انڈیا نے کرونا پھیلانے کا مدعا بھی پاکستان پر ڈال دیا

بھارتی حکام نے اپنی پاکستان مخالف روایتی الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اب انڈیا میں کرونا وائرس پھیلانے کا الزام بھی پاکستان پر عائد کر دیا ہے حالانکہ یہ حقیقت ہر کوئی جانتا ہے کہ بھارت اس وقت دنیا میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ چند ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔
پاکستان میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد واپس انڈیا جانیوالے سکھ یاتریوں میں سے بڑی تعداد کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آنے کی خبروں کے بھارتی الزمات کو پاکستان متروکہ وقف املاک بورڈ نے مضحکہ خیز قرار دے دیا ہے، بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر عامراحمد کا کہنا ہے کہ پاکستانی بارڈرکراس کرتے ہی سکھ یاتریوں کا کرونا میں مبتلا ہو جانا سمجھ سے بالاترہے ۔ اس الزام کے بعد متروکہ وقف املاک بورڈ نے دس دن تک بھارتی سکھ یاتریوں کی خدمت پر مامور رہنے والے بورڈ کے افسران ،ملازمین اور پاکستان میں قائم سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے رہنماؤں کے کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت کر دی ہے۔ یاد رہے کہ 24 اپریل کو پاکستان سے 816 بھارتی سکھ یاتری اپنی دس روزہ مذہبی یاترامکمل کرنے کے بعد واہگہ بارڈر کے راستے واپس گئے تھے ۔ بعد ازاں یہ خبر آئی کہ بھارت کے اٹاری بارڈر پر واپس جانے والے سکھ یاتریوں کی کرونا سکریننگ کے دوران 200 یاتریوں میں کرونا کی علامات پائی گئیں۔ لیکن ان یاتریوں کو گھروں کو جانے کی اجازت دیتے ہوئے بھارتی حکام نے ہدایت کی ہے کہ وہ خود کو اپنے گھروں میں ہی کورنٹائن کرلیں۔ واضح رہے کہ بھارتی سکھ یاتری 12 اپریل کو واہگہ بارڈرکے راستے پاکستان آئے تھے اور آنے سے 48 گھنٹے قبل انہوں نے اپنے کرونا ٹیسٹ کروائے تھے، جن کے نیگٹو آنے کے بعد ہی انہیں پاکستان آنے کی اجازت ملی تھی۔
پاکستان متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر عامراحمد نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ بھارت کی طرف سے سکھ یاتریوں کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آنے کی خبر مضحکہ خیز یے۔ انکا کہنا تھا کہ بھارتی مہمان 10 دن یہاں رہے۔ ہماری میڈیکل ٹیمیں ان ک ساتھ رہیں اور اس دوران کسی ایک بھی سکھ یاتری نے ایسی کوئی شکایت نہیں کی کہ اسکی طبیعت خراب ہے۔ پھر یہاں قیام کے بعد وہ خود اپنے پاؤں پر واپس اپنے ملک گئۓ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ بارڈرعبور کرنے کے آدھے گھنٹے بعد ایسا کیا ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں ان کے کرونا ٹیسٹ پازیٹوآگئے، یہ عقل سے بالا ہے اور میں اس دعوے کوتسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی سکھ یاتریوں کی آمد کے دوران مقامی سنگتوں کو ان سے علیحدہ رکھا گیا،اس کے باوجود اگر بھارتی حکومت سکھ یاتریوں کو لیکر کوئی پراپیگنڈا کررہی ہے تو وہ اس کو مسترد کرتے ہیں، انکا کہنا تھا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ اور دیگراداروں نے دس دن تک دل وجان سے ان سکھ یاتریون کی خدمت کی۔عامر نے کہا کہ ان یاتریوں کے ساتھ ہمارے جو لوگ رہے بشمول کھانا تیار اور تقسیم کرنیوالے، انکی تعداد 200 سے زائد ہے لیکن ان میں سے اب تک کسی کو بھی کرونا وائرس نہیں لگا۔ لیکن حفظ ماتقدم کے طور پر ان کے کرونا ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ دوسری طرف بھارتی پنجاب کے چیف سرجن ڈاکٹرچرن جیت کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ پاکستان سے واپس آنیوالے جتھے کی اٹاری بارڈر پر سکینگ کی گئی تو ان میں سے 200 یاتریوں کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آیا، تاہم پاکستان سکھ گوردوراہ پربندھک کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا کہ بھارت اسی بھونٖڈے طریقے سے سکھوں کے خلاف بھی پراپیگنڈا کرنا چاہتا ہے جیسے ماضی میں دہلی میں تبلیغی جماعت پر کرونا پھیلانے کا الزام لگایا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ ایسا الزام لگا کر بھارتی حکام چاہتے ہیں کہ سکھ یاتری پاکستان آنے سے گریز کریں۔
