کیا PTM کو مذاکرات کی دعوت اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے دی گئی؟


وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے پشتون تحفظ موومنٹ یا کو مل بیٹھ کر تمام متنازع امور سے متعلق مذاکرات کی دعوت تو دے دی اور پی ٹی ایم نے اسے قبول بھی کرلیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس حکومتی آفر کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل ہے یا نہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر پی ٹی ایم کو اس پیشکش کے پیچھے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی آشیر نہیں ہے تو پھر اول تو مذاکرات ہوں گے ہی نہیں اور اگر ہو بھی گئے تو کسی صورت کامیاب نہیں ہوسکتے کیونکہ ماضی میں بارہا مقتدر حلقوں کی جانب سے نہ صرف کھلم کھلا پی ٹی ایم سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا جاچکا ہے بلکہ ان کی قیادت کو بھی جیلوں میں ڈالا جاتا رہا ہے۔
اپنے ایک بیان میں پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وہ اور پی ٹی ایم رہنما صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمیں اجتماعی طور پر صوبے کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پختون قوم ایک محب وطن قوم ہے اور اپنے ملک کے دفاع میں اپنا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ حکومت کی جانب سے اس اچانک مذاکرات کی دعوت کی وجہ پرویز خٹک نے بیان نہیں کی لیکن قیاس کیا جارہا ہے کہ شاید ملکی حالات نے انہیں اس جانب پیش رفت پر مجبور کیا ہے۔ اس پیشکش کے بعد یہ اہم ترین سوال اٹھایا جار ہا ہے کہ آیا پی ٹی ایم سے مذاکرات کے حوالےسے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا اس لئے ضروری ہے کیونکہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی ایم کو بھارت اور افغانستان کی پروردہ قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی پالیسی کا اعلان کر رکھا ہے۔ پی ٹی ایم کے دو اراکین قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ سمیت تحریک کے روح رواں منظور پشتین کو وقتا فوقتا جیلوں میں بھی ڈالا گیا ہے جبکہ پی ٹی ایم کے کئی وابستگان کو ماورائے عدالت بھی قتل کیا گیا ہے۔ پی ٹی ایم اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین فاٹا علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے حوالے سے بھی اختلافات ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پی ٹی ایم کو ماضی میں فوج نے قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف بطور سٹریٹجک اثاثہ استعمال کیا لیکن اب یہ گروہ اپنے بنانے والوں کو ہی للکار رہا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان ماضی میں پی ٹی ایم کے مطالبات کی حمایت کرچکے ہیں تاہم اقتدرا میں آنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی حد تک خاموش نظر آتے تھے۔ وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے پی ٹی ایم کو مذاکرات کی دعوت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کپتان نے سیاسی مسائل سے چھٹکارا پانے کے لئے اپنے تئیں یہ قدم اٹھایا ہے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں اگراس میں اسٹیبلشمنٹ کی مرضی شامل ہوتی تو پھر جی ایچ کیو یا آئی ایس پی آر کے فورم سے ان مذاکرات کی دعوت دی جاتی۔ لہذا یہ پیشکش حکومت کی جانب سے محض وقت گزاری کا بہانہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر نہ تو پی ٹی ایم سے مذاکرات ہوسکتے ہیں نہ ہی ان کی کامیابی کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔
پرویز خٹک نے پی ٹی ایم کو مذاکارت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سابق فاٹا کے عوام کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ان اضلاع کو صوبے میں ضم کر دیا گیا تھا۔ ان اضلاع کے عوام تعلیم، صحت کی بنیادی سہولیات اور مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کے سلسلے میں باقی ملک سے پسماندہ تھے، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ان کی ترقی کے لیے سیاسی محاذ آرائی کی بجائے اجتماعی طور پر کام کیا جائے۔ پرویز خٹک نے انہوں نے پی ٹی ایم کی قیادت کو واضح الفاظ میں دعوت دی کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور اپنے تحفظات بیان کریں تاکہ ان پر تبادلہ خیال کرکے انہیں دور کیا جا سکے۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ملک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے اور عوام کو عالمی وبائی بیماری کرونا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس نے نہ صرف ملکی معیشت بلکہ پاکستان کے لوگوں کی زندگیوں کو بھی تباہ کر دیا ہے۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اس وائرس کے تیزی سے پھیلنے سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے اور ملک میں خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا میں سیاسی عدم استحکام لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ کرے گا۔
دوسری جانب پی ٹی ایم رہنما اور ایم این اے محسن داوڑ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے حکومتی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی ایم اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں اور ہم ہمیشہ اس کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ہم لوگ ماضی میں اس طرح کی کوششوں کے ناکام ہونے کے بارے میں بھی جانتے ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل مارچ 2019 میں بھی حکومت نے پی ٹی ایم کے ساتھ مذاکرات کا اعلان کیا تھا لیکن بات چیت کچھ زیادہ نہیں چل پائی تھی، کیونکہ پی ٹی ایم مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی حکومتی ٹیم کے اختیارات سے مطمئن نہیں تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button