جہانگیر ترین نے عمران خان کو اپنے احسانات گنوا دیے


چینی سکینڈل میں مرکزی ملزم قرار دیے جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے سابق دست راست جہانگیر خان ترین پہلی مرتبہ کھل کر اپنے سابقہ کپتان کے سامنے آگئے ہیں اور اپنے احسانات گنوانے اورجتوانے شروع کر دئیے ہیں۔ لیکن وہ شاید بھول گئے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور یہ بڑی بے رحم ہوتی ہے۔
شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ آنے کے بعد بیرون ملک فرار ہو جانے والے ترین نے پہلی مرتبہ ایک ایسا بیان دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے کپتان سے اپنے راستے ہمیشہ کے لیے جدا کر لیے ہیں۔ جہانگیر ترین نے اپنے حالیہ ویڈیو پیغام میں تحریک انصاف کے کٹرحامیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ عمران خان کو وزیراعظم بنوانے کے ساتھ ساتھ مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کو برسر اقتدار لانے میں ان کا کتنا اہم کردار تھا لیکن پھر بھی ان کے ساتھ کیسا ناروا سلوک کیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جہانگیر ترین نے یہ ویڈیو پیغام اپنے جہاز میں بیٹھ کر ریکارڈ کروایا ہے جس میں وہ انصافیوں کو جتا رہے ہیں کہ اگر انکا جہاز نہ ہوتا تو عمران کے لیے وزیراعظم بننا اتنا آسان نہیں تھا۔
خیال رہے کہ شوگر سکینڈل کی فرانزک رپورٹ آنے کے بعد جہانگیرترین چپکے سے اپنے صاحبزادے کے ہمراہ برطانیہ منتقل ہو چکے ہیں جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان شدید تنقید کی زد میں ہیں کہ انہوں نے ملی بھگت کرکے اپنی سابق اے ٹی ایم کو ملک سے فرار کروایا ہے۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہانگیر ترین نے اپنے ایک تازہ ترین ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ انصافینز بتائیں! اگر میرا جہاز نہ ہوتا تو کیا عمران خان دھرنا دے سکتے تھے، پی ٹی آئی کیلئے جہاز کی کیا اہمیت ہے؟ خود سوچیں،ہم نے لاک ڈاؤن کیا، جلسے کیے، اگر میرا جہاز نہ ہوتا تو عمران خان کراچی، لاہور، فیصل آباد میں جلسے کرکے دھرنے میں شام کو واپس کیسے آتے؟ جہانگیر ترین نے کہا کہ خود سوچیں اگر عمران خان کو جہاز کی سہولت میسرنہ ہوتی، میں اور خان صاحب اس طرح اکٹھے سفر نہ کرسکتے تو ہم اپنے اہداف حاصل نہ کر پاتے۔ ہم دھرنے سے اُڑتے تھے، ایک دن میں کراچی جاتے، وہاں جلسہ کرتے اور پھر رات کو دھرنے میں واپس آجاتے تھے، ایک دن بعد ہم فیصل آباد کیلئے اڑے، وہاں جلسہ کیا اور شام کو دھرنے میں واپس آگئے۔ یہ تمام کام جہاز کے بغیر کیسے ہوتے؟ آپ مجھے خود بتائیں، میں اب انصافینز سے پوچھتا ہوں۔ کہ اگر دھرنے میں عمران خان نے جلسے بھی کرنے تھے، پورے کے پورے شہر لاک ڈاؤن بھی کرنے تھے تو کیا ایسا سب کرنا ان کے لیے میرے جہاز کی سہولت کے بغیر ممکن تھا۔ خان صاحب لاہور جاتے ، کام کرتے اور واپس شام کو دھرنے میں آجاتے تھے، کیا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا؟ یہ سوال انصافینز خود اپنے آپ سے پوچھیں۔
واضح رہے کہ چینی سکینڈل میں مرکزی ملزم قرار دیا جانے کے بعد ترین نے لندن جاتے ہوئے یقین دلایا تھا کہ وہ معمول کے چیک اپ کیلیے لندن جارہے ہیں جس کا ٹائم انہوں نے ڈاکٹروں سے پہلی ہی لیا ہوا ہے اور وہ جلد واپس آجائیں گے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت کے بعض حلقے ان کے بیرون ملک جانے کے حق میں نہیں تھے مگر ترین چونکہ ٹکٹ بھی بک کروا چکے تھے اس لیے ان ملاقاتوں کے بعد جانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ چینی سکینڈل کی فرانزک آڈٹ رپورٹ سامنے آنے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف ابھی نیب یا ایف آئی اے نے کوئی کارروائی شروع نہیں کی اور اس حوالے سے وہ حکومتی احکامات کے منتظر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button