یورپی یونین نےقرآن پاک کی بیحرمتی کو اشتعال انگیزی قرار دیدیا

سویڈن میں ہونے والی گھناؤنی حرکت کو یورپی یونین نے کھلم کھلا اشتعال انگیزی قرار دے دیا ۔ایک بیان میں یورپی یونین نے واضح کیا کہ ایسے غیر مہذبانہ فعل کی یورپ میں کوئی جگہ نہیں ،یہ کسی بھی طرح یورپی ممالک کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتا ۔
یورپی یونین نے کہا ہےسویڈن میں قرآن پاک کی بےحرمتی جارحانہ عمل ہے،قرآن مجید کی بےحرمتی اشتعال انگیز فعل ہے۔
بیان کے مطابق مذہب،عقیدےاوراظہاررائے کی آزادی کےلیے کھڑے ہیں،وقت آگیاباہمی افہام وتفہیم،احترام کےلیےساتھ کھڑے ہوجائیں۔ادھراقوام متحدہ کے تہذیبوں کے اتحاد کے اہم عہدیدار MIGUEL MORATINOS نے سویڈن میں ایک مسجد کے باہر قرآن پاک کے اوراق کونذرآتش کرنے کے مذموم فعل کی شدید مذمت کی ہے ۔
تنظیم کے نمائندے نے ایک بیان میں کہا کہ اس فعل سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے اور اظہار رائے کی آزادی کوبنیادی انسانی حقوق کے طورپر برقراررکھنے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔انہوں نے مذہبی مقامات کے تحفظ کیلئے اقوام متحدہ کے ایکشن پلان کا حوالہ دیا ۔
واضح رہے کہ عید الاضحیٰ کے پہلے روز سویڈن کے دارالحکومت کی ایک مرکزی مسجد کے سامنے عراق سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ پناہ گزین سلوان مومیکا نے قرآن پاک کو آگ لگانے کی جسارت کی تھی۔ملعون شخص نے یہ ناپاک جسارت پولیس اور سکیورٹی فورسز کے حفاظتی حصار میں انجام دی۔
ملعون سلوان مومیکا نے آئندہ 10 دنوں میں سویڈن میں عراق کے سفارتخانے کے سامنے عراق کے جھنڈے سمیت قرآن کا نسخہ دوبارہ نذر آتش کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔یاد رہے کہ قرآن پاک کی بے حرمتی پر مسلم ممالک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور چند ممالک نے اپنے سفیروں کو سوئیڈن سے واپس بلا لیا جبکہ کئی ممالک نے سویڈن کے سفیر کو طلب کرکے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔
