حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں تحریک لبیک پر اختلافات


کپتان حکومت اور فوجی اسٹیبلشمینٹ کے مابین تحریک لبیک پر عائد پابندی کے حوالے سے فوجی اور سویلین حکمرانوں کے مابین اختلافات سامنے آگئے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ جیسے وزیراعظم عمران خان اور فوجی قیادت اس معاملے پر ایک پیج پر نہیں ہیں۔
یہ تاثر شیخ رشید کے اس تازہ بیان سے ملتا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ تحریک لبیک کالعدم ہو چکی ہے اور حکومت کا اس پر عائد پابندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ لیکن گزشتہ ہفتے سینئر صحافیوں کے ایک گروپ سے آف دی ریکارڈ ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح طور پر کہا تھا کہ تحریک لبیک کو قومی سیاسی دھارے میں شامل رکھنے کے لیے اس پر عائد پابندی ختم کر دی جائے گی۔ ان کے اس ملاقات کے دوروں بعد تحریک لبیک نے قانون کے مطابق وزارت داخلہ میں خود پر عائد پابندی ختم کرنے کے لیے اپیل دائر کردی تھی جسکی سماعت کے لیے شیخ رشید نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ تاہم یہ کمیٹی بنائے جانے کے اگلے ہی روز 30 اپریل کو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے جیو نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں یہ پالیسی بیان داغ دیا کہ تحریک لبیک کالعدم ہوچکی ہے اور حکومت نے اسے تحلیل کرنے کا ارادہ بھی ترک نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی سے متعلق فیصلوں پر حکومت اور عمران خان دونوں ہی قائم ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی بڑی واضح ہدایت ہے کہ ٹی ایل پی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے جائے اور بالکل سرنڈر نہ کیا جائے۔ شیخ رشید کے بیان کے بعد حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کپتان حکومت تحریک لبیک پر پابندی لگائے جانے کے بعد اس کو تحلیل کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کے اعلان پر بھی قائم ہے اور اسی لیے اس جماعت کے سربراہ سعد رضوی کو بھی قانون کے مطابق اپنے خلاف درج مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یاد رہے کہ سعد رضوی کے خلاف اقدام قتل کے مقدمات درج ہیں اور وہ کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ حکومت کے ساتھ فرانس کے سفیر سے متعلق ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے بعد تحریک لبیک نے ملک گیر مظاہرے کیے تھے اور دھرنے دیے تھے۔ بعد ازاں چند پولیس والوں کی ہلاکت کے بعد تحریک لبیک پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ لیکن چند ہی روز بعد ٹی ایل پی کی گرفتار قیادت کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد قومی اسمبلی میں فرانس کی قرارداد کی بے دخلی پر بحث کیلئے قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی تھی جسے کپتان حکومت کا ایک بڑا یوٹرن قرار دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے ایسی افواہوں کا بازار گرم تھا کہ حکومت تحریک لبیک پر عائد کردہ پابندی ختم کرنے جا رہی ہے چونکہ یہ نواز لیگ کی روایتی حریف ہے اور اس کا ووٹ بینک توڑتی یے۔ یہی چورن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کو بھی بھیجا گیا تھا لیکن اب یوں لگتا ہے کہ وہ لبیک پر پابندی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انکے قریبی ذرائع کے مطابق عمران سمجھتے ہیں کہ کل کو دوبارہ اس تنظیم کو انہیں بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
دوسری جانب تحریک لبیک پر عائد پابندی کے خلاف دائر کردہ درخواست پر قانونی کارروائی کے لیے وزارت داخلہ میں ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہی وزارت داخلہ کا ایڈیشنل سیکرٹری عہدے کا افسر کرے گا جبکہ اس میں وزارت قانون کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی تین ہفتوں کے اندر اس درخواست پر فیصلہ کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو تجاویز دے گی۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک کی جانب سے 28 اپریل کو حکومتی پابندی کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درخواست دائر کی گئی تھی جسمیں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ حکومت کی طرف سے تحریک لبیک کو جو کہ ایک سیاسی جماعت ہے، اور الیکشن کمیشن میں بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہے، دہشت گرد تنظیموں میں شامل کرنا کسی طور پر بھی جائز نہیں ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق اس درخواست کی جانچ پڑتال سیکرٹری داخلہ نے کرنا تھی تاہم شیخ رشید نے اس ضمن میں مشاورتی اجلاس طلب کرلیا اور ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تاکہ ذمہ داری صرف انکی وزارت پر نہ آئے۔
اس تین رکنی کمیٹی کی تشکیل کے بعد سویلین اور فوجی اداروں سے تحریک لبیک کی سرگرمیوں سے متعلق رپورٹس طلب کی جائیں گی جن کی روشنی میں کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کرکے رپورٹ اعلی حکام کو پیش کرے گی۔ اس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ہی تحریک لبیک کو کالعدم جماعتوں کی فہرست میں برقرار رکھنے یا نکالنے کے بارے میں فیصلہ ہوگا۔ واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے پنجاب پولیس کے انسداد دہشت گردی محکمے کی رپورٹ پر تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے کے لیے وزارت داخلہ کو سفارش کی تھی۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے یعنی نیکٹا نے تحریک لیبک پاکستان کو 15 اپریل کو کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں کراچی کے ضمنی انتخاب میں تحریک لبیک کو ملنے والے ووٹوں کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ نتائج کے مطابق تحریک لبیک کے امیدوار نے اس انتخاب میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے امیدوار کے بعد تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں جب کہ کراچی کی اکثریتی مہاجر آبادی کی نمائندگی کرنے والی ایم کیو ایم اور پی ایس پی چوتھے اور پانچویں نمبر پر رہیں۔ لہٰذا وزارت داخلہ کے مشاورتی اجلاس میں کچھ قانونی ماہرین نے رائے دی کہ تحریک لبیک کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیے جانے کے بعد اب اسے سیاست میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنا بھی ضروری ہے۔ ابھی تک الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کا کوئی ریفرنس دائر نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ کراچی کے ضمنی انتخاب میں تحریک لبیک کے امیدوار نے اپنی جماعت کے نشان پر ہی الیکشن میں حصہ لیا ہے۔ دوسری جانب تحریک لبیک کے وکیل احسان علی عارف نے بتایا کہ پہلے کہا گیا تھا کہ انھیں وزارت داخلہ کے اجلاس میں طلب کیا جائے گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں ووٹ لینے والی جماعتوں میں چوتھے نمبر پر تھی جبکہ صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے بعد سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی تیسری جماعت تھی اس لیے عوام کی ایک نمائندہ جماعت پر اس طرح منہ اٹھا کر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ انتخابات سے ایک سال قبل الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہونے والی جماعت نے لاکھوں ووٹ حاصل کیے تو اس کو کیسے شدت پسند تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
حسن علی عارف کا کہنا تھا کہ فرانس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کے خلاف پرامن احتجاج کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنا ان کی جماعت کا جمہوری اور آئینی حق ہے اور انھیں اس حق سے کوئی محروم نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا کہ صرف پنجاب پولیس کی رپورٹ کی روشنی میں صوبائی حکومت نے ان کی جماعت کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کی۔ احسان علی عارف نے دعوی کیا کہ پنجاب پولیس کے علاوہ کسی بھی خفیہ ایجنسی نے ان کی جماعت کو کالعدم قرار دینے کے بارے میں کوئی رپورٹ پیش نہیں کی۔ تاہم اس دعوے کے برعکس وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اس جماعت کی طرف سے شدت پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بارے میں خفیہ اداروں نے متعدد رپورٹس دی ہیں جن کی روشنی میں اسے کالعدم قرار دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button