پنوعاقل: گھرکاسربراہ جلاد بن گیا، بیوی بچوں سمیت11افراد قتل

پنوعاقل میں گھر کے سربراہ جنونی شخص نے مخالفین پر الزام لگانے کیلئے بیٹوں کے ساتھ مل کر بیوی، بچیوں، بھابھی اور بھتیجیوں سمیت گھر کے 11 افراد کو قتل کردیا جبکہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔
صوبہ سندھ کے ضلع سکھر کی تحصیل پنوعاقل کے کینٹ تھانے کی حدود کے گاؤں محمد حسن انڈھڑ میں وہاب اللہ انڈھڑ نامی شخص نے تیز دھار آلے سے اپنی بیوی، چار بیٹیوں اقرا، اسرہ، ثریا، حاجانی، تین بیٹوں محمد احسن، محمد اسد، ایک سالہ بیٹے، بہو نسیم زوجہ حبیب اللہ، پوتی بے بی نازیہ اور پوتے علی شیر سمیت گھر کے 11 افراد کو اس وقت قتل کردیا جب وہ گھر میں سورہے تھے۔گھر کے دیگر افراد جب اٹھے تھے تو ان 11 افراد کو مردہ حالت میں پایا جبکہ واقعے کی اطلاع پر پولیس نے پہنچ کر ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرلیا۔
تاہم اب گھر کے سربراہ کی جانب سے اپنے بیوی بچوں سمیت کنبے کے 11افراد کو قتل کرنے کی وجہ سامنے آگئی ہے۔ملزم وہاب اللہ نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ اس نے زمین کے جھگڑے پر مخالفین پر الزام لگانےکے لیے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر گھر والوں کو قتل کیا۔پولیس کو ابتدائی ویڈیو بیان میں ملزم نے اعتراف کیا ہےکہ اپنی بیوی اور بیٹی کو میں نے جب کہ دیگر 9 افراد کو میرے بیٹےکلیم اللہ نےقتل کیا۔
ملزم کے مطابق  اس نے اپنے بھائیوں سے جھگڑے اور صدمےکی وجہ سے بیوی اور بیٹی کو تیزدھار آلے سے قتل کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کے4 بیٹے بھی قتل میں ملوث ہیں اور انہوں نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے۔ دوسری طرف ملزم کلیم اللہ نے بھی پولیس کو دیے گئے بیان میں 9 افراد کو قتل کرنےکا اعتراف کیا ہے۔
ملزم کے چھوٹے بیٹے نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کے والد اور بڑے بھائی نےتمام افراد کوقتل کیا،قتل کے وقت ہم 3 بھائی پہرے داری کررہے تھے اور قتل کے بعد والد اور ہم چاروں بھائی گھوٹکی چلےگئے۔اس کا مزید کہنا ہے کہ والد مجھے بھی قتل کرنا چاہتے تھے تاہم جب میں نے ساتھ دینے کا کہا تو مجھے چھوڑ دیا۔پولیس کے مطابق تمام ملزمان کے بیان ریکارڈ کرلیےگئے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔
واضح رہے کہ  یہ افسوس ناک واقعہ پنو عاقل کے گاؤں محمد حسن انڈھڑ میں پیش آیا تھا جہاں گھرکے سائباں ہی قاتل بن گئے اور اپنے ہی اہلخانہ کے گلوں پر چھریاں پھیر دیں۔ایس ایس پی عرفان سموں کے مطابق مقتولین میں ملزم وہاب انڈھڑ کی بیوی رقیہ، 18سال کی بیٹی اقراء،8سال کی اسرا،6سال کی سریہ،5 سال کی حاجانی، 4سال کا بیٹا اسد، 3سال کا بیٹا احسن جب کہ بہو 19سالہ نسیمہ، 3سال کی پوتی نازیہ اور 1 سال کا پوتا علی شامل ہے۔اہل علاقہ کاکہنا ہےکہ ملز م نے2011ء میں بھی اپنے بھائی کو قتل کیا تھا اور قتل کے جرم میں سزا کاٹ چکا ہے اوراس کے گھر والوں سے اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ نے افسوسناک واقعے کا نوٹس لے لیا اور آئی جی سندھ سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کردی۔
واضح رہے سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں آئے دن چھوٹے چھوٹے تنازعات پر قتل کی وارداتیں رونما ہوتی رہتی ہیں۔رواں سال خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع دیر بالا میں دو گروہوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک جبکہ 2 زخمی ہوگئے۔رواں سال کے اوائل میں سندھ کے ضلع مٹیاری میں شادی کے تنازع پر ایک ہی خاندان کے 7 افراد کو نیند کی حالت میں فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا۔گزشتہ سال اسی طرح خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں دو قبائلی گروپوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button