کیا ملک ریاض ریاست کے اندر ایک اور ریاست چلا رہے ہیں؟

بحریہ ٹاؤن کے طاقتور ارب پتی مالک ملک ریاض حسین کو ایک مرتبہ پھر زمینوں پر زبردستی قبضہ کے الزامات کا سامنا ہے۔
حالیہ دنوں پاکستانی سوشل میڈیا پر ڈھیروں ایسی ویڈیوز اور تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں پولیس اہلکار بڑی گاڑیوں اور بلڈوزروں کے ہمراہ ایک علاقے میں آپریشن کرنے والوں کے ساتھ موجود ہیں اور ڈھیروں عوام ان کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ان ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھی جانے والی مشینری زمین ہموار اور راستہ صاف کرتے نظر آ رہی ہے جبکہ عوام چیخ و پکار کرتے تھے اور بددعائیں دیتے سنائی دیتے ہیں۔ یہ ویڈیوز کراچی کے علاقے ملیر کی ہیں اور ان میں نظر آنے والی ہیوی مشینری اور اہلکار ارب پتی بلڈر ملک ریاض کی نجی ہاؤسنگ سکیم بحریہ ٹاؤن کراچی کے ملازم ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ بحریہ ٹاؤن کے اہلکار اپنی سوسائٹی کے پھیلاؤ اور راستہ بنانے کے لیے وہ زمین حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں چند پرانے گوٹھ آباد ہیں۔ دریں اثنا متاثرہ دیہات کے ایک رہائشی مراد گبول نے سندھ ہائی کورٹ میں اس ایکشن کے خلاف ایک درخواست بھی دائر کر دی ہے۔ درخواست کے مطابق بحریہ ٹاؤن والے انکی زمینوں پر ایک سڑک اور نکاسی آب کی لائن تعمیر کرنے کے خواہشمند ہیں جو گآوں سے گذرے گی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ نور محمد گبول گوٹھ 1920 اور 1922 سے آباد ہے، جو اس وقت وقت 100 گھروں پر مشتمل ہے۔ گاؤں میں ایک مسجد، ایک قبرستان، ایک عیدگاہ اور تین پرائمری سکول ہیں۔ گاؤں کی آبادی سات سو افراد پر مشتمل ہے جنھیں حکومت سندھ نے مالکانہ حقوق کی سند بھی جاری کر رکھی ہے۔
بحریہ ٹاؤن کے خلاف درخواست میں ہوم سیکریٹری، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی ملیر، ایس ایچ او گڈاپ اور بحریہ ٹاؤن کو فریق بنایا گیا ہے اور استدعا کی گئی ہے کہ گاؤں کو مسمار کرنے، جبری سڑک بنانے اور ڈرینج لائن گذارنے کو غیر قانونی عمل قرار دے کر روکا جائے اور گاؤں کے راستے کھولے جائیں جو بحریہ نے بلاک کر رکھے ہیں۔
اس معاملے پر ایڈووکیٹ کاظم حسین کا کہنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی 30 اپریل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے بحریہ ٹاؤن کی کارروائیوں کا نوٹس لیا ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ہدایت کی ہے کہ یہ کارروائیاں رکوائی جائیں اور انہیں رپورٹ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ انتخابات میں مصروف تھے تو ان کے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر یہ شکایات آرہی تھیں جس کا انہوں نے نوٹس لیا ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے ناانصافی کی ہے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئیے اور مقامی لوگوں سے انصاف ہونا چاہیے، اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے رقم کی ادائیگی کا حکم دیا ہے وہ رقم یہاں کے لوگوں کے فلاح و بہبود پر خرچ ہونی چاہیئے۔
دوسری جانب بحریہ ٹاؤن سے متاثرہ افراد اور سول سوسائٹی کی جانب سے ’انڈیجینیئس رائٹس الائنس‘ کے نام سے بنائی گئی تنظیم کے سرکردہ رکن حفیظ بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ریٹائرڈ کپیٹن کی سربراہی میں بحریہ ٹاؤن کے حکام بلڈوزروں سمیت نور محمد گبول گاؤں پر حملہ آور ہوئے اور عبداللہ گبول گاؤں میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی جس کے خلاف مقامی افراد نے سخت مزاحمت کی تھی۔حفیظ بلوچ کا کہنا تھا کہ کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے حکام سے ہونے والے تصادم میں درجن بھر مقامی لوگ زخمی ہو گئے۔ انکے دعوے کے مطابق بحریہ ٹاؤن حکام کی جانب سے ہادی بخش گبول گاؤں پر بھی دھاوا بولا گیا جس میں ’ریٹائرڈ کیپٹن‘ نے ان گاؤں کے رہائشیوں کو متنبہ کیا کہ بحریہ ٹاؤن ہر صورت میں یہ زمین لے کر رہیں گے کیونکہ انھیں راستہ بنانا ہے، بصورت دیگر انھیں متبادل زمین فراہم کی جائے۔ حفیظ بلوچ کا کہنا ہے کہ بحریہ کے حکام تیسرے روز بھی گبول، کلمتی اور جوکھیا کمیونٹی کی زمینوں پر قابض ہونے کی کوشش کرتے رہے اور لوگ مزاحمت کرتے رہے جن پر ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کی گئی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس پورے عمل میں پولیس نے بھی ان کا ہی ساتھ دیا اور اسی دوران نور محمد گبول کے بیٹے مراد گبول کو بھی حراست میں لے لیا گیا جنھوں نے تین سال قبل بحریہ ٹاؤن کے خلاف اپنی چار ایکڑ زمین کی ملکیت کے حوالے سے چلنے والے مقدمے میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی۔
دوسری جانب کراچی کی تاریخ پر متعدد کتابوں کے مصنف اور انڈیجینس رائٹس الائنس کے سرگرم رکن گل حسن کلمتی کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے اب کاٹھوڑ کی طرف بڑھنا شرو ع کر دیا ہے جہاں وہ فارم ہاؤس بنانا چاہتے ہیں۔ ایک طرف سے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سٹی آگے بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف بحریہ ٹاؤن بھی ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی ایک نرغے میں آگئی ہے۔’گل حسن کلمتی کے مطابق یہ زمین سرکاری ہے اور سرکار نے لیز ختم کر کے زمین ملیر ڈیویلپمینٹ اتھارٹی کو دے دی جنھوں نے کچھ برس قبل یہ زمین بحریہ ٹاؤن کے حوالے کردی۔ گل حسن کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے بحریہ ہاؤسنگ کے کیس میں واضح کیا تھا کہ وہ 16800 ایکڑ سے آگے نہیں بڑھیں گے تاہم سندھ حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ زمین کونسی ہے۔
گل حسن کلمتی کا دعویٰ ہے کہ اس وقت کاٹھوڑ کراچی میں 45 ہزار ایکڑ پر بحریہ ٹاؤن کا پھیلاؤ اور ہاؤسنگ جاری ہے۔
‘جام شورو کے چار دیھ میں بھی بحریہ ٹاؤن نے زمین حاصل کرلی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت الاٹ کردہ زمین کی ڈیمارکیشن کروائے تاکہ پتہ چلے کہ وہ زمین کون سی ہے۔ اس وقت تو بحریہ والے عدالت کے حکم کا فائدہ لے کر ہر کسی کو کہہ رہے ہیں کہ عدالت کے حکم پر انھیں زمین دی گئی۔ عدالت نے تو صرف 16800 ایکڑ کو قانونی قرار دیا جبکہ، یہ 45 ہزار تک قبضے میں لے چکے ہیں۔’
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بحریہ ٹاؤن کے پھیلاؤ سے متاثرہ گوٹھوں کے رہائشیوں نے ایسے مظاہرے کیے ہوں۔
کئی روز سے جاری ان واقعات کی ویڈیوز جب سوشل میڈیا پر آئیں تو صارفین نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ اور ان کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے اپنی ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ ہر کوئی ملک ریاض کے بارے میں خاموش کیوں ہے؟ میں نے قومی اسمبلی میں ان کے برطانوی سیٹلمینٹ کے بارے میں سوال کرنے کی کوشش کی ہے لیکن مجھے کبھی بولنے نہیں دیا گیا۔ اسی طرح سندھ میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے تین گاؤں پر حملے جاری ہیں لیکن انھیں میڈیا اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔’
عوامی ورکرز پارٹی سے منسلک سماجی کارکن اور محقق عمار رشید نے بھی سخت الفاظ میں بحریہ ٹاؤن کے مالک کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سیاسی جماعتیں اور میڈیا کی جانب سے اس شخص کی حرکتوں پر خاموشی اختیار کرنا انتہائی شرمناک ہے۔ریاستی مشینری کی مدد سے مقامی رہائشیوں کو بحریہ ٹاؤن کے لیے ہٹایا جا رہا ہے اور احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، اور دوسری جانب سندھ حکومت ایسا کرنے کی اجازت دے رہی ہے اور ان کے حامی خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔’
تاریخ دان اور سماجی کارکن ڈاکٹر عمار علی جان نے بھی اس حوالے سے متعدد ٹویٹس کی تھیں اور سوال اٹھایا تھا کہ کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ 249 کی تو بھرپور کوریج ہو رہی ہے لیکن ہزاروں مقامی رہائشیوں کو ہٹائے جانے کی کوئی خبر صرف اس لیے نہیں چل رہی تاکہ ملک ریاض کو خوش کیا جا سکے۔ عمار علی جان نے مزید لکھا: ’یہ ہے بحریہ ٹاؤن کی جمہوریت، ان کی جانب سے، صرف اپنے لیے۔‘
سوشل میڈیا پر شائع ویڈیوز میں واضح نظر آتا ہے کہ پولیس کی بھی چند گاڑیاں موجود ہیں جو مبینہ طور پر بحریہ ٹاؤن کے حکام کی مدد کر رہی ہیں، جس پر سماجی کارکن اسامہ خلجی نے پی پی پی کے چئیرپرسن بلاول بھٹو اور سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ ‘ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ سندھ پولیس بحریہ ٹاؤن کے لیے کام کر رہی ہے اور زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ان کی مدد کر رہی ہے۔’
سید علی آقا نامی ایک اور صارف نے بھی پی پی پی کو آڑے ہاتھ لیا اور تبصرے کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی پارٹی نے بحریہ ٹاؤن کو لوگوں کے گھر بلا خوف و خطر تباہ کرنے کی چھوٹ دی ہوئی ہے اور دوسری جانب سندھ کی حکومت خود غریبوں کے گھر تباہ کر رہی ہے حالانکہ عدالت نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔
