کیا عمران خان اسمبلی توڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟


شوگر سکینڈل کیس کا سامنا کرنے والے جہانگیر ترین کے ساتھیوں کی جانب سے کپتان حکومت گرانے کے لیے تحریک انصاف میں فارورڈ بلاک بنائے جانے کی افواہوں کے بعد اب ایک وفاقی وزیر نے یہ سنسنی خیز دعوی کر دیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان بلیک میل ہونے کی بجائے اسمبلی بھی توڑ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان ان دنوں اپنے سابقہ ساتھی جہانگیر ترین کی جانب سے شدید دباؤ میں ہیں ہیں جنہوں نے قومی اور پنجاب اسمبلی کے 30 سے زائد حکومتی اراکین پر مشتمل ایک ایک علیحدہ دھڑا تشکیل دے دیا ہے جو ان کے خلاف ہونے والی شوگر کیس کی۔کارروائی میں نرمی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اسی پس منظر میں اب وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور عمران کے قریبی ساتھی اسد عمر نے اب یہ دعوی کر دیا ہے کہ اگر وزیر اعظم کو بلیک میل کیا گیا یا ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تو وہ اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں۔ نجی چینل ‘آج نیوز’ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ‘عمران خان اقتدار سے چمٹنے والے انسان ہی نہیں ہیں نہ اقتدار کے لیے آئے ہیں، اگر وہ یہ محسوس کریں کہ ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں اور انہیں کام نہیں کرنے دیا جارہا تو وہ جب بھی مناسب سمجھیں گے اسمبلیاں توڑ دیں گے اور عوام کے پاس چلے جائیں گے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘عمران خان بڑے فیصلے کرنے والے انسان ہیں اس لیے ان کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں، وہ اگلے چھ ماہ، ایک سال یا دو سال میں کبھی بھی اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں اور وزارت عظمیٰ کو مختصر کر سکتے ہیں، اس لیے جو ان سے سودے بازی کے بارے میں سوچ رہا ہے وہ یہ ذہن میں رکھے’۔
اسد عمر نے اس حوالے سے مثال دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ہماری مخلوط حکومت کے دوران 10، 12 اراکین کا گروپ بن گیا۔ خبریں چل رہی تھیں کہ اب تو ہماری حکومت گئی، لیکن عمران خان نے میری موجودگی میں ان اراکین سے ملاقات میں کہا کہ میں نے آپ کی ساری بات سن لی ہے اور نوٹس بھی لے لیے ہیں، لیکن ایک بات ذہن میں رکھ لیں کہ اگر آپ میں سے کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مجھے بلیک میل کرکے آپ مجھ سے کوئی کام کروا سکتے ہیں تو میں کل نہیں آج ہی حکومت توڑ دوں گا۔
یاد رہے کہ میڈیا پر پچھلے برس بھی وزیراعظم کی جانب سے صدر مملکت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی ایک سمری بھجوائی جانے کے حوالے سے خبریں چلتی رہی ہیں جنکی صدر عارف علوی نے بعد ازاں تردید کر دی تھی۔ تب وجہ یہ بتائی جارہی تھی کہ ملک کی طاقت ور اسٹیبلشمنٹ اور وزیراعظم میں اختلافات شدید ہو چکے ہیں لیکن عمران خان استعفی دینے کی بجائے اسمبلیاں توڑنے کو ترجیح دیں گے اور اس کیے انہوں نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کی ایک سمری ایڈوانس میں ہی صدر مملکت کو بھجوا دی ہے۔ پچھلے برس میڈیا میں چلنے والی خبروں کے مطابق لندن میں پاور بروکرز اور مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد پاور بروکرز کی طرف سے موجودہ سیٹ اپ کے ساتھ مسلم لیگ ن کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش کی گئی تھی لیکن نواز شریف نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔ مسلم لیگی قیادت کا موقف تھا کہ ملک میں نئے انتخابات کروائے جائیں۔ تاہم پاور بروکرز نے نئے انتخابات کا انعقاد آئین کے تحت نا ممکن قرار دیا تھا۔ سازشی نظریے کے مطابق اب سوال یہ تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کو گرایا کیسے جائے۔ اس کے لیے متعدد آپشن زیر غور تھے جس میں فارن فنڈنگ کیس، سیتا وائٹ کیس، پارلیمنٹ حملہ کیس، ہیلی کاپٹر کیس شامل تھے۔ لیکن پاور بروکرز نے اس بات پہ زور دیا کہ پی ٹی آئی حکومت کو اپوزیشن گرائے۔ اس تجویز کو نواز شریف نے مسترد کر دیا اور تجویز دی کہ جو لائے ہیں وہی گرائیں۔ ہم اس معاملے میں نہیں پڑنا چاہتے.
سازشی نظریے کے مطابق کافی دن تک پاور بروکرز اور مسلم لیگ ن کی قیادت میں اس بات پہ ڈیڈلاک برقرار رہا اور کوئی درمیانی راستہ نکالنے کے لیے سوچ و بچار ہوتا رہا. پھر یہ طے پایا کہ پی ٹی آئی کو آپس میں لڑایا جائے اور یہ اپنی موت آپ مرے، اس مقصد کے لیے جہانگیر ترین سے بہترین امیدوار کوئی نہیں تھا کیوں کہ ان کے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں درجنوں حمایتی موجود ہیں۔
لیکن سازشی نظریے کے مطابق جب وزیراعظم کو جب اس سازش کا علم ہوا تو انہوں نے شوگر سکینڈل کی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن پچھلے برس پیش کیا جانے والا یہ سازشی نظریہ اب عملی شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے جس کے بعد وزیراعظم کے قریبی ساتھی اسد عمر نے عمران خان کی جانب سے اسمبلی توڑنے کی دھمکی بھی دے دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button