دوہرا نظامِ انصاف: ریاستی اداروں پر اعتماد کیوں کم ہونے لگا؟

ریاست کی بنیاد مساوی انصاف، قانون کی بالادستی اور اداروں کی غیر جانبداری پر قائم ہوتی ہے۔ جب معاشرے میں یہ تاثر مضبوط ہو جائے کہ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قوانین نافذ ہیں، تو عوام کا پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ پر اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے۔ پاکستان میں بھی ایک طویل عرصے سے یہی احساس شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ انصاف کی فراہمی میں حیثیت، اثر و رسوخ اور سیاسی طاقت کا کردار قانون سے زیادہ مؤثر دکھائی دیتا ہے۔ یہی صورتحال نہ صرف اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے بلکہ معاشرتی تقسیم، احساسِ محرومی اور ریاست سے بداعتمادی کو بھی جنم دیتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو، ادارے سیاسی اثر سے آزاد ہوں اور انصاف صرف ہوتا ہوا ہی نہیں بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے، کیونکہ مضبوط ریاست کی پہچان طاقتور افراد نہیں بلکہ مضبوط اور غیر جانبدار ادارے ہوتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی ریاستی اداروں نے میرٹ، قانون اور انصاف کو مقدم رکھا، ملک نے استحکام، ترقی اور عالمی سطح پر عزت حاصل کی۔ لیکن جب ذاتی مفادات، سیاسی وابستگیاں اور طاقت کا بے جا استعمال اداروں پر غالب آیا تو معاشرتی تقسیم، بداعتمادی اور ناانصافی نے جنم لیا۔
آج عام شہری کے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟ اگر ایک بااثر شخص کے لیے رعایت، سہولت اور خصوصی سلوک موجود ہو جبکہ عام شہری کو معمولی حقوق کے لیے بھی طویل جدوجہد کرنا پڑے تو انصاف کا تصور کمزور ہونے لگتا ہے۔
سیاسی مداخلت نے پولیس، انتظامیہ اور دیگر ریاستی اداروں کی کارکردگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ حکومتیں بدلنے کے ساتھ تقرریوں، تبادلوں اور انتظامی فیصلوں میں سیاسی ترجیحات کو فوقیت دی جاتی رہی، جس کے نتیجے میں میرٹ پر کام کرنے والے افسران پس منظر میں چلے گئے جبکہ بااثر افراد کو اہم ذمہ داریاں ملتی رہیں۔ اس طرزِ عمل نے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو متاثر کیا اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچایا۔
اسی طرح عدالتی نظام پر بھی یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ کیا انصاف ہر شہری کو یکساں رفتار اور معیار کے ساتھ میسر ہے؟ جب مقدمات برسوں تک زیرِ التوا رہیں، غریب انصاف کے حصول میں مالی اور قانونی مشکلات کا شکار ہو اور طاقتور افراد نسبتاً زیادہ سہولیات حاصل کرتے نظر آئیں تو انصاف کا تصور مجروح ہوتا ہے۔
معاشرے میں طبقاتی تقسیم صرف معاشی نہیں بلکہ قانونی اور انتظامی سطح پر بھی محسوس کی جاتی ہے۔ ایک طرف بااثر افراد کو ہر ممکن سہولت میسر آتی ہے جبکہ دوسری جانب عام آدمی بنیادی حقوق کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ یہی احساس محرومی معاشرتی بے چینی اور ریاستی اداروں سے دوری پیدا کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی مضبوطی اس کے طاقتور افراد سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، شفاف نظامِ انصاف اور قانون کی یکساں عملداری سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر ریاست چاہتی ہے کہ عوام کا اعتماد بحال ہو تو پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ کو ہر قسم کے سیاسی اور ذاتی دباؤ سے آزاد کرنا ہوگا، میرٹ کو اولین ترجیح دینی ہوگی اور قانون کی نظر میں ہر شہری کو برابر سمجھنا ہوگا۔
مسلسل عسکری دباؤ کے نتیجے میں تہران دوبارہ مذاکرات پر آمادہ ہوا: ٹرمپ
جب انصاف بلاامتیاز فراہم ہوگا، احتساب سب کے لیے یکساں ہوگا اور ادارے صرف آئین و قانون کے مطابق کام کریں گے تو نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ ریاستی نظام بھی مضبوط، مستحکم اور باوقار بن سکے گا۔
