیشن کی تشکیل جیسے مطالبات بھی سامنے لائے جاچکے ہیں۔ قابل عمل تجاویز پر مشتمل نئے میثاق کا یہ مسودہ جلد منظر عام پر لائے جانے کی تیاری ہے۔ اپوزیشن میثاق کے نئے صفحے میں عوام اور ریاست کے معاہدے کو بنیادی اہمیت دے رہی ہے۔ تبدیلی کی گونج میں حتمی تاریخیں بھی دی جا رہی ہیں اور دعوے بھی زور و شور سے جاری ہیں تاہم سیاسی ہنڈیا میں حتمی تڑکہ کون لگائے گا یہی دیکھنا اہم ہو گا۔
معاملہ اتنا بھی سادہ نہیں۔ حزب اختلاف کے اس بھاری بھر کم مشترکہ بیانیے اور آنے والے میثاق کا بوجھ اپوزیشن جماعتیں کسی طور ایک ساتھ اٹھا پائیں گی؟ سوال یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کیسے اور کون کرے گا۔ ماضی میں پاکستان میں جمہوریت کی بحالی میں عالمی طاقتوں کا ذکر موجود رہا ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ مقامی طاقتیں بھی اس تبدیلی کا حصہ رہی ہیں۔ مگر اب کی بار کیا اپوزیشن جماعتیں محض عوامی طاقت پر ہی انحصار کریں گی یا پھر امریکی صدارتی الیکشن میں ٹرمپ کی شکست کے بعد آنے والی تبدیلی پاکستانی سیاست پر بھی کوئی مثبت اثرات مرتب کرنے والی ہے؟
