مسجد نبوی کے واقعے نے عمران کو آسمان سے زمین پر کیسے گرایا؟


معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ مسجد نبوی میں تحریک انصاف والوں نے جو توہین آمیز عمل کیا اس نے عمران خان کو انکے امریکی سازش کے بیانیے سمیت آسمان سے زمین پر گرا پھینکا ہے۔ اپنے سیاسی تجزیہ میں حامد میر کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کے افسوس ناک واقعے میں عمران کے ساتھیوں اور حامیوں کا رول کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ انکے کئی قریبی ساتھیوں نے مسجد نبوی میں نعرے بازی اور گالی گلوچ پر خوشی کا اظہار کیا لیکن علماء کرام کی اکثریت نے اس توہین آمیز حرکت کی شدید مذمت کی ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ عمران خان اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد امریکی سازش کا جو بیانیہ لیکر نکلے تھے اس نے ان کے حامیوں میں واقعی جوش اور ولولہ پیدا کیا تھا۔ وہ لوگ جو عمران سے ناراض ہو چکے تھے، دوبارہ ان کے ساتھ کھڑے ہو رہے تھے اور ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا تھا، لیکن مسجد نبوی کی توہین نے عمران خان کو دوبارہ آسمان سے زمین پر گرا دیا ہے۔ اس واقعے نے مجھ جیسے گناہ گار انسان کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ 27 ویں رمضان کی شب جو مسلمان مسجد نبوی میں عبادت کرنے کی بجائے سیاسی نعرے بازی کرتا ہے اور چور چور کی آوازیں بلند کرتا ہے اس کے اندر کا ایمان سلامت بھی تھا یا نہیں؟
حامد میر کہتے ہیں کہ مسجد نبوی میں ہونے والے واقعے کو شیخ رشید کے بھتیجے راشد شفیق نے اسی مسجد میں کھڑے ہو کر عمران کی فتح قرار دیا لیکن حقیقت میں اس واقعے سے عمران کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے اور ملک بھر میں اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اس واقعے کے 24 گھنٹے کے اندر حمزہ شہباز کا حلف مکمل ہو گیا۔ اب مرکز اور پنجاب میں تبدیلی آچکی ہے۔ یہ عید الفطر شہباز شریف اور انکے خاندان کے لیے خوشیوں سے بھرپور رہی۔ باپ وزیراعظم بن گیا اور بیٹا سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ بن گیا لیکن مجھے علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آ رہا ہے،
وطن کی فکر کر ناداں، مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
بقول حامد میر، پچھلے سال اکتوبر میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تحریک عدم اعتماد پر بات چیت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی تو میں نے ان دونوں جماعتوں کی قیادت سے پوچھنا شروع کیا کہ پہلے مرکز میں تحریک عدم اعتماد آئے گی یا پنجاب میں؟ پہلے اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئے گی یا وزیراعظم کے خلاف؟ میرا سوال سن کر کہا جاتا، بھائی خاموش رہو، ہم چپ چاپ اپنے کام میں لگے ہیں، سوال پوچھ کر ہمارے دشمنوں کو خبردار نہ کرو۔
آصف زرداری اور شہباز شریف سارا ہوم ورک خاموشی سے کر رہے تھے۔ جب میں نے 12 جنوری 2022ء کو اپنی ایک تحریر میں قارئین کو ”تبدیلی سرکار میں بغاوت‘‘ کی خبر دی تو کئی باخبر صحافیوں نے میرا مذاق اڑایا۔ ان دنوں مجھ پر جیو ٹی وی نے پابندی عائد کر رکھی تھی۔ جیو اور جنگ کے کچھ ساتھیوں نے رعونت آمیز انداز میں دعویٰ کیا کہ کمپنی تو یہی چلے گی اور عمران کی حکومت قائم رہے گی۔ جنوری اور مارچ 2022ء کے پہلے ہفتے تک آپ روزنامہ جنگ، روزنامہ ایکسپریس اور روزنامہ دنیا میں شائع ہونے والے کالموں کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ بہت سے باخبر صحافی یہ لکھ رہے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ ہے اور تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو گی۔ انہی دنوں عمران خان کے ایک قریبی ساتھی یوسف بیگ مرزا کے گھر پر میری تب وفاقی وزیر حماد اظہر سے ملاقات ہوئی۔ حماد اظہر کے والد میاں اظہر کے ساتھ میری بڑی نیازمندی رہی ہے۔
کاشف عباسی، محمد مالک، عامر متین، رانا جواد اور کچھ دیگر دوستوں کی موجودگی میں حماد اظہر نے کہا کہ آپ مجھ سے شرط لگا لیں ہماری حکومت کہیں نہیں جا رہی۔ ان کے اعتماد کی وجہ یہ یقین تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے کچھ مایوس ضرور ہے لیکن ابھی تک عمران خان کے ساتھ ہے۔ میں نے شرط لگا لی کہ عمران کی حکومت قائم نہیں رہے گی کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ ایم کیو ایم، بی اے پی اور مسلم لیگ (ق) عمران خان کا ساتھ چھوڑنے والی ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ چودھری پرویز الٰہی سے متعلق میرا اندازہ غلط نکلا۔ چودھری شجاعت حسین میری توقع سے بھی زیادہ اپنے قول کے پکے نکلے۔ جس دن قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد کے خلاف رولنگ دی تو مجھے حماد اظہر کا پیغام ملا کہ وہ شرط جیت چکے ہیں اور اب مجھے انہیں کھانا کھلانا ہے۔ میں نے جواب بھیجا کہ کچھ دن انتظار کر لیں۔ پھر جب ان کی حکومت ختم ہو گئی تو میرے کئی صحافی دوستوں نے اسٹیبلشمنٹ کی سازشیں تلاش کرنا شروع کر دیں۔ وہ جو جنوری اور فروری میں بڑے اعتماد سے لکھ رہے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ عمران کے ساتھ ہے، انہوں نے مارچ اور اپریل میں پلٹا کھا کر فوج پر عمران کے خلاف سازشوں کے الزامات لگانے شروع کر دیئے۔
حامد میر کے مطابق عمران خان نے کمال یہ کیا کہ ایک طرف تو نئی حکومت کو آئینی بحران میں پھنسا دیا اور دوسری طرف امپورٹڈ حکومت نامنظور کا نعرہ لگا کہ اپنی نااہلیوں کو امریکی سازش کے بیانیے میں چھپا لیا۔عمران اور ان کے ساتھی ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسی سال حکومت میں واپس آ جائیں گے لیکن حمزہ شہباز کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد صورتحال تیزی سے تبدیل ہو گی۔ عید کے بعد ایک طرف عمران اور ان کے کچھ ساتھیوں کے لیے سختیاں شروع ہونے والی ہیں تو دوسری طرف نئے حکمرانوں کو بھی کئی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مسجد نبوی کی توہین کے واقعے نے نئے حکمرانوں کو اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ جارحیت بہترین دفاع ہے۔ عمران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف نئے مقدمات قائم ہونے والے ہیں اور کچھ گرفتاریاں بھی ہوں گی۔یہ مقدمات اور گرفتاریاں انتقامی کارروائیاں قرار دی جائیں گی۔انتقامی کارروائیوں کا واویلا اور ماتم کچھ ماہ پہلے تک مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کرتے تھے۔ نیب نیازی گٹھ جوڑ کے نعرے لگتے تھے۔ اب یہ ماتم تحریک انصاف کرے گی اور نیب شہباز شریف گٹھ جوڑ مردہ باد کے نعرے لگائے گی۔ شہباز شریف یاد رکھیں کہ وہ پانچ سال کے لیے حکومت میں نہیں آئے۔ وہ زیادہ سے زیادہ ایک سال کے لیے آئے ہیں اور کچھ دنوں کے بعد انہیں بجٹ دینا ہے۔ شہباز شریف کو اپنی توجہ معیشت پر رکھنی ہو گی۔ وہ سعودی عرب سے اچھی خبریں لائے ہیں۔ انہیں چین، امریکہ، اور یورپی یونین سے بھی اچھی خبریں لانا ہیں۔ انہیں پاکستانی عوام کو آئی ایم ایف کی شرائط کے زخموں سے بچانا ہے۔ معیشت سنبھل جائے، مہنگائی قابو میں آ جائے اور انتخابات سے پہلے پہلے اہم اصلاحات کا اعلان ہو جائے تو عمران خان کسی کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اگر معیشت کو سنبھالنے کی بجائے ساری توجہ تحریک انصاف کو دبانے پر لگا دی گئی تو پھر شہباز شریف کا انجام عمران خان سے زیادہ برا ہو گا۔ عمران کو کسی اور نے نہیں خود عمران نے نکالا ہے۔ لہذا شہباز شریف کو عمران نہیں بننا۔ اگر انہوں نے بھی عمران خان کی طرح صرف انتقام کی سیاست کی تو عید کے بعد کھڑی ہونے والی مصیبتیں ان کے لیے طوفان بھی بن سکتی ہیں۔

Back to top button