ہتھیار ڈالنے کی شرط پر TTPکو میز پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے

وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو ٹیبل پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے وہ ہتھیار ڈال کر خود کو آئین اور قانون کے تابع کریں۔
اسلام آباد میں آئی جی پولیس ناصر اکبر خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا عزم کیا گیا، نہ صرف دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس ہوگا بلکہ پہلے سے ہی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ دہشت گردی کے واقعات سے بچا جائے، فیصلہ ہوا ہے کہ تمام صوبائی سی ٹی ڈیز اور خاص طور پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی سی ٹی ڈی کو وفاق سے مدد دی جائے اور تربیت کے مواقع دیے جائیں اور ان کی حالت ایسی کیا جائے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایک تصور پر کام ہو رہا ہے کہ وفاقی سطح پر سی ٹی ڈی کا موبوط اسٹرکچر نیشنل سی ٹی ڈی کے طور پر قائم کیا جائے تاکہ چاروں سی ٹی ڈی کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے بھی بہتر انداز میں رابطہ کاری ہو سکے، افغانستان ایک حقیقت ہے اور وہاں کی طالبان حکومت ایک حقیقت ہے اور اسی طرح ٹی ٹی پی کو ٹیبل پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے اور کوشش کی جائے گی لیکن ٹیبل پر لانے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ ہتھیار رکھ دیں اور اپنے آپ کو آئین اور قانون کے تابع کردیں، ہمیں اس سلسلے میں طویل عرصے تک ان چیزوں سے اس طرح نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے کہ ہم واقعات کم سے کم ہو اور یہاں تک آجائے کہ معمولی واقعات رپورٹ ہوں اور اس حوالے سے کام ہوتا ہوا نظر آئے گا۔
وزیر داخلہ نے کالعدم ٹی ٹی پی کی دھمکی پر سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ بالکل نہیں کہا کہ ہم افغانستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں یا وہاں پر کسی پر حملہ کرنا چاہتے ہیں بلکہ میں نے کہا کہ اگر کوئی دہشت گرد کسی جگہ پر ایسی پوزیشن اختیار کر رہا ہے، جس کے بعد وہ حملہ یا دہشت گردی کا واقعہ کرے گا تو یہ بین الاقوامی قانون ہے کہ اس کو ہم جواب دے سکتے ہیں اور ہمیں ایسا کرنا چاہیے، افغانستان کی حکومت کے حوالے سے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں باقاعدہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی اور سے بات کرنے کے بجائے افغانستان کی حکومت سے بات کی جائے اور ہم ان سے بات کریں گے، جہاں تک دھمکی کا تعلق ہے تو مخصوص طور پر کبھی کسی کو اور کبھی کسی کو دی جاتی ہیں لیکن عمومی خطرہ تو ہے، اس بارے میں جو اقدامات پہلے کرنے چاہئیں وہ ہم کر رہے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا اسلام آباد پولیس پہلے سے بہتر طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل ہوئی ہے اور نبھا رہی ہے، اسلام آباد پولیس کا مطالبہ تھا کہ ان کی تنخواہ پنجاب پولیس کے برابر کیا جائے تو ان کے مطالبات پورے کیے گئے ہیں اور جو چند ایک رہ گئے ہیں وہ بھی پورے کیے جائیں گے، پارلیمنٹ کے اوپر حملے کا معاملہ میڈیا پر اٹھایا گیا، یہ خوف و ہراس پھیلانے کا باعث تھا اور یہ بھی دہشت گردی کا ایک عنصر ہے کہ لوگوں کو دہشت زدہ کیا جائے تو یہ ملزمان بھی گرفتار کر لیے گئے ہیں، اس حوالے سے تفتیش جاری ہے اور جیسے ہی تفتیش مکمل ہوگی تو میڈیا کو بتایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے دو افسران کو قتل کیا گیا اور ان میں سے ایک نوید سیال کو میں ذاتی طور پر جانتا تھا جنہوں نے بڑے بڑے ٹاسک اپنی جان پر کھیل کر پورے کیے لیکن کل ان پر دہشت گردی کا حملہ ہوا اور وہ شہید ہوگئے، یہ ایک بہت بڑا نقصان تھا اور ریاست کی انسداد دہشت گردی کی جنگ ہے اس میں نوید سیال کی شہادت ناقابل تلافی نقصان ہے، ایسی کوششیں ہوتی ہیں جس کو پبلک نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کچھ ہو نہیں رہا بلکہ بہت کچھ ہو رہا ہے کیونکہ پاکستان جس جغرافیائی حدود میں ہے، وہاں ان شہدا کی قربانیوں کی وجہ سے ممکن ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے شوبز سے وابستہ افراد پر الزامات اور آڈیو لیکس سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ آڈیو لیکس میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی آڈیو بنیادی طور پر بڑے خراب ہیں، وہ تو ٹھیک ہی ہوئی ہیں بلکہ ان کی خرابی کردار کی اور آگے اس ملک اور قوم کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں وہ اس سے بھی زیادہ ہے،قوم کو ایسے لوگوں سے آگاہ ہونا چاہیے، جن کا کردار اتنا گھٹیا ہو اور وہ کہیں کہ قوم ہمیں لیڈر مانے تو ان کی شناخت کرنی چاہیے،ان کا قانونی اور اخلاقی پہلو ہوتا ہے اور اگر اس میں ایک آدمی کا کردار سامنے آتا ہے تو یہ کہنا ہے قانونی کارروائی نہ ہوئی تو کچھ نہیں ہوا بلکہ جب چیزیں سامنے آتی ہیں تو بہت کچھ ہوتا۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ یا تو کوئی چیلنج کرے اور کہے کہ یہ غلط ہے، ہم نے اپنے طور پر اس کی فرانزک کرائی ہے ساری چیزدرست ہیں،فوجی افسران پر الزامات سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ سیاست دانوں کے لیے اس حد تک جائز ہے کہ سیاست دان اپنا دفاع کرنے، جواب دینے اور جوابی الزام لگانے کے لیے آزاد ہوتے ہیں لیکن کسی سرکاری ادارہ اور خاص طور پر قانون نافذ کرنے والا ادارہ یا فوج سے سروس چھوڑنے کے دو سال بعد تک ان کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ آکر اپنا دفاع کرے یا میڈیا پر بیان دے۔
خیال رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے دھمکی آمیز بیان میں حکمراں اتحاد کی 2 بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے پر غور کر نے کا اعلان کیا تھا۔ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کافی عرصے سے ٹی ٹی پی نے کسی سیاسی پارٹی کے خلاف اقدام نہیں کیا ہے مگر بدقسمتی سے موجودہ حکومت کی قیادت پر معلوم نہیں امریکا کا جادو کیسے چل پڑا ہے کہ بلاول صاحب نے اپنی ماں کی محبت کی پیاس بجھانے کے لیے امریکا کو ماں کا درجہ دیا اور اس بوڑھی ماں کی محبت میں آپے سے باہر ہوکر ٹی ٹی پی کے خلاف اعلان جنگ کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا اگرچہ بلاول صاحب ابھی کم سن ہیں، اس بیچارے نے ابھی تک جنگ کی کیفیت کا مشاہدہ نہیں کیا ہے، دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی نہ جانے کس تصور میں امریکا کی خوشنودی کی خاطر ٹی ٹی پی کے خلاف طبل جنگ بجا کر پوری پارٹی کو اس جنگ میں دھکیل دیا،ٹی ٹی پی کی جانب سے انتباہ جاری کرتے ہوئے مزید کہا گیا کہ ’لہٰذا ٹی ٹی پی برسراقتدار مسلط کردہ ٹولوں (پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن) کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانے پر غور کر رہی ہے، اگر یہ 2 پارٹیاں اپنے مؤقف پر ڈٹی رہیں اور فوج کی غلامی کا نشہ ان کے دماغ سے نہ نکلا تو پھر ان کے سرکردہ لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور عوام ایسے سرکردہ لوگوں کے قریب جانے سے اجتناب کریں۔
واضح رہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے دھمکی آمیز بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب گزشتہ چند ماہ کے دوران ملک میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہوچکی ہے، 28 نومبرکو ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے فوراً بعد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا ایسا غیر معمولی سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں صرف دسمبر کے دوران 2 درجن سے زائد حملے رونما ہوئے،ملک میں دہشت گردی کے حملوں میں اضافے کے بعد پاکستان افغانستان کے حکام پر دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔
وزیر داخلہ نے 30دسمبر کو ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا کے جن علاقوں میں ٹی ٹی پی کی موجودگی ہے، ان کو کلیئر کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے،اگر افغانستان ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر کارروائی نہیں کرتا تو پھر بین الاقوامی قانون کے تحت یہ حق حاصل ہے کہ اگر کوئی دہشت گروہ کسی اور علاقے میں موجود اپنے ٹھکانے سے حملہ کرنے کا منصوبہ کرے تو اس پر حملہ کیا جاسکتا ہے۔
دریں اثنا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں نام لیے بغیر افغانستان کی طالبان حکومت پر زور دیا گیا تھا کہ کسی بھی ملک کو دہشت گردوں کے لیے کوئی پناہ گاہ یا سہولت فراہم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، پاکستان اس حوالے سے اپنے شہریوں کی حفاظت کے تمام حقوق محفوظ رکھتا ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نےگزشتہ روز 3جنوری کو کہا تھا کہ تحریک طالبان افغانستان ایک حقیقت ہے جبکہ تحریک طالبان پاکستان ایک فتنہ ہے، ہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ہم عمران خان کی پالیسی نہیں مانتے، ہم پاکستان میں آئین کی رٹ قائم کریں گے اور دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لیں گے، پرامن لوگوں کے لیے سو بسم اللہ لیکن دہشت گردوں کو میں، حکومت یا عوام کوئی بھی ماننے کو تیار نہیں ہے۔
