پاک امریکا تجارتی معاہدے میں اہم پیش رفت، اختلافات کم کرنے پر اتفاق

وزارت خارجہ طاہر اندرانی نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تجارتی معاہدے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اختلافات کم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرانی کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے، جن میں دونوں فریقوں نے اختلافات کم کرنے اور معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کے لیے مختلف امور پر ہم آہنگی پیدا کی۔

طاہر اندرابی نے بتایا کہ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 122 کے تحت عائد 10 فیصد عارضی امریکی ٹیرف رواں ماہ کے آخر میں ختم ہونے والا ہے، جبکہ دونوں ممالک عارضی تجارتی اقدامات کی جگہ ایک مستحکم اور طویل المدتی دوطرفہ تجارتی فریم ورک تشکیل دینے کے خواہاں ہیں۔

ترجمان کے مطابق پاکستان، امریکا کو اپنی برآمدات پر عائد ڈیوٹی میں مزید کمی کا خواہاں ہے۔ اس سلسلے میں ہونے والے مذاکرات ایک سال سے زائد عرصے سے جاری تجارتی اقدامات اور قانونی پیش رفت کے بعد ہوئے، جنہوں نے پاکستانی برآمدات پر ٹیرف کی صورتحال کو متعدد بار تبدیل کیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اپریل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے تحت پاکستانی برآمدات پر 29 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، تاہم بعد ازاں پاکستانی حکام اور آفس آف دی یونائیٹڈ سٹیٹس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو (USTR) کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں مجوزہ ٹیرف کم کر کے 19 فیصد کر دیا گیا۔

 

اسحاق ڈار کی برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

ترجمان نے مزید بتایا کہ سیکرٹری تجارت جواد پال کی قیادت میں پاکستانی وفد نے مذاکرات میں حصہ لیا، جبکہ دونوں فریقوں نے بات چیت کو مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے نمایاں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

Back to top button