گیلانی نے 10 حکومتی ووٹ اڑا لیے تو حفیظ شیخ ہار جائیں گے

سینیٹ الیکشن میں کپتان کے امپورٹڈ امیدوار حفیظ شیخ اور پی ڈی ایم کے یوسف رضا گیلانی کے مابین سخت مقابلے میں کامیابی کے لئے جہانگیر ترین ترپ کا پتا بن گئے ہیں جس کے بعد حکومتی اور اپوزیشن امیدوار دونوں ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یاد رہے کہ یوسف رضا گیلانی اور حفیظ شیخ دونوں اسلام آباد کی سیٹ سے سینیٹ کے امیدوار ہیں اور ان کا الیکٹورل کالج قومی اسمبلی کے ممبران ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر یوسف رضا گیلانی حکومتی سائیڈ کے دس ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گے تو وہ عبدالحفیظ شیخ کو شکست دے دیں گے۔ شاید اسی وجہ سے وزیراعظم عمران خان نے نازک صورتحال کا اندازہ لگاتے ہوئے حفیظ کو مشورہ دیا کہ وہ جنوبی پنجاب میں اپنا اثر رسوخ رکھنے والے جہانگیر خان ترین سے بھی مدد مانگ لیں حالانکہ سوگر سکینڈل کے بود کپتان نے انہیں فارغ کر کےخود سے دور کر رکھا ہے۔
یوسف رضا گیلانی سے رشتہ داری ہونے کے باوجود جہانگیر ترین کی جانب سے میڈیا میں یہ بیان ان آیا تھا کہ وہ حفیظ شیخ کی سینیٹ الیکشن میں ہر طرح سے مدد کریں گے۔ لیکن دوسری جانب جب یوسف رضا گیلانی سے سوال کیا گیا کہ کیا انہوں نے جہانگیر ترین سے مدد مانگی ہے تو انہوں نے جواب ہے دیا کہ ان کا جہانگیر ترین سے جتنا قریبی تعلق ہے اسکے پیش نظر وہ نہیں سمجھتے کہ ان کو مدد مانگنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس طرح کی افواہیں بھی چل رہی ہیں کہ جہانگیر ترین نے عبدالحفیظ شیخ سے سینٹ الیکشن میں مدد کا وعدہ تو کیا ہے لیکن وہ اپنی تمام تر توانائیاں اور تعلقات پس پردہ رہ کر یوسف رضا گیلانی کے لیے استعمال کریں گے جن سے ان کی عزیز داری بھی ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ یوسف رضا گیلانی اور حفیظ شیخ دونوں کے لیے جہانگیر ترین اہم ترین شخص بن چکے ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کا جنوبی پنجاب اتحاد کے ایم این اے حضرات کے ساتھ ذاتی تعلق ہونا ہے، جن کے ووٹ اسلام آباد سے سیینٹ کی سیٹ کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں اس وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کا فوکس اسلام آباد کی سیٹ ہے کیونکہ اس کا نتیجہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے مستقبل کا بھی تعین کرے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر یوسف رضا گیلانی یہ الیکشن جیت گئے تو فوری طور پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاکر گیلانی کو اگلا چیئرمین منتخب کروایا جائے گا جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی اور آخری سٹیج پر وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کر دیا جائے گا۔ لہذا ایک جانب وزیراعظم عمران خان ذاتی طور پر حفیظ شیخ کی حمایت میں نکل پڑے ہیں تو دوسری جانب آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری گیلانی کی کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور انہوں نے کئی حکومتی اراکین سے بھی بات چیت کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا یے کہ عبدالحفیظ شیخ کی کامیابی کے لیے عمران خان نے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو میدان میں اتارا ہے جو اسلام آباد میں روزانہ کی بنیاد پر اراکین قومی اسمبلی سے حفیظ شیخ کے رابطے کروا رہے ہیں۔ تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان اصل فرق 17 اراکین کا ہے اور اگر نو سے دس اراکین نے اپنے ووٹ یوسف رضا گیلانی کو دیئے تو حکومت کو شکست ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں 13سے 14 اراکین اسمبلی ایسے ہیں جو جہانگیر ترین کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اپوزیشن اور حکومت دونوں ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
لیکن حیران کن طور پر یوسف رضا گیلانی اپنی جیت کے حوالے سے کافی پر امید دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت نے گیلانی کو سینٹ الیکشن سے باہر کرنے کے لیے ان کے خلاف اعتراضات تو دائر کیے لیکن الیکشن کمیشن نے انہیں مسترد کر دیا۔ اس دوران یوسف رضا گیلانی نے ضمنی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ بظاہر انھیں اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار دکھائی دے رہی ہے۔گیلانی کے اس بیان کے بعد اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کی بڑھتی ہوئی قربتوں سے متعلق قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بلاول بھٹو زرداری اور رانا ثناء اللہ خان بھی کچھ ایسی ہی باتیں کر چکے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے متعلق رائے میں تبدیلی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں پاکستان کی فوج کے ترجمان نے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹنے اور ادارے کے سیاست سے الگ رہنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل حزبِ اختلاف کی جماعتیں فوج کو سیاست میں عدم مداخلت اور حکومت کی حمایت سے دست بردار ہونے کے مطالبے کرتی رہی ہیں۔ لہذا فوج کی جانب سے سیاست میں ملوث نہ کرنے اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مقتدر قوتوں کے غیر جانب دار دیکھائی دینے کے بیانات نے تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کو دلچسپ اور مزید اہم بنا دیا ہے۔
لیکن دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ فوج کی جانب سے غیر سیاسی رہنے کا موقف روایتی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ یہ پوزیشن حالات و واقعات کے تحت بدلتی رہتی ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ حزبِ اختلاف رہنماؤں کے فوج کے سیاست میں کردار کے حوالے سے حالیہ بیانات مستقل پالیسی یا حقیقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ وقتی سیاسی ضروریات کی بنیاد پر ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر سینیٹ الیکشن کے نتائج حزبِ اختلاف کی توقع کے برعکس آئے تو ان کے فوج کے سیاست میں کردار کے حوالے سے بیان بدل بھی سکتے ہیں۔
