کیا پاکستان ایبٹ آباد آپریشن بارے لاعلم تھا؟

مئی 2011 میں پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والے آپریشن کے وقت امریکی سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جان برینن کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوجی قیادت کو اس بارے میں کچھ پتا نہیں تھا اور انہیں جان بوجھ کر اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ ایبٹ آباد حملے سے قبل اسامہ بن لادن کا نک نیم دی پیسر (The Pacer) تھا اور آپریشن کا غیرسرکاری نام دی مکی مائوس آپریشن
(The Mickey Mouse Operation) تھا۔
جان برینن نے یہ تفصیلات اپنی کتاب ان ڈانٹڈ (Undaunted) میں درج کی ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان کا کوئی سینئر فوجی یا سویلین افسر اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کے بارے میں نہیں جانتا تھا مگریہ معلوم نہیں کہ اسامہ بن لادن کو نچلے لیول پر پاکستانیوں نے تحفظ دیا تھا یا نہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم افغانستان اور عراق میں ایسے حملے ہر رات کرتے تھے مگر وہاں کی فضائوں پر ہمارا قبضہ تھا، پاکستان میں صورتحال مختلف تھی، ہمارے ہیلی کاپٹرز نے ڈیڑھ سو میل تک پاکستان کے اندر جانا اور آپریشن مکمل کرکے واپس آنا تھا، فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان بھی خوش نہ ہوتا۔انہوں نے بتایا بی 2 بمبار طیارے سے حملہ اور لیزر گائیڈڈ میزائل حملے پر بھی غور کیا گیا، بی 2 بمبار سے حملے کا آپشن شروع میں ہی ختم کردیا گیا، ٹیکٹیکل ہتھیار کی مدد سے اسامہ بن لادن کو چہل قدمی کے دوران نشانہ بنانے پر بھی غور ہوا، میزائل حملے کی صورت میں پاکستان کے سخت ردعمل کے بارے میں بھی غور کیا گیا، بی 2 بمبار یا میزائل حملے کی صورت میں اسامہ بن لادن کے کمپائونڈ سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا، اسی طرح میزائل حملے میں یہ پتہ نہ چلتا کہ اسامہ بن لادن مارا گیا یا نہیں اور القاعدہ دعویٰ کرسکتی تھی کہ وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک اعلی سطحی امریکی اجلاس میں پاکستان کو اسامہ آپریشن کے بارے میں بتانے کی تجویز مسترد کردی گئی تھی، سب کی یہ رائے تھی کہ پاکستان مشترکہ آپریشن پر متفق ہوگا اور نہ ہی امریکہ کو اکیلے آپریشن کرنے دے گا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ معاونین اس نتیجے پر پہنچے کہ اپنے طور پر آپریشن ہی ایک قابل عمل منصوبہ ہے، اس کے بعد منصوبے کی جزئیات اور خدشات پر غور کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اوباما نے لڑائی کے خدشے کا اظہار کیا تھق جبکہ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اس منصوبے بارے سب سے زیادہ خوش تھیں۔
برینن نے لکھا ہے کہ میرے سکیورٹی کیریئر میں ایبٹ آباد آپریشن سب سے سخت، خفیہ اور کامیاب آپریشن ہے۔ انہوں نے بتایا اس سے قبل جب لیون پنیٹا نے بتایا کہ سی آئی اے نے اسامہ بن لادن کے ایلچی کی رہائشگاہ کا پتہ چلا لیا ہے تو صدر اوباما نے کہا کہ تم نے بہترین کام کیا لیون، اپنے ساتھیوں سے کہہ دیں، اس پر گہری نظر رکھیں،اس کے بعد فروری کے آخر تک خفیہ معلومات کا حصول کیا جاتا رہا اور پلاننگ کو تیز کردیا گیا، 4 مارچ 2011 کے پرنسپلز کمیٹی اجلاس میں سی آئی اے کی جانب سے ایبٹ آباد کمپائونڈ کا 4 فٹ کا ماڈل پیش کیا گیا، یکم مئی کو ایبٹ آباد آپریشن ہونے تک نیشنل سکیورٹی کے 17 اجلاس ہوئے، ایبٹ آباد آپریشن کے وقت کا تعین اچھے موسم اور اندھیرے پر منحصر تھا اور فیصلہ کیا گیا کہ یہ آپریشن اس وقت ہو جب چاند کی روشنی کم سے کم ہو۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے مزاحمت ہونے کی صورت میں ہنگامی منصوبہ بھی بنایا گیا،جب پوچھا گیا کہ آپریشن کرنے کیلئے کتنا وقت درکار ہے تو بتایا گیا کہ پہلے ٹیم بنائی جائے گی اور پھر ڈریس ریہرسل ہوگی، اس میں 3 ہفتے لگ سکتے ہیں، تب یہ خیال کیا جارہا تھا کہ پاکستانی سکیورٹی اہلکار حملہ آور ٹیم کو آسانی سے واپس نہیں آنے دیں گے اور اس صورتحال میں سفارتی رابطوں کی تجویز پیش کی گئی، اسی طرح حملہ آور امریکی ٹیم کے پکڑنے جانے کا خطرہ بھی تھا۔ چنانچہ صدر اوباما نے دریافت کیا کہ پاکستان کیسا ردعمل دے گا؟ کیا وہ افغانستان کیلئے سپلائی بند کردے گا یا حقانی نیٹ ورک پر کنٹرول ختم کردے گا؟ برینن نے بتایا کہ خیال کیا جارہا تھا کہ آپریشن کو کھلے عام قبول کیا جائے گا مگر ہم کس وقت ایسا کرینگے اس پر غور کیا جارہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آخری بات یہ تھی کہ اگرمارا جانے والا شخص اسامہ بن لادن ہی ہو اور سویلین ہلاکتیں نہ ہوں تو پاکستان سے تعلقات پر پڑنے والے اثرات کو بھی زائل کیا جاسکتا ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ وہ امریکی سفارت خانے اور قونصل خانوں کی سکیورٹی کا پلان بھی چاہتے ہیں۔ اور پھر صدر نے آپریشن کی منظوری دیدی، آپریشن کے وقت امریکہ میں دن کے ساڑھے 12 اور پاکستان میں رات کے ساڑھے 3 بجے تھے۔ برینن نے لکھا ہے کہ اس روز ہمیں بتایا گیا کہ ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد کمپائونڈ پہنچے والے ہیں، ہم سب نے آپریشن دیکھا مگر ہمیں مکمل سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ہورہا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ہم سب لوگ خاموشی سے آپریشن دیکھ رہے تھے۔ اسی دوران وائٹ ہائوس کا چیف فوٹوگرافر پیٹے سوزا آگیا اور اس نے ہم سب کی تصویر بنالی جو بعد میں بہت وائرل ہوئی، برینن کے مطابق جنرل ویب کو 3 بج کر 50 منٹ پر پیغام موصول ہوا کہ اسامہ بن لادن مارا گیا مگر اس پر بہت خوشی نہیں منائی گئی کیونکہ سب جانتے تھے کہ جب تک آپریشن میں شریک ٹیم واپس افغانستان نہیں پہنچ جاتی، اس وقت تک آپریشن کو کامیاب نہیں کہا جاسکتا، امریکی ٹیم جب ہیلی کاپٹر کو تباہ کرنے کے بعد واپس روانہ ہونے والی تھی تو ہمیں بتایا گیا کہ پاکستانی ائیرفورس اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ایبٹ آباد میں کچھ غیر معمولی ہورہا ہے اور پاکستان نے کچھ طیارے بھی فضا میں بھیج دیے ہیں۔ جب امریکی ٹیم واپس افغانستان پہنچ گئی تو سب سے پہلے رات 8 بج کر 2 منٹ پر مائیک ملن نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو فون پر ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں بتایا اور وضاحت پیش کی۔
برینن نے بتایا کہ سعودی شہزادہ محمد کو اطلاع دینا میری ذمہ داری تھی، جب میں نے شہزادہ محمد کو فون کیا اور بتایا کہ اسامہ بن لادن کو مار دیا گیا تو شہزادہ محمد نے کہا مبارک ہو اور وہ ٹیم کیسی ہے جس نے آپریشن کیا، میں نے بتایا کہ وہ بھی خیریت سے ہے، اس کے بعد شہزادہ محمد کو اسامہ بن لادن کی لاش حوالے کرنے کی بھی پیش کش کی گئی مگر شہزادہ محمد نے اسے لینے سے انکار کردیا۔
