گلگت بلتستان اسمبلی کے نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا

گلگت بلتستان میں 15 نومبر کو منعقدہ انتخابات کے سرکاری نتائج جاری ہونے کے بعد اسمبلی کے نومنتخب 33 میں سے 32 اراکین نے حلف اٹھالیا جبکہ 26 نومبر کو اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہوگا۔گلگت بلتستان اسمبلی کے اسپیکر فدا محمد ناشاد نے نومنتخب اراکین سے حلف لیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمیت علمائے اسلام کے ٹکٹ اور آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے 23 اراکین کے علاوہ 6 ٹیکنوکریٹس اور 3 خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والے اراکین نے حلف اٹھایا۔گلگت بلتستان اسمبلی کا اجلاس کل بھی جاری رہے گا اور اسی دوران اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہو گی۔
خیال رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی 33 ارکان پر مشتمل ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور ایک نشست پر حلف اٹھا لیا اور دوسری نشست خالی کردی۔گلگت بلتستان اسمبلی میں جنرل نشستوں کی تعداد 24 ، خواتین کی 6 اور ٹیکنوکریٹس کے لیے تین نشستیں مخصوص ہیں جو میں براہ راست ووٹنگ میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعتوں کے اراکین کی تعداد کے مطابق تقسیم ہوتی ہیں۔
خیال رہے کہ گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز صوبائی اسمبلی کے 24 حلقوں اور 9 مخصوص نشستوں کا سرکاری نتیجہ جاری کر دیا تھا۔گلگت بلتستان اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پی پی پی کے صوبائی صدر امجد ایڈووکیٹ نے دو حلقوں گلگت حلقہ ایک اور حلقہ 4 نگر سے کامیابی حاصل کی۔گلگت بلتستان اسمبلی کی 33 میں براہ راست 24 نشستوں میں پی ٹی آئی نے 10، پی پی پی نے تین اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دو نشستیں حاصل کیں۔
مخصوص نشستوں میں پی ٹی آئی کو 4 خواتین اور دو ٹیکنوکریٹس کی نشستیں ملی، پی پی پی کو خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی ایک، ایک اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو خواتین کے لیے مخصوص کوٹے سے ایک نشست حاصل ہوئی۔اسمبلی میں پی ٹی آئی کو 6 آزاد امیدواروں کی شمولیت اور 6 مخصوص نشستوں کے بعد 22 شستوں کے ساتھ اکثریت حاصل ہے، پی پی پی کی 5، پاکستان مسلم لیگ(ن) کی 3، جمعیت علمائے اسلام اور وحدت مسلمین کی ایک ایک اور ایک آزاد امیدوار ہیں۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان کی تیسری قانون ساز اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں کے لیے 4 خواتین سمیت 330 اُمیدوار انتخابات میں حصہ لیا تھا جس میں ایک نشست پر انتخاب ملتوی ہوا تھا۔انتخابی نتائج سامنے آنے پر پی ٹی آئی کے کارکنان نے خطے میں اپنی اولین جیت کا جشن منایا تو دوسری جانب ملک کی 2 بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے انتخابات پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔گلگت کے حلقہ نمبر 2 میں حالات کشیدہ ہوئے جہاں احتجاج کے دوران صوبائی وزیر کی گاڑی اور محکمہ جنگلات کے دفتر کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button