یووپی یونین کی چارج شیٹ کے بعد پاکستان شدیدمشکل میں

حکومت پاکستان کی جانب سے شدت پسند تنظیموں کے ساتھ معاہدوں اور صحافیوں کے پر ہونے والے مسلسل قاتلانہ حملوں کا نوٹس لیتے ہوئے یورپی یونین نے پاکستان کو دیے گئے جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنس- یعنی جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر نظرثانی کی قرارداد منظور کر لی ہے جس سے پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے چونکہ یہ پہلے سے ہی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود ہے۔
30 اپریل کو منظر عام پر آنے والی اس پیش رفت کے تحت یورپی یونین نے یہ اقدام پاکستان میں صحافیوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں پر آن لائن اور آف لائن بڑھتے ہوئے حملوں کی وجہ سے بھی اٹھایا ہے۔ یورپی پارلیمان میں پیش کی جانے والی اس قرارداد کے حق میں 662 اور مخالفت میں صرف تین ووٹ ڈالے گئے۔ پاکستان مخالف قرارداد میں پی ٹی آئی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے تشدد اور امتیازی سلوک کی “بلا امتیاز مذمت” کریں جبکہ پاکستان میں فرانس مخالف جذبات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے کمیشن اور یورپی بیرونی ایکشن سروس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شدت پسند تنظیموں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور صحافیوں پر ریاستی اداروں کی جانب سے ہونے والے قاتلانہ حملوں کی روشنی میں پاکستان کے جی ایس پی اسٹیٹس کی اہلیت کا فوری طور پر جائزہ لے اور اس بات پر بھی غور کرے کہ آیا اتنی معقول وجوہات ہیں کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد سے عارضی طور پر محروم کرنے کے لیے کارروائی شروع کی جا سکے اور جلد از جلد اس حوالے سے یورپی پارلیمنٹ کو بتایا جائے۔ واضح رہے کہ جی ایس پی پلس کے نتیجے میں پاکستان کو یورپی یونین کی 27 رکن ریاستوں میں ڈیوٹی فری رسائی دستیاب ہے۔ یورپی یونین کے لیے پاکستانی برآمدات کا حجم جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے قبل 2013 میں 4 ارب 53 کروڑ 80 لاکھ یورو تھا جو 2019 تک 65 فیصد اضافے کے بعد 7 ارب 49 کروڑ 20 لاکھ یورو ہوگیا تھا۔
یورپی یونین میں اس پاکستان مخالف الف قرارداد کو مشترکہ طور پر سویڈن سے تعلق رکھنے والے یورپی پارلیمنٹ کے رکن چارلی ویمرز نے پیش کیا جنہوں نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں توہین مذہب کے الزامات کے نتیجے میں پاکستان میں اقلیتی افراد کے قتل یا قید کے مختلف واقعات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے حال میں ہی میں ایک شدت پسند تنظیم کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے یورپ میں عسائیوں پر مسلمانوں کی جانب سے ہونے والے حملوں کا جواز پیش کیا ہے حالانکہ ایسے حملوں کا دفاع کوئی بھی مہذب شخص نہیں کر سکتا۔ پاکستان مخالف قرارداد میں نشاندہی کی گئی کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں آن لائن اور آف لائن توہین رسالت کے الزامات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور 1987 کے بعد سے اب تک اس حوالے سے سب سے زیادہ الزامات 2020 میں لگائے گئے، خن میں سے بہت سے الزامات میں انسانی حقوق کے کارکنان، صحافیوں، اور فنکاروں کے ساتھ ساتھ پسماندہ طبقے کو نشانہ بنایا گیا، قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان میں توہین رسالت کے قوانین کو ذاتی یا سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ مذہب، عقیدے، رائے اور اظہار رائے کی آزادی کے حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
قرار داد کے مطابق پاکستان میں صورتحال 2020 میں بگڑتی رہی کیونکہ حکومت منظم طریقے سے توہین رسالت کے قوانین نافذ کرتی رہی اور غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں ہونے والی زیادتیوں سے مذہبی اقلیتوں کو بچانے میں ناکام رہی جس کے نتیجے میں احمدیوں، اہل تشیع، ہندوؤں، عیسائیوں اور سکھوں سمیت مذہبی اقلیتوں کی ٹارگٹ کلنگ، توہین مذہب کے مقدمات، جبری تبدیلی مذہب اور نفرت آمیز تقاریر میں تیزی سے اضافہ ہوا جبکہ 2020 میں خصوصاً ہندو اور عیسائی برداری سمیت مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی خواتین اور بچوں کے اغوا، زبردستی قبول اسلام، عصمت دری اور جبری شادی کا خطرہ بھی برقرار رہا۔
یورپی یونین قرارداد کے متن میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کی بلاامتیاز مذمت کرے اور توہین رسالت کے قوانین کے ناجائز استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر، جامع اور ادارہ جاتی حفاظت کا طریقہ کار لاگو کرے، اس ضمن میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ حکومت اس بات کو لازمی قرار دے کہ مقدمہ درج کرنے سے قبل پولیس سپرنٹنڈنٹ کی سطح سے نیچے عہدے کا حامل کوئی بھی پولیس افسر الزامات کی تحقیقات نہیں کرسکتا۔ اس سلسلے میں صحافیوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں خصوصاؑ خواتین اور معاشرے کے پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد پر آن لائن اور آف لائن حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں ریاستی اداروں کی جانب سے صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات میں اغوا، جسمانی تشدد، غیر قانونی گرفتاری اور قتل جیسے سنگین کیسز بھی شامل ہیں۔ لہازا پاکستانی حکومت سے صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور مذہبی تنظیموں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھتے ہوئے قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے سلسلے میں فوری اور موثر تحقیقات کے حوالے سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس پروگرام کے تحت 2014 سے تجارتی ترجیحات کا فائدہ اٹھایا ہے جبکہ ملک کے لیے اس یکطرفہ تجارتی معاہدے سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد قابل غور ہیں، تاہم جی ایس پی پلس اسٹیٹس انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت کے وعدوں سمیت 27 بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق اور ان پر عمل درآمد کا تقاضا بھی کرتا ہے۔
پاکستان مخالف قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ 10 فروری 2020 کو پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حوالے سے اپنے تازہ ترین جائزے میں کمیشن نے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر متعدد خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا تھا جس میں خاص طور پر سزائے موت کے دائرہ کار کو محدود کرنے کے حوالے سے عمل درآمد نہ ہونے پر تشویس کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس قرارداد میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان تمام افراد کی سزاؤں کو تبدیل کرے جنہیں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاکہ انہیں منصفانہ ٹرائل کے حق کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ قرارداد میں بظاہر کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے حالیہ پرتشدد مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ آزادی اظہار رائے پر فرانسیسی اسکول ٹیچر پر دہشت گرد حملہ کیا گیا جس کے خلاف فرانسیسی حکام کی کارروائی کے ردعمل کے طور پر بنیاد پرست پاکستانی گروہوں کی جانب سے فرانسیسی حکام پر بار بار حملے کیے گئے اور حکومت پاکستان کے توہین رسالت کے حوالے سے حالیہ بیانات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا یے کہ یورپی پارلیمنٹ فرانس کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہروں کو ناقابل قبول سمجھتی ہے اور پاکستان میں فرانس مخالف جذبات پر ہم سخت تشویش کا شکار ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے فرانسیسی شہریوں اور کمپنیوں کو عارضی طور پر ملک چھوڑنا پڑا ہے۔
یاد رہے کہ یورپی یونین کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کو سنہ 2014 میں جی ایس پی پلس کا درجہ دیے جانے کے بعد پاکستان اور یورپی یونین کے ملکوں میں تجارت میں 64 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے اقتصادی سروے سال 2019-20 کے مطابق یورپی یونین پاکستان کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ اس سروے میں کہا گیا ہے کہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستانی مصنوعات کو یورپی یونین کے 27 ملکوں میں بغیر کسی ڈیوٹی کے رسائی حاصل ہے۔ یورپی یونین میں یہ سہولت میسر آنے کے بعد پاکستان کی برآمدات میں کئی سو کروڑ کا اضافہ ہوا۔ سنہ 2013-14 کے مالی سال میں پاکستان کی برآمدات 11,960.59 ملین ڈالر تھیں جو سنہ 2018-19 میں 14,158.29 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یورپی یونین کو پاکستان امریکہ سے دگنا مال فروخت کرتا ہے جبکہ چین کے مقابلے میں یہ تین گنا زیادہ ہے۔ لہذا پاکستان کے یورپین یونین سے تعلقات خراب ہونے کی صورت میں ملک کو بڑا معاشی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کا جی ایس پی کا درجہ ختم کیے جانے کی صورت میں ہونے والے نقصان بارے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار ایم ضیا الدین کا کہنا تھا کہ اس سے بہت زیادہ نقصان ہو گا جو موجودہ معاشی حالت میں برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ یورپی یونین اور امریکہ پاکستان کی درآمدات کی بڑی منڈیوں میں سے ہیں جن کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ تاہم پیپلز کا کہنا تھا کہ حکومت کے لیے یورپی یونین کا سب سے بڑا مطالبہ تسلیم کرنا ناممکن ہے جو کہ توہین رسالت کا قانون ختم کرنے کے حوالے سے ہے۔ اس لیے موجودہ حکومت اس معاملے پر ایک بڑی مشکل سے دوچار ہو چکی ہے کیوں کہ آگے کنواں ہے اور پیچھے کھائی ہے۔
