گوادر: مظاہرین کا حیات بلوچ کے قتل کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

تربت میں جامعہ کراچی کے ایک طالبعلم حیات بلوچ کے فرنٹیئر کور(ایف سی) اہکار کے ہاتھوں مبینہ قتل کے خلاف سیاسی کارکنان، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے رضاکار اور سول سوسائٹی کے اراکین نے گوادر کی مختلف سڑکوں پر احتجاجی مارچ کیا۔
مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز پر اپنے مطالبات لکھ کر شہر کی مختلف سڑکوں پر مارچ کیا اور بعد میں جیوانی چوک پر اکھٹے ہوئے۔مظاہرین نے احتجاج کے دوران حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے عابد سہرابی، بالاچ قدیر، صدف مرزا، مکران بار ایسوسی ایشن کے صدر مہراب خان گچھکی، گوادر بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد صادق زمرانی، عارفہ عبداللہ اور دیگر نے تربت میں پیش آئے واقعے کی مذمت کی اور قتل کو ظلم قرار دیا۔انہوں نے قتل کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تربت واقعہ کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ایک مخصوص ذہن کا نتیجہ ہے اور ایسے کئی واقعات بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہورہے ہیں جس میں معصوم لوگ قتل ہورہے ہیں۔مقررین نے حیات مرزا کے اہلِ خانہ کو انصاف دینے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت میں کراچی یونیورسٹی کے طالب علم حیات بلوچ کو قتل کرنے کے الزام میں پولیس نے فرنٹیئر کور کے ایک سپاہی کو گرفتار کیا تھا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد تفتیش بھی شروع کردی گئی تھی۔13 اگست کو تربت میں دہشت گردوں نے ابصار کے علاقے میں ایک ایف سی قافلے کو آئی ای ڈی یعنی دیسی ساختہ دھماکا خیز آلے سے نشانہ بنایا اور اس کے نتیجے میں ایک نان کمیشنڈ افسر سمیت تین اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔واقعے کے بعد علاقے میں موجود حیات بلوچ سمیت کچھ مقامی لوگوں سے واقعے کے بارے میں پوچھ گچھ کی جارہی تھی کہ دوران تفتیش ایف سی کے سپاہی نائیک شاہد اللہ نے غیر ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں حیات بلوچ زخمی ہوگیا اورموقع پر ہی دم توڑ گیا۔
حیات بلوچ کو کھجوروں کے باغ سے پکڑا گیا تھا اور ایف سی اہلکار نے اسے 8 گولیاں ماری تھی، موقع پر موجود ایف سی اہلکاروں نے مشتبہ شخص پر قابو پا کر اسے فوری طور پر غیر مسلح کردیا تھا۔بعدازاں حیات بلوچ کے والد نے تربت ڈسٹرکٹ جیل میں شناختی پریڈ کے دوران ملزم کی نشاندہی بھی کردی تھی۔
