کیا TLP کو پالنے والے قوم سے معافی مانگیں گے؟


ملک کے گلی کوچے، بازار، سڑکیں، چوک اور چوراہے فسادات کی آگ میں لپٹ جانے کے بعد ریاست نے تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا فیصلہ تو کر لیا ہے لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا اس شدت پسند مذہبی تنظیم کو بنانے اور پھر پال پوس کر پروان چڑھانے والے ریاستی ادارے اپنے اس پالیسی پر قوم سے معافی مانگتے ہوئے اسے مکمل طور پر ترک کریں گے یا نہیں؟
یاد رہے کہ گستاخانہ خاکوں کا معاملہ سمندر پار فرانس میں وقوع پزیر ہوا لیکن فتنہ انگیزی اور خون ریزی کا بازار پاکستان میں گرم ہوا۔ یوں تحریک لبیک کے بلوائیوں کے ہاتھوں مسافر رل گئے، مریض ایمبولینسوں میں دم توڑ گئے۔ جاں باز پولیس والے بلوائیوں کے ہاتھوں شہید و زخمی ہو گئے۔ سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیاں نذر آتش کی گئیں۔ اربوں کی املاک برباد ہو گئیں۔ قصہ مختصر کہ سعد رضوی کی گرفتاری کے چند گھنٹوں کے اندر پورا ملک جام ہو گیا۔ لوگ بلوائیوں کے رحم و کرم پر تھے۔ دفعتاً کونے کھدروں سے ڈنڈا بردار مولوی نکل آئے اور مقدس ہستیوں کے نام پر جو سامنے آیا اسے دھو ڈالا۔ اس دوران ریاست اور ریاست کی رٹ ستو پی کے سوتی رہی۔ الیکٹرانک میڈیا کسی غیرمرئی اور خلائی طاقت کے اشارے پر چپ سادھے رہا۔
یاد رہے کہ نواز شریف کے دور حکومت میں تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے کی لمحہ بہ لمحہ صورت حال اور بلوائیوں کی مار دھاڑ اور لوٹ مار کے سفاک مناظر براہ راست ٹی وی چینلز پر نشر کرنے کے احکامات جاری ہوتے تھے کیونکہ تب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ تحریک کے لبیک کی کارروائیوں سے فیضیاب ہو رہی تھی اور اپنا حکومت مخالف ایجنڈا آگے بڑھا رہی تھی۔ لیکن اب کپتان کے ہائبرڈ نظام حکومت کے دوران سب کچھ لایئو دکھانے والا ”غلام“ مین سٹریم میڈیا اس بار بھیگی بلی بنا ہوا ہے اور تحریک لبیک پر پابندی کی توجیہات بیان کر رہا ہے۔
چند روز پہلے جب وزیراعظم عمران خان نے تحریک لبیک کے ساتھ فرانس کے سفیر کو بے دخل کرنے کے معاہدے سے یوٹرن لیتے ہوئے سعد رضوی کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے تو ردعمل میں حالات قابو سے باہر ہوگے۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ہاہا کار مچی تو مین سٹریم آزاد میڈیا جرأت کر کے صرف اتنا بتا سکا کہ ایک مذہبی جماعت کے احتجاجی مظاہروں کی ،وجہ سے ہر شہر میں بڑی بڑی شاہراہیں بند ہیں اور مسافروں کو منزل مقصود پر پہنچنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ یہ سب دنگا فساد، مار دھاڑ، جلاؤ گھیراؤ، شر انگیزی اور خون ریزی کچھ مذہبی جنونی اور ان کے ہرکارے عشق رسولﷺ، ناموس مصطفیٰﷺ اور تحفظ ختم نبوت کے مقدس نام پر کر رہے تھے۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان مذہبی شدت پسندوں کو اسلام کے نام پر تمام وسائل مہیا کر کے پال پوس کر قریہ قریہ، محلہ محلہ اور گلی گلی آباد کر نے والی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی آنکھیں تب کھلیں جب بلوائیوں کے ہاتھوں بے شمار پولیس والوں کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔ اس سے پہلے ریاست اسلام آباد اور پنڈی کے درمیان آنیوں جانیوں میں مصروف رہی اور ملک بے یقینی اور افراتفری کی بھینٹ چڑھتا رہا۔ معاملات ہاتھ سے نکلتے دکھائی دیے تو ان بلوائیوں کو پال پوس کر بڑا کرنے والی ریاست نے مجبوری میں یہ فیصلہ کیا کہ اب اس ”سٹریٹجک اثاثے“ کو بھی لگام دینے کا ووٹ آ گیا ہے۔ چنانچہ تحریک لبیک پر فوری طور پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ کل کو اگر نون لیگ یا پی پی پی کی کسی حکومت کیخلاف ان بلوائہوں کی دوبارہ ضرورت پڑی تو وقت و حالات کو دیکھتے ہوئے کسی نئی تنظیم کو نئے مذہبی نعرے کے ساتھ میدان میں اتار دیا جائے گا۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو اسٹیبلشمنٹ کی مکمل آشیرباد حاصل نہیں ہے کیونکہ اس نے سعد رضوی کی لانچنگ مہم کی اجازت خود ڈی تھی تا کہ اپنے بگڑتے ہوئے ”لاڈلے“ کو ذرا سا دھمکایا جا سکے۔ لیکن جب مولوی سعد رضوی نے سیدھا حکومت کو لات مارنے کی کوشش کی تو کپتان نے بھی آخری حد تک جاتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ مقدس ہستیوں کے کے نام پر بلوہ کرنے والوں کو نہ تو فیض آباد میں اکٹھا ہونے کی اجازت ملی ہے اور نہ ہی انہیں نوٹوں سے فیضیاب کیا جا رہا ہے جیسا کہ نواز دور میں ہوا تھا۔
بدلے ہوئے حالات میں حکومتی حلقوں کا دعوی ہے کہ پاکستانی فوجی قیادت نے حکومت کی جانب سے تحریک لبیک پر پابندی لگانے کے فیصلے کی مکمل تائید کی ہے۔ یعنی بھائی لوگوں نے بھی ایف اے ٹی ایف کے دباو کے پیش نظر بغیر کسی اگر، مگر اور چوں چراں اس فیصلے کی مکمل تائید کی ہے۔ ظاہر ہے موجودہ ہائبرڈ نظام حکومت میں تحریک لبیک پر کے پابندی فیصلے کے ساتھ ہر محب وطن اور ہوش مند پاکستانی ریاست کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔ تاہم حکومت کو پابندی کے اس فیصلے کے بعد اپنی خارجہ اور داخلہ پالیسی کی مکمل ناکامی کا اعتراف کر کے پوری قوم سے معافی بھی مانگنی چاہیے۔ یہ وہی ریاست ہے جس نے اسی کی دہائی میں ساری دنیا سے دہشت گرد اکٹھے کر کے انہیں مجاہدین کا لقب دے کر افغان جنگ میں جھونک کر ڈالرز اینٹھنے جیسے گھناوٴنے جرم کا ارتکاب کیا تھا جس پر اسے قوم سے معافی مانگنی چاہیئے۔ پاکستانی ریاست کو نائن الیون کے واقعے کے بعد انہی مجاہدین کو دہشت گرد بنا کر امریکہ کے حوالے کر کے دوبارہ ڈالرز اینٹھنے پر بھی قوم سے معافی مانگنی چاہیئے۔
پی پی کو کچلنے کے لیے ایم کیو ایم جیسی لسانی دہشت گرد تنظیم بنا کر ہزاروں شہریوں کے قتل، بوری بند لاشوں، اور ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر کو فروغ دینے پر بھی ریاست پاکستان کو عوام سے معافی مانگنی چاہیئے۔ ریاست کو علامہ خادم حسین رضوی اور الطاف حسین جیسے شدت پسندوں کو ریاستی وسائل پر بنانے اور پروان چڑھانے جیسے اقدام پر بھی قوم سے معافی مانگنا ہوگی۔جن لوگوں نے پچھلی حکومت میں ختم نبوت، ناموس رسالتﷺ کے نام پر جس عفریت کو اپنے چھوٹے سے سیاسی فائدے کے لیے بری طرح حکومت کے خلاف استعمال کیا وہ بھی سرعام معافی مانگیں۔ جو ریاستی عناصر تحریک لبیک کے جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں کی پلاننگ کر کے عوام کو جلاؤ گھیراؤ اور مرنے مارنے کی ترغیب دیتے تھے وہ بھی اس سنگین جرم پر قوم سے معافی مانگیں۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ فیض آباد دھرنوں کے خلاف دیے جانے والے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے فیصلے کے مطابق ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینے کا اعلان بھی کیا جائے چاہے ان میں سے کوئی کتنے بھی بڑے عہدے پر کیوں نہ فائز ہو۔
خدانخواستہ اگر اس بار بھی تحریک لبیک پر برائے نام پابندی لگا کر محض گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کی غلطی کی گئی تو جسٹس قاضی کے بقول یہ ملک رہنے کے لیے گٹر سے بھی بدتر ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button