گینگسٹر عزیر بلوچ کو جیل سے ہاسٹل کیوں منتقل کیا گیا؟


پی پی پی کی قیادت کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کی کوشش میں مصروف لیاری گینگ وار کے سربراہ اور کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے چیئرمین عزیر جان بلوچ کو سندھ رینجرز کے اعلی حکام نے سیکیورٹی خدشات کی آڑ میں کراچی سنٹرل جیل سے میٹھا رام ہسپتال منتقل کرکے اسے سب جیل قرار دے دیا ہے۔ یہ کراچی کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ فوجی عدالت کی طرف سے سزا دیے جانے والے ایک قیدی کو جیل سے نکال کر ایک ہاسٹل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
باخبر ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ 2016 میں رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے عزیر جان بلوچ کو وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ جیل سے ہاسٹل منتقل کر دیا گیا ہے اور اسے وہاں زندگی کی ہر سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ عزیر بلوچ کی جیل سے ہاسپل منتقلی کے پیچھے کوئی خفیہ ایجنڈا ہے جس وجہ سے اس کو اتنا آرام دہ ماحول مہیا کیا جا رہا ہے حالانکہ وہ درجنوں افراد کے قتل کہ ذمہ داری لے چکا ہے۔
یاد رہے کہ 2016 میں رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہونے سے پانچ برس پہلے ہی عزیر بلوچ نے پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا تھا اور لیاری میں بھٹوز کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم اپنی گرفتاری کے بعد اقبالی بیان میں اس نے یہ الزام عائد کیا کہ ماضی میں وہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے ایماء پر قتل و غارت، بھتہ خوری اور قبضہ کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ سال 2016 میں اپنی گرفتاری کے بعد وہ تین برس پاکستان آرمی کی کور 5 کی تحویل میں رہا اور اس برس اپریل میں اسے پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا تھا جس نے اس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تھا۔ تاہم صرف ایک مہینہ ہی سینٹرل جیل کراچی میں رکھے جانے کے بعد اسے اب ایک ہاسٹل میں منتقل کر دیا گیا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث ایسا کیا گیا۔ دوسری طرف اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ایسا ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کیا جارہا ہے چونکہ سینٹرل جیل کراچی بہر صورت کسی ہاسٹل سے سو گناہ زیادہ محفوظ جگہ ہے۔
عزیر بلوچ کو جیل سے ہاسٹل منتقل کرنے کی اطلاع انسداد دہشت گردی عدالت میں قتل اور دہشت گردی کے الزامات سے متعلق ایک کیس میں سنٹرل جیل کے سینئر سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جمع کروائے گئے خط میں فراہم کی گئی ہیں۔ اس قتل کیس میں گزشتہ سماعت پر عدالت نے وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے تھے جس کے جواب میں حکام کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ عزیر بلوچ کو عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ محکمہ داخلہ سندھ کی ہدایت پر انہیں سینٹرل جیل سے پاکستان چوک کے قریب میٹھا رام ہاسٹل منتقل کردیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ مذکورہ بالا معاملے کے پیش نظر عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ وہ سماعت کے لیے ایک اور تاریخ مقرر کرے تاکہ عزیر بلوچ کو پیش کیا جاسکے۔
بعد ازاں سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں ٹرائل کرنے والے جج نے عزیر بلوچ کے 13 جولائی کے لیے پروڈکشن آرڈر دوبارہ جاری کردیے۔ اس سے قبل 9 جون کو صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کیے گئے ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ سیکیورٹی خدشات سے متعلق رپورٹس کے جائزے پر حکومت پاکستان رینجرز کے میٹھا رام ہاسٹل کی حدود کو سب جیل قرار دیتی ہے تاکہ لیاری گینگسٹر کو حراست میں محفوظ رکھا جاسکے۔ مزید برآں یہ بھی کہا گیا تھا کہ انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کی جانب سے نامزد عہدیدار سب جیل کے انتظامی معاملات اور نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے اور رینجرز اور پولیس ان کی بیرونی سیکیورٹی کے لیے ذمہ دار ہوں گے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ پیراملٹری فورس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب جیل میں ان کے ساتھ موجود قیدی اور وہاں تعینات عملے کو کسی بھی قسم کے خطرے یا کوئی مجرمانہ فعل سے بچانے کے لیے ہر ممکن حفاظتی کریں گی۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ لیاری کی بدنام زمانہ شخصیت عزیر جان بلوچ کو فوجی عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کے خلاف ان کے اہل خانہ نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔عزیر بلوچ کی والدہ رضیہ بیگم کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں اپنے وکیل کے ذریعے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ فوجی عدالت کی جانب سے مبینہ طور پر سزا کے بعد ان کے بیٹے کو اپریل کے پہلے ہفتے میں کراچی جیل منتقل کردیا گیا تھا۔ درخواست گزار کے مطابق عزیر بلوچ کو جنوری 2016 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے پکڑا گیا اور ان پر انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر التوا 50 سے زائد کیسز میں نامزد اور چارج شیٹ کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ عزیر بلوچ کو 12 اپریل 2017 کو سینٹرل جیل کی جانب سے فوجی حکام کے حوالے کیا گیا تاکہ وہ جاسوسی کی سرگرمیوں اور غیرملکی ایجنسیوں کے لیے کام کرنے میں ملوث ہونے کا مقدمے کے ٹرائل کا سامنا کریں۔ عزیر بلوچ کی والدہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ فوجی عدالت کی سماعتوں کی نقل فراہم کرنے کے لیے فوجی اور جیل حکام کو مختلف درخواستیں بھیجی گئیں، مزید یہ کہ فیصلے اور سماعتوں کے ریکارڈ کی نقل وہاں تھی تاہم اسے درخواست گزار کو فراہم نہیں کی گئی۔
خیال رہے کہ عزیر بلوچ کو پاکستان رینجرز سندھ کی جانب سے ابتدائی طور پر 90 روز کی حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا اور پھر جنوری 2016 میں ان کی پراسرار گرفتاری کے بعد انہیں پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا۔ جس کے بعد اپریل 2017 میں فوج نے اعلان کیا کہ ‘جاسوسی’ کے الزامات پر انہوں نے عزیر بلوچ کی حراست میں لے لیا۔ یاد رہے کہ عزیر بلوچ انسداد دہشت گردی اور سیشن عدالتوں میں اپنے حریف ارشد پپو کے بہیمانہ قتل سمیت 50 سے زائد مقدمات کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ہاسٹل منتقل کیے جانے کے بعد عزیر بلوچ کی کچھ سینئر انٹیلی جنس افسران سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button