کراچی میں PPP کیسے جیتی اور PMLN کیسے ہاری؟

شہر قائد کراچی کے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کی جیت کے بعد مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کی جانب سے دھاندلی کے الزامات تو لگائے گئے ہیں لیکن سیاسی تجزیہ کار ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی شکست کی بنیادی وجہ اسکی بدترین کارکردگی اور متنازعہ امیدوار کھڑا کرنا تھا جبکہ نواز لیگ کو زیادہ نقصان تحریک لبیک کی وجہ سے ہوا جس نے دائیں بازو کا بنیاد پرست ووٹ تقسیم کر دیا اور اور اس مفتاح اسماعیل معمولی مارجن سے شکست کھا گئے۔
کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 کے نتائج مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف نے دھاندلی کے الزامات عائد کر کے مسترد تو کر دیے ہیں لیکن ابھی تک وہ اپنے الزامات کی سپورٹ میں کوئی ایسا ثبوت نہیں لا سکیں جن سے دھاندلی ثابت ہو سکے۔ مسلم لیگ نون کی مرکزی قیادت کی جانب سے پیپلز پارٹی پر دھاندلی کے الزامات تو لگائے گے لیکن انکی نوعیت بیان نہیں کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے اس حلقے کے نتیجے کا اعلان بار بار ووٹوں کی گنتی کے بعد صبح 4 بجے کیا کیونکہ نون لیگ کے امیدوار مفتاح اسماعیل اور پیپلزپارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل کے ووٹوں کا مارجن بہت کم تھا۔ لیکن اسکے باوجود مفتاح اسماعیل نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست ڈال دی جسے ریٹرننگ آفیسر نے مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب سیاسی پنڈت اس حلقے کے نتائج کو پرکھ کر سیاسی حالات کا پیش منظر باندھ رہے ہیں۔ کراچی کے نتائج کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی تحریک لبیک کی مقبولیت حلقے میں مذید بڑھی جسکا سب سے زیادہ نقصان دائیں بازو کی قدامت پسند جماعت مسلم لیگ نواز کو ہوا۔ یسد رہے کہ ضمنی انتخاب میں اس حلقے سے تحریک لبیک کے امیدوار نذیر احمد کمالوی نے 11 ہزار 125 ووٹ حاصل کیے اور اپنی تیسری پوزیشن برقرار رکھی۔ اس سے پہلے سال 2018 کے الیکشن میں بھی ٹی ایل پی کے مفتی عابد مبارک حسین یہاں سے 23 ہزار 981 ووٹ حاصل کر کے تیسرے نمبر پر ہی رہے تھے۔
یہ نتائج ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تحریک لبیک کی جانب سے اسے کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواست زیر سماعت ہے۔ صرف کراچی ہی نہیں بلکہ رواں ماہ 10 اپریل کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 سیالکوٹ میں بھی تحریک لبیک کے امیدوار نے تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ تجزیہ کار سوال کرتے ہیں کہ ایک ایسی جماعت جسے ریاست کی جانب سے پرتشدد احتجاج، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی پاداش میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا گیا ہو، اس کی عوامی مقبولیت کے برقرار رہنے کا کیا مطلب اخذ کیا جائے؟
اس سوال پر معروف صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ریاست کے لیے کسی بھی جماعت کا ووٹ بینک ختم کرنا مشکل امر ہوتا ہے۔ ضیاء کے گیارہ سالہ دور میں پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک ختم کرنے کی سر توڑ کوشش کی گئی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
لہازا بہتر یہی ہے کہ ٹی ایل پی کو بھی مین سٹریم سیاست کرنے دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر تحریک لبیک کو دبایا گیا اور کالعدم ہی رکھا گیا تو یہ جماعت کوئی اور رنگ اختیار کر لے گی۔ اس لیے بہتر حل تو یہی ہے کہ اسے انتخابی سیاست میں سامل رہنے دیا جائے۔
دوسری جانب تجزیہ کار اور سیاسی مبصر نذیر لغاری بھی اس خیال سے اتفاق کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی جماعت کا ووٹ بینک موجود ہے تو اسے ختم کیوں کیا جائے۔ جہاں بہت سے نکتہ ہائے نظر موجود ہیں وہاں اس جماعت کا بھی حالات و واقعات پر اپنا نکتہ نظر موجود ہے۔ ان کے بقول اس جماعت کے نکتہ نظر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اور اسے غیر منطقی بھی کہا جاسکتا ہے لیکن کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس نکتہ نظر ہی کا گلہ دبانے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظریہ پہلے بھی کسی نہ کسی جماعت کی شکل میں برقرار تھا اور اب تحریک لبیک کی صورت میں پھر سامنے آیا ہے۔
اس علاقے سے حکومتی امیدوار امجد آفریدی کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایسا تو ہونا ہی تھا۔ تحریکِ انصاف کے فیصل واوڈا نے اسی حلقے سے 33 ماہ قبل اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر شہباز شریف کو 723 ووٹوں سے شکست دی تھی اور 35 ہزار 344 ووٹ حاصل کئے تھے۔ البتہ انتخابات سے قبل دہری شہریت چھوڑنے میں مبینہ تاخیر سے نااہلی سے بچنے کے لیے جماعت نے انہیں سینیٹر منتخب کرایا جس پر انہوں نے اس نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس سیٹ ہر ضمنی الیکشن میں تحریکِ انصاف کے امیدوار امجد اقبال آفریدی صرف آٹھ ہزار 922 ووٹ لے کر پانچویں نمبر پر رہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس حلقے میں مرکز میں حکمران جماعت نے کمزور اور متنازعہ امیدوار جسے کہ وہاں کے دونوں ایم پی اے بھی سپورٹ نہیں کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ حکومت کی مایوس ترین کارکردگی بھی اس بری طرح شکست کی وجہ بنی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ مجموعی معاشی اور سیاسی حالات کا اثر بھی ظاہر ہے ان نتائج پر نظر آیا اور مہنگائی اور بے روزگاری سمیت دیگر وجوہات کا اثر بھی واضح ہے۔
دوسری جانب نذیر لغاری کا کہنا تھا کہ جیسے تحریک انصاف ملک کے دیگر حلقوں میں ہاری ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر آج دوبارہ انتخابات ہوتے ہیں تو تحریکِ انصاف کے لیے نتائج سال 2002 کے عام انتخابات ہی کی طرح ہوں گے۔ جب پارٹی کو ملک بھر سے قومی اسمبلی کی محض ایک ہی نشست مل سکی تھی۔انہوں نے کہا کہ سال 2018 میں اس حلقے سے تحریک انصاف کو اس ہوا کے ووٹ ملے تھے جو اس وقت تحریک انصاف کے حق میں ملک بھر میں چلائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مفتاح اسماعیل کے بارے میں یہ تاثر قائم کیا گیا کہ وہ یہ الیکشن جیت رہے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کو اس مقابلے میں کہیں سمجھا نہیں جا رہا تھا۔ لیکن ان کے خیال میں حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ نذیر لغاری نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اس علاقے سے پانچ بار الیکشن جیت چکی ہے اور اس بار اسکی کامیابی میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔
یاد رہے کہ کراچی کے اس حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح محض 21 اعشاریہ 64 فی صد ریکارڈ کی گئی جب کہ اس کے مقابلے میں 10 اپریل کو قومی اسمبلی کے ڈسکہ سے حلقے میں یہ شرح 55 فی صد سے بلند تھی۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اس سے پہلے بھی کراچی میں ووٹوں کی شرح کم دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ یہ مسئلہ صرف اس حلقے ہی میں ہے یا مجموعی طور پر کراچی میں ہے کہ لوگوں نے شاید رمضان کی وجہ سے بہت کم حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کراچی کی صورتِ حال ایسی ہو چکی ہے کہ لوگوں نے سیاست میں دلچسپی لینا چھوڑ دی ہے تو یہ ایک قابل تشویش بات ہے۔ سہیل وڑائچ کے خیال میں ہمیں کراچی کے لوگوں کو سیاسی عمل میں شامل کرنا ہو گا کیوں کہ ایسا نہ کرنے کے نتائج بہت برے ہوتے ہیں۔ سیاسی عمل میں حصہ نہ لینے کا مطلب اپنی محرومیوں اور دکھوں کی وجہ سے لوگ ریاست اور حکومت سے ناراض ہوتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی ہماری مدد نہیں کر رہا۔ یہ خراب صورتِ حال ہے، اس کا مداوا ہونا چاہیے۔
ادھر نذیر لغاری کا کہنا ہے کہ جب کراچی میں بہت زیادہ ووٹ ڈالنے کا تاثر تھا اس وقت بھی بہت کم ہی لوگ ووٹ ڈالا کرتے تھے۔ جب کہ اس بار تو الیکشن میں گہما گہمی بھی بہت کم ہی پیدا کی جا سکی۔انہوں نے کہا کہ کراچی کو سیاسی عمل میں شامل نہیں کیا گیا بلکہ یہاں لوگوں کو انفرادی شخصیات کو دیوتا بنا کر انہیں اس کے عشق میں مبتلا رکھا گیا جس کی وجہ سے لوگ اب تک سیاسی عمل سے زیادہ بہرہ مند نہیں ہو سکے۔
