بلوچستان میں سرداری نظام دم کیوں توڑا رہا ہے؟


بدلتے ہوئے سماجی رجحانات اور پارلیمانی سیاست کی وجہ سے پاکستان کے پشتون قبائلی علاقوں کی طرح بلوچستان میں بھی قبائلی سرداروں اور نوابوں کا اثرورسوخ خاصا کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی سیاست میں کچھ عرصہ قبل اکثر پارلیمانی شخصیات وہ تھیں جو اکثر کسی قبیلے کے سردار یا نواب تھے لیکن اب ان کی تعداد گھٹ کر اب پندرہ بیس ہی رہ گئی ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں کسی زمانے میں بلوچ سرداروں کا کافی زور تھا اعر کسی بھی علاقے میں کوئی بھی کام ان کی مرضی اور اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن آج کل لوگوں کے جھگڑوں اور دیگر مسائل کا حل اب جرگوں کی بجائے عدالتوں میں ہو رہا ہے۔ اگر کچھ جھگڑے عدالتوں کے باہر بھی حل کیے جاتے ہیں تب بھی اس میں کوئی سردار موجود نہیں ہوتا۔ شاید ہمارے سماج کو سرداروں کی ضرورت نہیں رہی یہی وجہ ہے کہ فرسودہ سرداری نظام اب اپنے ’خاتمے‘ کی جانب گامزن ہے اور اسی لیے اب ہر قبیلے کے اندر ہی تین سے چار سردار بھی بننے لگے ہیں۔ بلوچستان میں سرداری نظام صدیوں سے چل رہا ہے۔ ماضی میں اس نظام کو انگریزوں نے بھی اپنے دور میں دوام دیا اور اپنے وفادار سرداروں کو نواب جیسے خطابات سے نوازا تاکہ ان کا قبضہ مضبوط ہوسکے۔
معروف دانشور، محقق اور بلوچستان کے قبائلی معاشرے کے حوالے سے متعدد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر شاہ محمد مری کے بقول بلوچ معاشرے میں سردار کا کردار اس وقت کھل کر سامنے آیا جب انسان نے ذراعت کا طریقہ سیکھا اور اپنی خوراک کو کاشت کاری سے پورا کرنے لگا۔ جب خوراک ذراعت سے حاصل ہونےلگی تو یہی سردار بہتر کاشت والی زمین پر حق جتانے لگا اور پیداوار میں سے بھی زیادہ حصہ لینے لگا۔ اس نے اپنے ساتھ کچھ لوگ بھی ملا لیے۔شاہ محمد مری کہتے ہیں کہ ان سرداروں نے خود کو طاقتور بنانے کے لیے اپنے ساتھ شاعر بھی رکھ لیے جو ان کو جنگوں کے قصے سناتے اور انکی تعریف کرتے تھے۔ یہی سردار جب جاگیر دار بن گیا تو اس نے ٹیکس لینا شروع کر دیا۔ بلوچستان میں جس علاقے سے سردار کا قافلہ گزرتا وہاں سے ٹیکس لیتا جاتا۔ پھر فیصلوں، جھگڑوں کے تصفیے اور شادی بیاہ کے لیے بھی ٹیکس لیا جانے لگا۔
سرداروں کے خلاف بلوچستان میں سب سے پہلے 1929 میں نواب یوسف عزیز مگسی نے آواز بلند کی اور اس کے خاتمے کے لیے جدوجہد شروع کی۔لیکن یوسف عزیز مگسی 1935 کے تباہ کن زلزلے میں چل بسے جس کے بعد بھی مزید کی تحریکیں چلیں جیسے انجمن اتحاد بلوچاں، قلات سٹیٹ پارٹی وغیرہ ان سب نے ہی سرداری نظام کے خلاف آواز بلند کی۔ ڈاکٹر مری کے مطابق سرداری نظام کے خلاف پاکستان بننے سے قبل اور 1947 کے بعد بھی سیاسی طور پر یہ آواز توانا ہوتی رہی ہے۔
لیکن اگر موجودہ حالات کا اگر تجزیہ کریں تو بلوچستان میں پچھلے دس سے 12 سالوں میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ شاہ محمد مری کے مطابق جب سردار جاگیردار بنا تو بعد میں وہی اسمبلی کا ممبر بھی بنتا رہا لیکن یہ سلسلہ کچھ عرصہ چلا کیوں کہ سیاست میں ووٹ کا عمل دخل زیادہ ہوگیا۔ فیصلے اسی کے ذریعے ہونے لگے۔ شاہ محمد مری کا ماننا ہے کہ ہماری پارلیمانی سیاست نے سردار کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سیاست نے سردار کو کس طرح کمزور کیا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے شاہ محمد مری بتاتے ہیں کہ جب سردار کا عروج تھا تو اس کے حکم سے نظام چلتا تھا۔ لوگ اس کے پاس آتے تھے لیکن پارلیمانی سیاست میں اسے عوام کے پاس ووٹ لینے کے لیے جانا پڑے گا۔ جو کچھ وقت انہوں نے طاقت کے زور پر حاصل کرتے رہے لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا۔ ڈاکٹر مری کے بقول سرداری نظام میں یہ توڑ پھوڑ صرف بلوچ معاشرے میں نہیں بلکہ پشتون قوم، افغانستان اور وزیرستان میں بھی سرداری نظام ارتقائی عمل کے تحت ختم ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ چند سال قبل تک بھی بلوچستان میں اگردو قبیلوں میں لڑائی چھڑ جاتی تو دونوں اطراف سے کئی لوگ لڑنے کے لیے آجاتے لیکن اب اس طرح کے واقعات کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ دانشوروں کا کہنا ہے کہ الیکشن میں پیسے کی ریل پیل اور ٹیکنالوجی نے عوام کی ضروریات بدل دی ہیں۔ دوسری جانب سیاست نے خونی رشتوں کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ جدت اور ضروریات نے لوگوں کو دیہات سے شہر کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اب لوگوں کی ضروریات کا تعلق حکومت سے ہے۔اب کام کے لیے نوکری کی ضرورت ہے۔ پہلے قبائل سڑک کو تباہی کا ذریعہ سمجھتے تھے لیکن اب وہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں سڑکیں بنانی چاہییں۔ ڈاکٹر مری کے مطابق اب سردار کی حالت انتہائی کمزور ہے۔ کیوں کہ جس شان سے وہ رہتا ہے وہاں سے نیچے آنا اس کے لیے مشکل ہے۔ لوگوں کا معیار زندگی بدل گیا ہے جس کی وجہ سے اب وہ ایک مظلوم طبقہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ ارتقا کا عمل ہے جس چیز کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے اسے ختم ہونا پڑتا ہے۔ اسی طرح ہمارا سرداری نظام بھی اسی عمل کا شکار ہوکر خاتمے کی جانب گامزن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button