ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کا خطرہ، کمپنیوں نے خبردار کر دیا

پاکستان میں آکسیجن بنانے والی کمپنیوں نے خبردار کیا ہےکہ کورونا کی موجودہ لہر کے دوران اگر آکسیجن کی صنعتی شعبےکو فراہمی نا روکی گئی تو اسپتالوں میں شدید کمی ہو سکتی ہے۔
حکام نے یہ خطرہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر اسپتالوں کو مسلسل آکسیجن کی فراہمی نا ہوئی تو بھارت جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔آکسیجن بنانے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ عام حالات میں ایک مہینے کا اسٹاک رکھتے ہیں لیکن موجود صورتحال میں انہیں روزانہ کی بنیاد پر اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرنا پڑ رہی ہے۔
پاکستان آکسیجن لمیٹڈ کے مطابق ملک میں پانچ کمپنیاں ہیں جو اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرتی ہیں، موجودہ حالات میں وہ اپنی 100 فیصد پیداوار دے رہی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں کورونا کیسز بڑھے تو آکسیجن بنانے والی کمپنیوں پر دباؤ بڑھ جائے گا۔
دوسری طرف بھارت میں مسلسل تیسرے روز کرونا کے ریکارڈ کیسز اور اکسیجن کی قلت سے اموات کا سلسلہ جاری ہے.
بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھرمیں کورونا کے ریکارڈ 3 لاکھ 46 ہزار 786 کیسز رپورٹ ہوئے اور 2624 اموات ہوئیں جس سے بھارت میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد ایک کروڑ 66 لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ اموات ایک لاکھ 89 ہزار سے زیادہ ہیں۔بھارتی میڈیا کا بتانا ہےکہ گزشتہ 5 روز کے دوران دارالحکومت نئی دہلی کے تمام اسپتالوں کے آئی سی یو مکمل طور پر بھر چکے ہیں جب کہ اسپتال حکام کا بتانا ہےکہ کچھ تشویشناک مریضوں کو فی منٹ 40 سے 50 لیٹر آکسیجن کی ضرورت ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے جے پور گولڈن اسپتال میں آکسیجن سپلائی نہ ملنے سے 20 مریض انتقال کرگئے جب کہ امرتسر میں بھی آکسیجن کی قلت سے گزشتہ 48 گھنٹوں میں 5 مریض جان سے گئے۔مریضوں کے لیےآکسیجن سپلائی یقینی بنانے کے لیے ریاست اترپردیش میں ٹرین کے ذریعے 30 ہزار لیٹر آکسیجن منگوائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ بھارتی شہر بنگلورو میں کورونا میں مبتلا 61 سالہ شخص نے اسپتال میں خود کو پھندا لگا کر خودکشی کرلی۔بھارتی ریاست کرناٹکا کی حکومت نے وبا پر قابو پانے کے لیے ویک اینڈ لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button