بھارت کی طرح پاکستان میں بھی کرونا بےقابو ہونے کی وارننگ

جان لیوا وائرس کے خلاف برسر پیکار طبی ماہرین نے وفاقی حکومت کو وارننگ دی ہے کہ اگر ملک بھر میں کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرتے ہوئے فوری اور مکمل لاک ڈاؤن نہ لگایا گیا تو یہ موذی وائرس اگلے ایک مہینے میں بھارت کی طرح پاکستان میں بھی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت میں بری طرح کرونا وائرس پھیل جانے کے بعد وہاں اس سے متاثر ہونے والوں کی یومیہ تعداد تین لاکھ سے زائد ہے جبکہ یومیہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہزار سے زائد ہے۔ چنانچہ مردوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ اپنے پیاروں کی لاشیں جلانے کے لئے لوگ لمبی قطاروں میں کھڑے ہوکر بکنگ کروا رہے ہیں۔ ان حالات میں طبی ماہرین نے حکومت پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ بھارت کی طرح کرونا وائرس پاکستان میں بھی تیزی سے اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے اور اگر حالات کنٹرول کرنے کے لیے فوری طور پر ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو یہاں بھی کرونا کی صورت حال عید کے بعد بھارت جیسی ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے دس روز سے پاکستان میں کرونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس موذی وائرس سے یومیہ ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد ہو چکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے فوجی جوانوں کو سڑکوں پر لانے کا فیصلہ اسی وارننگ کے بعد کیا گیا ہے تاہم طبی ماہرین کا اب بھی اصرار ہے کہ انسانی المیہ سے بچنے کے لیے ملک بھر میں کم از کم دو ہفتوں کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کردیا جائے تاکہ پاکستان میں بھارت جیسی خوفناک صورتحال پیدا نہ ہوسکے۔
یاد رہے کہ ہمسایہ ملک بھارت میں کرونا کی نئی لہر نے نظام زندگی مفلوج کردیا ہے، یومیہ نئے کیسز اور ہلاکتیں نئے ریکارڈ بنا رہی ہیں اور اب تک کرونا سے دو لاکھ کے قریب لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ صرف دو ماہ قبل وزیر اعظم مودی بھارتی عوام کو کورونا کے خلاف جنگ جیتنے کی نوید سنا رہے تھے، اور دنیا کو اپنی مثال پیش کررہے تھے۔ بھارت کی جانب سے دنیا بھر کو کرونا ویکسین کی فروخت کے ریکارڈ سودے کیے گے تھے، پھر آخر کیا ہواکہ آنا فاناً ہندوستان کرونا وبا کا گڑھ بن گیا۔ آج دنیا بھر کا میڈیا بھارت میں کرونا کی تباہ کن صورت حال پر بات کر رہا یے جہاں یہ وائرس ایک ڈراؤنا خواب بن گیا ہے، ظلم یہ ہے کہ ایک ارب سے زائد لوگوں پر مشتمل آبادی کے ملک بھارت میں صرف ایک عشاریہ 32 فیصد عوام نے ویکسی نیشن کروائی ہے۔ لیکن پاکستان میں صورتحال اس سے بھی بری ہے کیونکہ یہاں صرف بیرون ملک سے امداد کے طور پر آنے والی ویکسینیشن کا استعمال کیا جا رہا ہے اور دنیا کے دیگر ممالک کی طرح عوام کو ویکسینیشن کی فری سہولت فراہم نہیں کی جارہی۔ پاکستانی طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے تو خود کرونا ویکسین تیار کرلی تھی لیکن پھر بھی وہاں پر وبا کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہو گئی چاننچی ان حالات میں اگر پاکستان میں ایسی صورتحال پیدا ہوگئی تو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
دوسری جانب گذشتہ چند روز سے ہمسایہ ملک انڈیا سے آنے والی افسوسناک خبریں دیکھ کر پاکستانیوں کے دل بھی پگھلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے کیسز اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد میں حالیہ دنوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر دونوں ملکوں کے شہریوں کے درمیان عموماً ہر معاملے پر نوک جھونک جاری رہتی ہے تاہم کرونا کے معاملے پر حالات مختلف نظر آتے ہیں اور پاکستانی صارفین انڈین شہریوں کی خیریت کے لیے فکرمند دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان میں گذشتہ 36 گھنٹوں سے انڈیا کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی قلت، ملک میں کووڈ 19 کی بگڑتی ہوئی مجموعی صورتحال اور انڈیا میں وفاقی حکومت پر ہونے والی تنقید سے متعلق ٹرینڈز ٹاپ پر ہیں۔ بیشتر پاکستانی صارفین اس مشکل وقت میں اپنے ہمسایوں کے لیے نیک تمناؤں سے بھرے پیغامات پوسٹ کر رہے ہیں۔ 2019 کے دسمبر میں چین کے صوبہ ہوبائی سے شروع ہونے والی اس وبا نے کئی ممالک میں ڈیرے ڈالے اور تباہی پھیلائی۔ ہوبائی کے بعد اس کا پہلا مرکز اٹلی تھا، جہاں وبا کے آغاز میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی۔ وہ انڈیا جہاں فروری 2012 کے وسط تک یومیہ صرف 14 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہو رہے تھے، وہاں گذشتہ دس روز سے تین لاکھ سے زیادہ کیسز روزانہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔ انڈیا سے دل دہلا دینے والی رپورٹس اور تصاویر سامنے آنے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا صارفین بھی اس حوالے خاصے پریشان دکھائی دیتے ہیں اور اس حوالے سے بحث جاری ہے۔ جہاں پاکستانی صارفین انڈین شہریوں کے لیے دعائیں کر رہے ہیں وہیں یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ اب جبکہ کرونا وبا شدت سے ہمارے پڑوسی ملک میں پھیل چکی ہے تو پاکستانی حکومت اس سے سبق کیوں نہیں سیکھ رہی ہے۔
ایک انڈین صارف نے لکھا کہ ‘خدا دونوں ملکوں پر رحم کرے، ایسے حالات کسی کو نہ دیکھنے پڑیں۔’
ایسے میں اکثر صارفین وفاقی حکومت سے انڈیا میں آکسیجن کی قلت پوری کرنے کے لیے فوری مدد کی اپیل کرتے رہے۔
سماجی کارکن اسامہ خلجی نے لکھا کہ ‘میں ان ہزاروں پاکستانی شہریوں کے ساتھ مل کر حکومت سے انڈیا کی مدد کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔ مجھے دل کی گہرائیوں سے خوشی ہے کہ ’انڈیا کو آکسیجن چاہیے‘ اور انڈین زندگیاں بھی قیمتی ہیں جیسے موضوعات پر ٹرینڈّز پاکستان میں مقبول ہو رہے ہیں۔ صحافی وجاہت کاظمی نے لکھا کہ ‘انڈیا میں صورتحال دل دہلا دینے والی ہے۔ خدا کرے کے ہر کوئی کووڈ سے صحتیاب ہو جائے اور اس سے محفوظ رہیں۔ انڈیا کے لیے دعائیں۔‘ ایک صارف نے لکھا کہ ‘سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن ہم پاکستانیوں کی دعائیں انڈین بھائی بہنوں کے ساتھ ہیں۔ اللہ سب کو صحت دے۔’ اکثر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین انڈیا کی صورتحال پر کی جانے والی ٹویٹس کے بارے میں تبصرے کرتے ہوئے یہ کہتے دکھائی دیے کہ ہمیں اس صورتحال سے سبق سیکھنا ہو گا، کہیں کل پاکستان میں بھی صورت حال ایسی نہ ہو جائے۔
