جسٹس فائز کی اہلیہ نے صدر علوی کو خط میں کیا لکھا؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے صدر عارف علوی کے نام ایک کھلے خط میں سرینا ہوٹل کراچی میں حالیہ خودکش حملے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایسے واقعات نہ رکنے کی بنیادی وجہ 2016 میں ان کے شوہر کی جانب سے دہشت گردی روکنے کے لیے دی گئی تجاویز پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔
اپنے خط میں سرینا عیسی کا کہنا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے کوئٹہ انکوائری کمیشن کی تجاویز پر عمل کر کے کوئٹہ میں ہونے والے خودکش حملے اور دوسرے کئی ایسے واقعات کو روکا جا سکتا تھا۔ یاد رہے کہ اگست 2016 میں کوئٹہ کے ایک سینئیر وکیل بلال انور کاسی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی تھی اور جب انہیں ہسپتال لے جایا گیا تو وہاں وکلا کی بڑی تعداد جمع ہو گئی، اس موقع پر وہاں ایک خود کش دھماکہ ہوا جس میں وکلا کی بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوگئی تھی۔
سپریم کورٹ نے اس واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اسرار پر اس مخصوص واقعے اور دہشت گردی کی تحقیقات کے لیے قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل کوئٹہ انکوائری کمیشن بنایا تھا۔ کمیشن نے ایک جامع رپورٹ پیش کی تھی جس میں بلال انور کاسی کے قتل اور اس کے بعد ہونے والے خود کش حملے میں ملوث گروہ اور افراد کی تفصیلات فراہم کی گئی تھیں جبکہ ملک میں اس وقت جاری دہشت گردی کی کاروائیوں کے روک تھام کے لیے بھی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔
سرینا عیسیٰ نے اپنے خط میں ان واقعات کے ساتھ ساتھ ہزارہ برادری کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کا حوالہ بھی دیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ایک اکیلا جج تو جرم میں ملوث لوگوں کا سراغ لگانے میں کامیاب رہتا ہے، لیکن صدر صاحب آپکی تمام انٹیلی جنس ایجنسیاں ڈھیروں وسائل ہونے کے باوجود ایسا نہ کر سکیں۔‘ خط میں سرینا عیسیٰ نے کوئٹہ خود کش حملے کے بعد سرکاری ایمبولینسز کے تاخیر سے پہنچنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے رضاکارانہ طور پر کام کیا، این جی اوز کی ایمبولینسز بروقت وہاں موجود تھیں، جبکہ جائے وقوعہ کا کینٹونمنٹ کے علاقے میں ہونے کے باوجود فوج کی ایمبولینسز بروقت نہ پہنچ پائیں۔ انہوں نے لکھا کہ
مجھے خود ساختہ وی آئی پیز کے قافلوں میں نئی اور جدید ترین ایمبولینسز کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ جناب صدر آپ کو یقیناً معلوم ہو گا کہ اسلام میں کوئی وی آئی پی نہیں ہے۔‘
واضح رہے کہ سرینا عیسیٰ آج کل سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ کے سامنے اپنے شوہر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظر ثانی درخواست میں اپنے اثاثوں سے متعلق دلائل دے رہی ہیں۔
اس سے پہلے صدر عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک نااہلی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا تھا، جس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے جج نے اعلیٰ عدالت میں نظر ثانی کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔
