کیا کپتان کو فوج سے اپنی حکومت گرانے کا کوئی خطرہ ہے؟

وزیر اعظم عمران خان کچھ عرصے سے مسلسل یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ اپوزیشن فوج کو میری حکومت گرانے کی دعوت دے رہی ہے، اپنے تازہ ترین بیان میں تو وزیراعظم کا الزام کچھ یوں تھا کہ خود کو ڈیموکریٹک موومنٹ کہنے والے فوج کو کہہ رہے ہیں کہ میری حکومت گرا دو۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی فوج کو عمران خان حکومت بے دخل کرنے کے لیے نہیں کہا۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر دیکھا جائے تو عمران خان کا یہ الزام صرف اپوزیشن پر نہیں، بلکہ فوج پر بھی یے کہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہو رہی ہے، فوج پر سیاست میں ملوث ہونے کا الزام اپوزیشن تو آئے دن عائد کرتی ہے، لیکن جب وزیر اعظم ایسی بات کر دیں تو پھر اس کی اہمیت اور حیثیت بڑھ جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کہیں ایسا تو نہیں کہ وزیر اعظم حکومتی ناکامیوں، اسکینڈلز، سیاسی بے وفائیوں اور اپوزیشن کی فوجی قیادت سے ڈیل کی خبروں سے اکتا چکے ہیں اور اب حفظ ماتقدم کے طور پر اپنی ممکنہ فراغت کا مدعا فوج پر ڈال کر سیاسی شہید بننے کی تیاری کر رہے ہیں؟
یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا عمران خان سوچ سمجھ کر ایسے بیانات دے رہے ہیں یا انکی زبان بالکل اسی طرح پھسل رہی ہے جیسے اس سے پہلے ایران یا امریکہ میں پھسل گئی تھی؟ یاد رہے کہ ایران میں جب وزیراعظم کی زبان پھسلی تو یہ جملے سننے کو ملے کہ ”پاکستان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔“ اس طرح امریکہ میں عمران خان کی طرف سے یہ بات سننے کو ملی کہ ”پاکستان نے طالبان اور القاعدہ کو پیدا کیا اور ان کی تربیت کی۔“
ناقدین شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ پھسلنے والی زبان لاڈلے وزیراعظم عمران خان کی تھی، کیونکہ اگر یہ بات مسلم نواز یا پیپلز پارٹی کے مرکزی قائدین کرتے، تو ان کی زبان تو حلق سے ہی کھینچی جا چکی ہوتی اور انکے خلاف ملک دشمنی اور غداری کے مقدمات درج ہوچکے ہوتے۔
دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں وزیراعظم جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کے ایک منصوبے کے تحت تو یہ بیان نہیں دے رہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اگر تو وہ شعوری حیثیت میں ایسے بیان دے رہے ہیں تو پھر یقین جان لیجیے کہ وہ ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف ان کا نشانہ اپوزیشن ہے جبکہ دوسری طرف وہ اپنے حامیوں، ساتھیوں اور مددگاروں کو ہوشیار کر رہے ہیں کہ فوج ان کا تختہ الٹ سکتی ہے، وہ پہلے سے ان کو سمجھا رہے ہیں کہ اگر کل کلاں کو کچھ ایسا ہو تو اسے فوج اور اپوزیشن کا گٹھ جوڑ یا ملی بھگت سمجھا جائے۔
لیکن سیاسی تجزیہ کار سوال کرتے ہیں کہ آخر عمران کو بزور طاقت اقتدار میں لانے والی فوجی اسٹیبلشمینٹ اپنی ہی حکومت کو کیوں گرائے گی خصوصا جبکہ وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر ہے اور اپنے تمام مقاصد حاصل کر رہی ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ عمران کو حکومت میں لانے کا بنیادی مقصد باقی سیاسی جماعتوں کی منجی ٹھوکنا تھا جو کہ بڑی کامیابی سے پورا ہو رہا ہے۔ لہذا کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ اسٹیبلشمنٹ اس موقع پر عمران خان کا اقتدار ختم کرنے کا کوئی منصوبہ تیار کرے۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جب گڈمڈ سیاسی نظام اور اس میں غیر سیاسی و غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت کی بات کی جاتی ہے تو پھر اس گناہ میں سیاسی جماعتیں بھی برابر کی شریک ہیں، بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی حد نگاہ راولپنڈی سے آگے جاتی ہی نہیں، موجودہ سیاسی قیادت نے خود کو دھند کا عادی بنا لیا ہے، اب سیاسی فکر، نظریہ اور یہاں تک کہ سیاسی منثور بھی جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار پر قربان کیا جاتا رہا ہے۔ اب بحث مباحثے، عوام کے بھلے اور ملک کے مفادات کی بات بھیباقتدار کی کرسی کے گرد گھوم کر ختم ہوجاتی ہے۔ سیاست دانوں کی دوربینیں پنڈی کینٹ سے کچھ فاصلے پر لگی ہوئی ہیں، یہاں اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کس فرسٹریشن کا شکار ہو کر ایسی بیان بازی کرتے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ اندر سے خوفزدہ ہیں؟ کیا ادارے اب ان کی پشت پناہی سے گریز کر رہے ہیں اور اب ان کے سر پر پنڈی بوائز کا دست شفقت پہلے جیسا نہیں رہا؟ سوال یہ بھی یے کہ کیا عمران کے اپنے رفیق ان کے رقیب بن چکے ہیں جس سے انکے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا جہانگیر ترین کی وجہ سے کپتان کی جماعت میں کوئی بڑی دراڑ پڑنے والی ہے؟ کیا عمران کا یہ خدشہ درست یے کہ ان کے وفادار ساتھی سچ مچ ناقابل اعتبار ساتھی بن چکے ہیں اور انکی حکومت کی ناقص کارکردگی انکا اقتدار دفن کرنے کے لیے گڑھے کھود رہی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا انہیں واقعی کوئی الٹیمیٹم دیا جا چکا ہے؟ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا وزیر اعظم روز کی ناکامیوں، اسکینڈلز، سیاسی بے وفائیوں اور اپوزیشن کی فوجی قیادت سے ڈیل کی خبروں سے اکتا چکے ہیں اور اب حفظ ماتقدم کے طور پر اپنی ممکنہ فراغت کا مدعا فوج پر ڈال کر سیاسی شہید بننے کی تیاری کر رہے ہیں؟

Back to top button