بیوروکریسی کی کپتان کے پرنسپل سیکرٹری کے خلاف بغاوت


معلوم ہوا ہے کہ آٹھ سینئر ترین وفاقی سیکرٹریوں نے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے ناروا رویے کے خلاف ردعمل کے طور پر ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا ہے اور یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر وہ ان کو او ایس ڈی بنانا چاہتے ہیں تو بنا دیں۔
باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کہ آٹھ سینئر ترین وفاقی سیکرٹریوں نے اعظم خان کی جانب سے ان کی جائز ترقیاں رکوانے اور اپنے قریبی افراد کو ان کی جگہ ترقیاں دلوانے کے خلاف بغاوت کر دی ہے۔ ان وفاقی سیکرٹریوں کہ کہنا ہے کہ اعظم خان خود کو نائب وزیر اعظم سمجھتے ہیں اور اپنوں کو نوازنے کے لیے قانون کی دھجیاں بکھیرتے چلے جا رہے ہیں لہذا اب وہ لوگ ان کے ساتھ کام کرنے سے انکاری ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان 8 وفاقی سیکرٹریوں نے اعظم خان کو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ہمیں او ایس ڈی بنا د یا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اعظم خاں نے اپنے من پسند جونیئر بیوروکریٹس کو ترقی دلوانے کی خاطر ان سیکرٹریوں کا حق مارا جو سینئر ترین تھے۔ انہوں نے خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر افسر کی گریڈ 22 میں ترقی نہیں ہونے دی جبکہ تین جونیئر افسروں کو پروموٹ کروا دیا جس کے بعد سے متاثرہ 8 وفاقی سیکرٹریوں نے اعظم خان کے ساتھ تعاون کرنے اور کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے اعلان بغاوت کر دیا ہے اور او ایس ڈی بننے کو بھی تیار ہیں۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے بارے میں مختلف حکومتی شخصیات کی جانب سے اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کے الزامات بڑے تواتر سے لگ رہے ہیں۔ اگر پرائم منسٹر سیکریٹیریٹ کی ورکنگ پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں سب سے اہم شخص ملٹری سیکرٹری نہیں بلکہ وزیراعظم کا پرنسپل سیکرٹری ہوتا ہے جسے آئین کے کے تحت وزارتوں، ڈویژنوں اور اداروں ک امور سمری کی شکل میں ارسال کیے جاتے ہیں۔ پرنسپل سیکرٹری وزیراعظم کو ساری وزارتوں حتیٰ کہ آئی ایس آئی، آئی بی اور سٹریٹجیک پلانز ڈویژن جیسے حساس ترین محکموں کی سمریاں دیکھ کر فائلوں کو ضروری کارروائی کے لیے پیش کرتا ہے۔ وزیراعظم ان فائلوں پر ضروری احکامات جاری کرتا ہے اور عام طور پر اس حوالے سے کوئی رائے لینا ہو تو سب سے پہلی رائے سیکرٹری یا پرنسپل سیکرٹری ہی دیتا ہے۔
عام طور پر پرنسپل سیکرٹری بیوروکریسی کا گریڈ بیس یا اس سے اوپر کا سینیئر افسر ہوتا ہے جو وزیراعظم کے احکامات اور ہدایات کو متعلقہ وزارتوں تک پہنچاتا ہے۔ وزیراعظم کا بااعتماد ترین بیوروکریٹ ہونے کے ناطے اسے سرکاری مشینری میں کام کرنے والے تمام افسران پر فطری برتری حاصل ہوتی ہے۔ لہذا حال ہی میں گریڈ 21 سے گریڈ بائیس میں ترقی پانے والے اعظم خان اس لیے بھی اپنے ساتھی بیوروکریٹس کی طرف سے تنقید کی زد میں ہے کہ ان کو اس بورڈ کا ممبر بنایا جا چکا ہے جو اس کی پرموشن کا فیصلہ کرتا ہے اور اس طرح کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ ان کی مرضی کے بغیر کسی افسر کی پروموشن کا فیصلہ نہیں ہو رہا۔
وزیراعظم عمران خان کے ساتھ پرنسپل سیکرٹری کے طور پر کام کرنے والے اعظم خان ہوں، دو سابق وزرا اعظم نوازشریف اور شاہد خاقان عباسی کے ساتھ کام کرنے والے فواد حسن فواد یا کوئی اور، یہ افسران دن رات وزیراعظم کے ساتھ کام کرنے کے باعث اکثر ان کی کابینہ کے وزرا سے بھی زیادہ قریب ہوجاتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں بادشاہ سے قربت تنقید اور سازشوں کے لیے زمین بھی ہموار کردیتی ہے۔ عام طور پر جو لوگ وزیراعظم سے ناخوش ہوں تو وہ براہ راست وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر پر ہی تنقید کے نشتر چلاتے ہیں۔ حالانکہ سیکرٹری تو وہی کام سرانجام دیتا ہے جو اسے وزیراعظم کہتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں اعظم خان اس لیے تنقید کی زد میں آگئے ہیں چونکہ وہ خود ایک بیوروکریٹ ہونے کے ناطے سینئر بیوروکریٹس کی ترقیاں کروانے اور رکوانے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کے خلاف ساتھی بیوروکریٹس کی جانب سے کی جانے والی بغاوت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button