کرتار پور منصوبے میں اربوں کے ٹھیکے بغیر ٹینڈر دیے گئے

اربوں روپے کی مالیت کے کرتار پور راہداری منصوبے کو بغیر ٹینڈر من پسند ٹھیکیداروں کو دیے جانے کے غیر قانونی اقدام پر احتساب سے بچنے کے لیے حکومت وفاقی کابینہ کے ذریعے کرتارپور منصوبے کو پاکستان پبلک پروکیورمنٹ آرڈیننس کی شرائط سے استثنیٰ دینے جا رہی یے تاکہ کہ اس معاملے میں کسی قانونی کاروائی سے بچا جا سکے۔ سینئر صحافی اعزاز سید کے مطابق وزارت مذہبی امور نے اس کیس میں احتساب سے استثنی لینے کے لیے وفاقی کابینہ کو ایک سمری ارسال کی ہے۔ وزارت کا موقف ہے کہ اس اہم منصوبے کی جلد تعمیر مکمل کرنے کا ہدف حاصل کرنے کے لئے ٹھیکے دیتے ہوئے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس مجریہ 2002 کی شرائط کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جا سکا تھا۔ ان شرائط کے مطابق کوئی بھی ٹھیکہ دینے کے لئے شفافیت کو یقینی بنانا اور اس کام کے لئے اشتہار دے کر دلچسپی لینے والی تمام کمپنیوں کو برابر کے مواقع دینا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ اس منصوبے پر کم و بیش 8 ارب روپے کی لاگت آئی تھی مگر لاگت کی اصل رقم کا کسی کو علم نہیں۔ حیرت انگیز طور پر چونکہ اس معاملے پر سرکاری سطح پر کوئی منظوری نہیں لی گئی تھی اس لئے پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور قومی احتساب بیورو اس پر ایکشن لے سکتے ہیں لہازا قانون کے شکنجے سے بچنے کے لئے وزارت مذہبی امور نے وفاقی کابینہ کو ایک سمری کے ذریعے درخواست کی ہے کہ کرتارپور منصوبے کو پاکستان پبلک پروکیورمنٹ آرڈیننس کی شرائط سے استثنیٰ دے دیا جائے۔ یاد رہے کہ اس منصوبے کی منظوری وزیراعظم عمران خان نے دی تھی اور اس میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی شامل تھی لہذا کسی قانون اور ضابطے کی پاسداری کئے بغیر اس کی تعمیر کے ٹھیکے دیئے گئے۔
سینئر صحافی اعزاز سید کے مطابق نومبر 2019 میں کھلنے والی تاریخ کرتار پور راہداری کا مںصوبہ ن لیگ کے دور میں 2015 میں تجویز کیا گیا تھا تاہم اس وقت فوجی اسٹیبشلمنٹ نے اسے ملکی سلامتی کے منافی قرار دے کرنواز حکومت کو پیشرفت سے روک دیا تھا۔ بعد ازاں 18 اگست 2018 کو جب بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے عمران خان کی تقریب حلف برداری میں آرمی چیف قمر باجوہ کو جادو کی جپھی ڈالی تو اس متروک منصوبے کو وسیع تر قومی مفاد میں شروع کرنے کا نہ صرف اعلان کیا گیا بلکہ قواعد وضوابط کے برخلاف اربوں روپے خرچ کر دیئے گئے۔ ان اخراجات کو قانوی جواز دینے کے لئے اب وفاقی کابینہ خصوصی قانون پاس کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ اسی شہر میں قانون کے مطابق بننے والے ایک اورمیگا پراجیکٹ کی پاداش میں ن لیگ کے مرکزی رہنما احسن اقبال نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔
اعزاز سید کہتے ہیں کہ 18 اگست 2018 کو عمران خان کی بطور وزیر اعظم تقریبِ حلف برداری میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان ایوان صدر میں تاریخی معانقہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن عمل کے لئے تو خوشگوار تھا ہی مگر یہ بھارت میں مقیم سکھ برادری کے لئے غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ دنیا کو اس معانقے کے بعد نوجوت سنگھ سدھو کے ذریعے ہی پتہ چلا کہ پاکستان کے آرمی چیف پاکستان اور بھارت کے درمیان سکھ برادری کے پہلے گورو باباگورونانک کا گردوارہ بھارت کے سکھ یاتریوں کے لئے کھولنا چاہتے ہیں۔ یہ گردوارہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سیالکوٹ کے نزدیک کرتارپور کے مقام پر بابا گرونانک نے 1504 میں تعمیر کیا تھا۔
پاکستانی آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی طرف سے یہ پیشکش دراصل پاکستان اور بھارت کے درمیان بیک چینل بات چیت کے تناظر میں کی گئی تھی۔ اعزاز سید کے بقول ایسا ہر گز نہیں کہ کرتار پور راہداری منصوبہ آسمان سے اترا اور آنکھ جھپکتے ہی سب کچھ ہو گیا۔ دراصل اس منصوبے کی بازگشت سال 2013 میں پہلی بار سنی گئی تھی۔ اس وقت مقامی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی فنڈنگ بھی منظور کروالی گئی تھی۔ اس حوالے سے دسمبر 2015 میں ورلڈ بینک کی جانب سے کرتارپورسمیت پاکستان میں سکھ یاتریوں کے مذہبی مقامات کھول کر سیاحت کو فروغ دینے کے لئے 50 ملین ڈالر کے قرض کی منظوری بھی دی گئی تھی۔ طے پایا تھا کہ منصوبے پر کل 5 اعشاریہ 7 ارب روپے کی لاگت میں سے 91 فیصد ورلڈ بینک قرض کی مد میں ادا کرے گا جبکہ باقی 9 فیصد رقم پنجاب حکومت دے گی۔ منصوبے کو قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی یا ایکنک سے منظور کروا کے اس کی منظوری مرکزی ترقیاتی ورکنگ پروگرام سے لے کرتمام ضابطے پورے کرتے ہوئے اسے آگے بڑھایا گیا مگر اچانک منصوبے پر پیشرفت بند ہوگئی۔ اس حوالے سے اس وقت کے وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کہتے ہیں کہ ہم نے اسی منصوبے کے تناظرمیں کرتارپورکے ہی ایک مقامی سکھ سرداررمیش سنگھ اروڑا کو ممبرپنجاب اسمبلی بھی بنوایا تھا۔ احسن اقبال کا کہنا تھا ہم منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھا رہے تھے کہ مجھے ایک سیکیورٹی ادارے کے افسر نے ملاقات کرکے کہا کہ آپ اس منصوبےکا پیچھا کیوں کررہے ہیں یہ ملکی سلامتی کے خلاف ہے اس کے بعد یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔
لیگی حکومت کے خاتمے اورعام انتخابات کےبعد عمران خان کی تقریب حلف برداری میں آرمی چیف اور نوجوت سنگھ کی جپھی کیا لگی، ردی کی ٹوکری میں پھینکا گیا کرتارپور منصوبہ دوبارہ زندہ ہوگیا۔ مقامی سول انتظامیہ اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے کم و بیش ایک سال کی مدت میں 8 سو 75 ایکٹرکا رقبہ حاصل کیا جس کے 105 ایکٹر رقبے پر گردوارے کی خوبصورت عمارت تعمیر کی گئی جس میں میوزیم ، لنگر خانہ، ڈسپنسری اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔ جلد تعمیر مکمل کرنے کا ہدف حاصل کرنے کے لئے کام کی تعمیر کے دوران ٹھیکے دیتے ہوئے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس مجریہ 2002 کی شرائط کو ملحوظ خاطر نہ رکھا گیا۔ ان شرائط کے مطابق کوئی بھی ٹھیکہ دینے کے لئے شفافیت کو یقینی بنانا اور اس کام کے لئے اشتہار دے کر دلچسپی لینے والی تمام کمپنیوں کو برابر کے مواقع دینا ضروری ہے۔ اس منصوبے پر 8 ارب روپے کی لاگت آئی ہے مگر لاگت کی اصل رقم کا کسی کو علم نہیں۔ اس معاملے پر چونکہ کسی سے سرکاری سطح پر منظوری نہیں لی گئی تھی۔ اس لئے پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اس پرقانونی اعتراض اٹھا سکتی ہے لیکن اس قانونی اعتراض سے بچنے کے لئے وزارت مذہبی امور نے وفاقی کابینہ کو پچھلے دنوں ایک سمری ارسال کی ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ کرتارپور منصوبے کو پاکستان پبلک پروکیورمنٹ آرڈیننس کی شرائط سے استثنیٰ دیا جائے۔
یاد رہے کہ اس منصوبے کا افتتاح وزیراعظم عمران خان نے نومبر 2019 میں کیا تھا اب کرتارپور پر سکھ یاتریوں کی آمدورفت جاری ہے جبکہ اس منصوبے کے تحت مختلف کام بھی بانٹ لئے گئے ہیں۔ پاکستان سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق جنرل سیکرٹری اور رکن پنجاب اسمبلی سرداررمیش سنگھ کے مطابق گردوارے کے اندر سکھ یاتریوں کا استقبال، ان کی عبادات اوران کو سہولیات کی فراہمی پربندھک کمیٹی اور متروکہ وقف املاک کے ذمے ہے جبکہ سیکورٹی کا کام رینجرز اور گردوارہ کی دیکھ بھال کا کام ایک کمپنی کی ذمہ داری ہے۔
اعزاز سید حیرت کا اطہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ویسے یہ بات بھی کسی اتفاق سے کم نہیں کہ اسی علاقے میں نارووال اسپورٹس کمپلیکس تمام قواعد وضوابط پر عمل کر کے تعمیر کیاگیا مگر اس سب کے باوجود احسن اقبال پر نیب نے ریفرنس بنا دیا اور اسی علاقے میں ایک دوسرے منصوبے کرتارپور پر بالکل ہی الگ انداز اپنایا گیا ہے۔ کرتارپور منصوبے کے ٹھیکوں اور اخراجات وغیرہ پر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ بہرحال کابینہ کرے گی لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگریہ منصوبہ کسی سیاسی حکومت کے فیصلے کی روشنی میں تیار ہوتا تو کیا ملک میں احتساب اورلوٹ کھسوٹ کی رقوم واپس لانے کا دعویدار قومی احتساب بیورو اس منصوبے پر بدعنوانی کا کوئی کیس کھولنے سے باز آتا؟ پاکستان میں انصاف اور احتساب کی بس اتنی سی کہانی ہے کہ زور آور کو چھیڑا نہیں جاتا اور کمزور کو چھوڑا نہیں جاتا۔
