پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت کا غبارہ پنکچر کیسے ہوا؟

5اگست کو تحریک انصاف کی جانب سے ملک گیر احتجاج کو پارٹی کی سیاسی مہم کا اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا تھا، تاہم اس کے نتائج توقعات کے مطابق سامنے نہ آ سکے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق احتجاج سے حکومت پر وہ دباؤ پیدا نہیں ہوا جس کی توقع کی جا رہی تھی، جبکہ عمران خان کی رہائی کے مطالبے کو بھی مطلوبہ عوامی اور سیاسی قوت حاصل نہ ہو سکی۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا سے فوری لانگ مارچ کے امکانات بھی عملی شکل اختیار نہ کر سکے، جس کے بعد پارٹی کی آئندہ حکمتِ عملی اور سیاسی سمت پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

5 اگست کا ملک گیر احتجاج تحریک انصاف کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان تصور کیا جا رہا تھا۔ کئی ہفتوں سے جاری تیاریوں اور مہم کے باوجود احتجاج ایسا اثر پیدا نہ کر سکا جو ملکی سیاست کا رخ بدل دیتا یا حکومت کو فوری طور پر کسی بڑے سیاسی دباؤ میں لے آتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق احتجاج کا سب سے نمایاں پہلو یہ رہا کہ عمران خان کی قید کا چوتھا سال شروع ہونے کے باوجود پارٹی اپنی عوامی اور تنظیمی قوت کو اس سطح پر متحرک نہیں کر سکی جس کی ماضی میں مثالیں موجود رہی ہیں۔ اگرچہ مختلف شہروں میں احتجاجی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں، تاہم مجموعی طور پر ان کا سیاسی اثر محدود رہا۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض حلقوں کی خواہش تھی کہ خیبرپختونخوا سے فوری لانگ مارچ کا آغاز کیا جائے، تاہم صوبائی قیادت نے اس حوالے سے فوری پیش رفت کے بجائے بعد کی تاریخ کا عندیہ دیا۔ اس فیصلے نے پارٹی کی آئندہ احتجاجی حکمتِ عملی کے بارے میں مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔
ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے بعد بعض حلقوں میں یہ توقع پیدا ہوئی کہ شاید عمران خان سے متعلق حکومتی مؤقف میں نرمی آ سکتی ہے، تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق متعلقہ سرکاری حلقوں میں ایسی کسی پالیسی تبدیلی کے آثار سامنے نہیں آئے اور حکومتی مؤقف بدستور برقرار دکھائی دیتا ہے۔

 

کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کا مؤقف برقرار، پرامن حل پر زور

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف کو صرف احتجاجی سیاست کے بجائے اپنی تنظیمی ساخت، سیاسی حکمتِ عملی اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ روابط پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ دوسری جانب حکومت کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ سیاسی کشیدگی کم کرنے اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ سیاسی اختلافات پارلیمانی اور آئینی دائرے میں حل کیے جا سکیں۔

Back to top button