بھارت سے دوستی کرنا ہے تو باجوہ سیاسی جماعتیں ساتھ ملائیں


سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے نئے ایجنڈے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج جب جنرل باجوہ اسی موقف کا اعادہ کر رہے ہیں جس کی ماضی میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے وکالت کرکے اپنی حکومتیں گنوایئں تو بہتر ہوتا اگر اس تاریخی یوٹرن کی قیادت کے لیے انہی جماعتوں کو آگے آنے کا موقع دیا جاتا۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام صرف انہی جماعتوں کے اس موقف کو پذیرائی بخشیں گے۔ لیکن ایسا کرنے کی بجائے جنرل قمر باجوہ نے ”تزویراتی تعطل“ کے قومی بیانیے کی تشکیل کے لیے صحافیوں کے ایک گروپ کو اس موضوع پر لیکچر دینا بہتر سمجھا۔ لیکن انہیں سمجھنا چاہیئے کہ میڈیا کے اسطرح استعمال سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی توقع خام خیالی ہے۔
نجم سیٹھی فرائیڈے ٹائمز کے تازہ اداریے میں لکھتے ہیں کہ آرمی چیف، جنرل قمر باجوہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے قومی سلامتی کی تزویراتی جہت کا از سر نو تعین چاہتے ہیں۔ خاص طور پر جس کا تعلق بھارت اور کشمیر تنازع سے ہے، اور جو عشروں سے پاکستان کے قومی اہداف پر حاوی ہے۔ جنرل باجوہ کا کہنا ہے کہ نئے معاشی، سیاسی اور علاقائی حقائق کے پیش نظر ”تزویراتی تعطل“ درکار ہے۔ جنرل باجوہ نے گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والی نیشنل سکیورٹی کانفرنس میں بھی اپنے ان خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد گزشتہ ہفتے دو درجن سے زائد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ بڑے تنازعات حل کرنے کی ضرورت پر زور دیے بغیر بھارت کے ساتھ تعلقات معمول کی سطح پر لانے کی ضرورت ہے۔ سیٹھی کہتے ہیں کہ کسی کو بھی پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔ سمٹتی ہوئی دنیا کے ساتھ چلنے کا یہی طریقہ ہے۔ کوئی ملک بھی کسی دوسرے ملک کے ساتھ محض کچھ تنازعات کو جواز بنا کر مسلسل حالت جنگ اور ٹکراؤ کی کیفیت میں نہیں رہ سکتا۔ چاہے وہ دیرینہ حل طلب تنازعات کتنے ہی ”مرکزی“ نوعیت کے کیوں نہ ہوں۔ لیکن متعدد اہم وجوہ کی بنا پر پاکستان کے لیے اس ”اچھے مقصد“ کا حصول کہنے کو آسان، کرنے کو انتہائی مشکل ہے۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ گزشتہ 70 برسوں سے پاکستانی اسٹبلشمنٹ نے تقسیم ہند کے زخم، یعنی کشمیر کو ہرا رکھا ہے۔ اس نے بھارت کو اپنے ازلی دشمن کے طور پر پیش کیا جس کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم ہو ہی نہیں سکتے تاوقتیکہ کشمیر کا تنازع 1948 ء کی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں حل ہوجائے۔ اس مقصد کے لیے بھارت کے ساتھ چار مرتبہ جنگ کی۔ ناقدین کے مطابق ہماری فوج نے کشمیر کو بھارت کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے جہادی دستے بھی استعمال کیے ہیں، اگرچہ پاکستان اس کی تردید کرتا رہا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ان کوششوں کاپھل ملنا تو درکنار، ان کی پاکستان کی ریاست اور معاشرے کو بھاری قیمت چکانی پڑی۔ اس کوشش میں ہم آدھا ملک گنوا چکے۔ اس دوران ہم نے سیاچن کھو دیا۔ ہم نے بھارتی ریاست کو اشتعال دلائے رکھا جس نے ردعمل میں کشمیریوں کی دونسلوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے ہیں۔ صرف یہی نہیں، ہم نے ریاست کے محدود وسائل کا رخ عوامی فلاح کی بجائے دفاعی ضروریات کی طرف موڑ کر لاکھوں پاکستانیوں کو غربت زدہ زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا۔
سیٹھی کے مطابق ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ نے شہریوں کی جمہوری آزادی اور حقوق سلب کرنے کے لیے بار ہا آئین کو پامال کیا۔ مخصوص نظام تعلیم کے ذریعے یکے بعد دیگر ے نسلوں کو برین واش کرکے قومی نظریہ اور مقدس گائے کا مسخ شدہ تصور اُن کے ذہنوں میں راسخ کردیا۔ ہم نے جمہوری آئین کی بجائے سیاست کو ایسی تنک مزاج ڈیپ سٹیٹ کے ماتحت کردیا جو خود کو ہر قسم کے احتساب سے بالا تر سمجھتی ہے۔ سیٹھی سوال کرتے ہیں کہ ان گہری جڑیں رکھنے والے، روایتی معروضات کی موجودگی میں جنرل باجوہ مجوزہ یوٹرن لیتے ہوئے کس طرح راتوں رات مثبت نتائج کی توقع کرسکتے ہیں، خاص طو پر جب اُن کا اپنا اادارہ متعدد غیر آئینی اقدامات، ایک نااہل اور غیر مقبول حکومت کو سہارا دیے رکھنے اور بھاری عوامی تائیدرکھنے والی دومرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہو؟
سیٹھی کہتے ہیں کہ یہ دلیل بھی دی جا سکتی ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنی اپنی باری پر قومی سلامتی کے بیانیے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تاکہ بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے جائیں۔ دفاعی اخراجات میں کمی اور فلاحی منصوبوں پر زیادہ خرچ کرکے عوام کی حالت سدھاری جاسکے۔ لیکن اس سوچ کی پاداش میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے دونوں کو سزا دی اوران کی حکومتوں کو چلتا کردیا۔ آج جب جنرل باجوہ اسی موقف کا اعادہ کر رہے ہیں جس کی ان جماعتوں نے بہت دیر تک وکالت کی تھی تو بہتر ہوتا اگر اس تاریخی یوٹرن کی قیادت کے لیے انہی جماعتوں کو آگے آنے کا موقع دیا جاتا۔ یقین کرنا چاہیے کہ پاکستانی عوام صرف انہی جماعتوں کے اس موقف کو پذیرائی بخشیں گے۔ لیکن اس کی بجائے جنرل باجوہ نے ”تزویراتی تعطل“ کے قومی بیانیے کی تشکیل کے لیے صحافیوں کے گروپ کو لیکچر دینا بہتر سمجھا۔ میڈیا کے اس استعمال سے مطلوبہ نتائج کی توقع خام خیالی ہے۔ چاہے وہ برملا تسلیم نہ بھی کریں، مذکورہ گروپ میں موجود صحافیوں میں سے نصف کے قریب تو خود عشروں سے کی جانے والی برین واشنگ کا شکار ہیں۔ وہ بھارت کو قابل نفرت مسلم مخالف، پاکستان مخالف دائمی دشمن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ دشمن جس کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کیے ہی نہیں جاسکتے۔ گروپ میں شامل دیگر نصف بہتر سمجھتے اگر یہ تجویز منتخب اور قابل احتساب جماعتوں اور پارلیمانی اداروں کی طرف سے آتی، بجائے کہ اسے ایسی اسٹبلشمنٹ کی طرف سے پیش کیا گیا ہے جس کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ مسئلے کا حل نہیں، اس کا حصہ ہے۔
نجم سیٹھی کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کے مسئلے کی عکاسی اس کے واحد سیاسی شراکت دار کے رویے سے ملتی ہے۔ لیکن تحریک انصاف نہ تو اس بیانیے کو ہضم کرسکتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنی ذہنی صلاحیت ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ باعزت طریقے سے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مذکرات کرسکے۔ ہم جانتے ہیں کہ عمران خان نے اپنے بھارتی ہم منصب کے لیے کس قدر ذاتی سطح پر توہین آمیز لہجہ اپنا رکھا تھا۔ اور پھر وزیر اعظم کی رخصتی کی دعائیں کرنے والے پریشان حال، مشتعل پاکستانی ان کی بات کیسے سنیں گے؟ وہ کہتے ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے 6 اگست 2019 ء کو بی جے پی حکومت کی طرف سے آرٹیکل 370 اور35-A کی منسوخی پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے تعلقات کی بحالی کا دروازہ کھلا رکھا تھا۔ لیکن تحریک انصاف حکومت شاہ سے زیادہ شاہ کا دفادار بننے کی کوشش میں ایک قدم آگے بڑھ گئی۔ اس نے بھارت کے ساتھ تمام رابطے توڑ لیے اور تعلقات معمول پر لانے کے لیے ناممکن سی شرائط رکھ دیں۔ درحقیقت اس نے بعد میں تجارت کی بحالی کا موقع ضائع کردیا حالانکہ اس وقت ایسا کرنا قومی مفاد میں،اور ملک کی معاشی بحالی کے سود مند تھا۔
سیٹھی کے مطابق اب قابل بحث بات یہ ہے کہ کیا ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ ادارے کی سطح پر واقعی کشمیر کے ”پاکستان کی شہ رگ“ ہونے کے تصور سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہے؟ خاص طور پر جب اس کے لیے بے پناہ جانی اور مالی نقصان برداشت کیا گیا ہو؟ ہم جنرل پرویز مشرف کے بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے پیش کردہ ”چار نکاتی“فارمولے کا حشر یاد کرسکتے ہیں۔ بعد میں آنے والی فوجی قیادت اس فارمولے سے گریز کرتے ہوئے پرانی ڈگر پر چل نکلی تھی۔
سیٹھی کہتے ہیں کہ اب اگر اسٹیبلشمنٹ اپنی راہ تبدیل کرنا چاہتی ہے کیوں کہ اس کی روایتی سوچ قابل عمل نہیں رہی، تو اسے ریاست کے سفیداور سیاہ کا مالک بننے کی بجائے سول سوسائٹی اور عوام کے منتخب شدہ نمائندوں کو موقع دینا چاہیے تا کہ وہ جمہوری اور آئینی طریق کار استعمال کرتے ہوئے نام نہاد قومی سلامتی کی اس روایتی سوچ کو تبدیل کریں جو پاکستان کو ہمسایوں کے علاوہ اپنے عوام کے ساتھ بھی مسلسل حالت جنگ میں رکھتی ہے۔ اس سوچ کی بجائے اب ایسی فلاحی ریاست کا تصور ارزاں کیا جائے جس کے تمام ادارے آئینی حد کے اندر رہیں گے۔ ایک آزاد اور باہم متصل دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے جدید ریاستوں کا یہی طرز عمل ہے۔ سیٹھی کہتے ہیں کہ اگر پاکستانی عوام ہی جنرل قمر باجوہ کی تزویراتی تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں کیوں کہ یہ بات کسی مقبول عوامی قیادت کی طرف سے نہیں آرہی، تو ذرا تصور کریں کہ بھارت اور عالمی برداری کے لیے اس پر اعتبار کرنا کتنا مشکل ہو گا؟ اور اگر عالمی برداری نے اسے تزویراتی تبدیلی کی بجائے ایک صرف ایک سٹریٹجیک چال خیال کیا تو سمجھ لیں کہ اصل مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button