کیا کپتان جہانگیر ترین کے ساتھ ڈبل گیم کر رہا ہے؟

وزیر قانون علی ظفر کی جانب سے جہانگیر ترین کے خلاف شوگر سکینڈل کی ازسر نو تحقیقات، ترین کی جانب سے یوٹیلیٹی سٹورز کو کم قیمت پر چینی کی فروخت اور ان کے مطالبے کے باجود ڈاکٹر رضوان کو تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ برقرار رکھنے کے حکومتی فیصلے کے بعد یہ معاملہ عجیب و غریب رخ اختیار کرتا جا رہا ہے اور کنفیوژن بڑھ چکی ہے۔ اس صورتحال میں جہانگیر ترین کے ساتھی یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا کپتان کی جانب سے ان کے ساتھ ڈبل گیم تو نہیں کی جا رہی۔
وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر چینی اسکینڈل کی تحقیقات میں شفافیت یقینی بنانے والے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے ترین کی قانونی ٹیم اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے افسران سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں جنہوں نے انہیں اب تک کی تحقیقات کے حوالے سے آگاہ کیا ہے۔ علی ظفر کا کہنا ہے کہ وہ سچائی جاننے کیلئے ایف آئی اے اور ترین کی قانونی اور مالیاتی ٹیم سے ملاقاتیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران ایف آئی اے چینی اسکینڈل پر تحقیقات جاری رکھ سکتا ہے۔ علی ظفر نے واضح کیا ہے کہ سیاسی حلقوں میں ہونے والی چہ میگوئیوں کے برعکس ان کے مینڈیٹ میں مرزا شہزاد اکبر کے خلاف تحقیقات کرنا سرے سے شامل ہی نہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سینیٹر علی ظفر کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ یہ معلوم کریں کہ ایف آئی اے کی شوگر اسکینڈل کی تحقیقات میں آیا جہانگیر ترین کے ساتھ معاملات شفاف انداز سے آگے بڑھ رہے ہیں اور کہیں انہیں کسی امتیازی سلوک کا سامنا تو نہیں ہے۔ علی ظفر کو ذمہ داری سونپے جانے پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ شاید وہ شہزاد اکبر کی اس کیس میں مداخلت کا جائزہ لے کر ان کے مستقبل کا بھی فیصلہ کریں گے لیکن علی ظفر کا کہنا ہے کہ ان کے مینڈیٹ میں یہ شامل نہیں کہ وہ شہزاد اکبر کے کردار کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کام صرف حقائق دیکھنا ہے، دونوں فریقین کا موقف سننا ہے جس کے بعد رواں مہینے وہ اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردیں گے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں جہانگیر ترین کیلئے ریلیف حاصل کرنے کی خاطر ملاقات کیلئے آنے والے پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ شوگر اسکینڈل میں ایف آئی اے کی تحقیقات کی خود نگرانی کریں گے اور ساتھ ہی پی ٹی آئی کے سینیٹر اور ماہر قانون علی ظفر کو ذمہ داری دی تھی کہ وہ ترین گروپ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ کے تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے حقائق کا جائزہ لے کر انہیں تفصیلی رپورٹ جلد از جلد پیش کریں۔ شوگر کمیشن کی تحقیقات کی روشنی میں ایف آئی اے نے شوگر اسکینڈل کے مختلف پہلوئوں پر غور کیا تھا اور جہانگیر ترین اور ان کے بزنس سمیت شوگر مل مالکان، شوگر ڈیلرز اور شوگر ملوں کے ملازمین کیخلاف ایف آئی آرز درج کرائی تھیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، ایک مرتبہ اگر ایف آئی اے کے قانون کے تحت ایف آئی آر درج ہو جائے تو ادارے کے افسران کو قانون، پاکستان پینل کوڈ اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین، ضابطہ فوجداری اور پولیس ایکٹ کے تحت اپنی کارروائی کرنا ہوتی ہے۔ کسی بھی قانون میں وزیراعظم، وزیر داخلہ، مشیر داخلہ، کسی بھی سینیٹر یا وزیراعظم کے نامزد کردہ رکن پارلیمنٹ کا کوئی کردار حاصل نہیں۔ تاہم ناقدین نے وزیراعظم کے فیصلے پر سوال اٹھایا ہے اور اسے فوجداری تحقیقات پر بیرونی طور پر اثر انداز ہونا قرار دیا ہے۔ انکا۔کہنا ہے کہ ایف آئی اے افسران کا فرض ہے کہ وہ قانون کے مطابق تحقیقات کریں اور میرٹ کی بنیاد پر سختی کے ساتھ کیس کے حقائق دیکھیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جہانگیر ترین پہلے ہی عدالت میں الزام عائد کر رہے ہیں کہ ان کے کیسز کو اسلام آباد سے چلایا جا رہا ہے اور ان کیخلاف درج کردہ ایف آئی آر اایف آئی اے کو شہزاد اکبر نے ایک یو ایس بی ڈرائیو کے ذریعے فراہم کی تھی۔
تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے علی ظفر کو صرف حقائق دیکھنے کو کہا ہے، جس کا مطلب وفاق ایجنسی کے کام میں مداخلت نہیں ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کو کوئی این آر او نہیں دیا جا رہا اور انکے مطالبے کے باوجود حکومت نے ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر محمد رضوان کو شوگر سکینڈل کی تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم سے ملاقات میں ترین گروپ کے سرکردہ رہنما اور تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی راجا ریاض خاں نے الزام لگایا تھا کہ شوگر سکینڈل انکوائری کی سربراہی کرنے والے افسر ڈاکٹر رضوان نے شہزاد اکبر کے ایما پر جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کے خلاف درج کیے گئے مقدمے میں بے بنیاد الزامات لگائے۔ خیال رہے کہ جس روز ترین گروپ کے اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی کی وزیراعظم سے ملاقات ہوئی اس سے ایک روز پہلے رضوان کو شوگر سکینڈل کی انکوائری سے ہٹانے کا اعلان کر دیا گیا تھا جس سے یہ تائث ابھرا کہ شاید ترین گروپ کو خوش کرنے کے لئے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ تاہم اب یہ طے ہوچکا ہے کہ ایف آئی اے کا سنیئر موسٹ آفیسر ابوبکر خدابخش تحقیقات کے عمل کو لیڈ کرے گا جبکہ ڈاکٹڑ رضوان بدستور سربراہی کریں گے۔ حکومت کے اس اقدام سے بھی ترین گروپ میں یہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی ڈبل گیم تو نہیں کی جا رہی۔
دوسری جانب ترین نے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے ساتھ اکانوے روپے فی کلوگرام کے حساب سے 40 ہزار میٹرک ٹن چینی فرام کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے جو کہ کسی بھی شوگر مل کی جانب سے کم ترین بولی ہے۔ تجزیہ کاروں کےخیال میں یہ سب ترین اپنی نیک نامی میں اضافے اور خیر سگالی کے جذبات کے اظہار کے لئے کررہے ہیں جو ممکنہ طور پر سوگر کیس تحقیقات میں ان کے لئے کسی قسم کے ریلیف کا باعث بن جائے۔ تاہم دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری پہلے ہی وضاحت سے کہہ چکے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان شوگر سکینڈل کی تحقیقات پر کسی بھی صورت اثر انداز نہیں ہوں گے اور اس معاملے میں جو بھی مجرم قرار پائے گا اس کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
شوگر اسکینڈل پر ہونے والی اب تک کی تحقیقات کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے 30 شوگر ملز کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا گیا ہے جس میں وفاقی وزیر خسرو بختیار اور ان کے اہل خانہ بڑے حصہ دار کے طور پر نامزد ہیں۔ ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق چینی کی قیمتوں سے متعلق سٹہ مافیا سے تعلق پر شہباز شریف، ان کے بیٹے حمزہ شہباز اور دو میڈیا ہاوسز کی شوگر ملز کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، اس کے علاوہ وفاق ایجنسی کی جانب سے 40 سٹہ مافیا کے ارکان کے خلاف بھی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان جہانگیر ترین کو پس پردہ شوگر انکوائری میں کوئی ریلیف فراہم کرتے ہیں یا نہیں۔
