علیم خان کا الزامات پرعمران خان کو مناظرے کا چیلنج

تحریک انصاف کے باغی رکن عبدالعلیم خان نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے الزامات پر انہیں مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہاہے کہعمران خان کا انٹرویو دیکھا،انہوں نے الزام لگایا کہ علیم خان 300 ایکڑ زمین لیگلائز کروانا چاہتا تھا، میں 2010 سے 2018 تک اپوزیشن میں عمران خان کے ساتھ کھڑا رہا، یہ سوسائٹی 2010 میں بھی میرے پاس تھی جو آج بھی میرے پاس موجود ہے، عمران خان میرے والد کی وفات پر اس سوسائٹی میں آئے تھے۔
لاہورمیں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران علیم خان کا کہنا تھا پہلے مجھے پتہ چل گیا تھا کہ عمران خان 2018 میں وزیراعظم ہوں گے، میرے پاس 300 ایکٹر نہیں 3000 ایکڑ زمین ہے، میں نے زمین ایکوائر نہیں کروائی بلکہ پرائیویٹ زمینداروں سے خریدی ہے، یہ زمین اب روڈا کے پاس ہے یہ اتھارٹی عمران خان نے بنائی، یہ زمینیں روڈا نے سرکاری قیمت پر خرید کر پرائیویٹ ڈیولپرز کو کیسے دیں؟
انہوں نے کہا اب تفتیش ہونی چاہیے کہ یہ زمینیں کن ڈیولپرز کو دی گئیں، سرکاری ریٹ پر خرید کر زمینیں من پسند پرائیویٹ ڈیولپرز کو دی گئیں، ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین کے رشتہ دار بھی کیا ان ڈیولپرز میں شامل ہیں؟ سرکاری ریٹ پر زمین ایکوائر کرکے پلازے بنائے گئے، اگر روڈا کے تحت آپ کا گالف کورس بن سکتا ہے تو علیم خان کی سوسائٹی کیوں نہیں؟ اگر روڈا پراجیکٹ برائون ہے تو وہیں میری زمین کیسے گرین ہوں گی؟
علیم خان نے کہا ہر مشکل وقت میں کیا میں اس لیے کھڑا تھا کہ 300 ایکٹر کا اسٹیٹس تبدیل کروانا تھا؟ اگر میرے بارے میں غلط الزام لگائیں گے تو چپ میں بھی نہیں رہوں گا، اگر پ میرا نام تمیز سے لیں گے تو میں بھی آپ کا نام تمیز سے لوں گا، اگر آپ منہ کھلوانا چاہتے ہیں تو کسی چینل پر میرے اور جہانگیر ترین کے ساتھ بیٹھیں، پھر سب سچ بولیں تاکہ عوام کو پتہ چلے علیم خان، جہانگیر ترین اور عمران خان کا اصل چہرہ کیا ہے۔
علیم خان کا کہنا تھا عمران خان سن لیں میرے پاس اس وقت 10 ہزار ایکٹر سے زائد زمین ہے، آپ نے 300 ایکٹر پر الزام لگا دیا میری محنت اور کوشش کا یہ مول لگایا، لوگوں کے سامنے سچ بولیں اور انہیں حقائق بتائیں۔
انہوں نے کہا میں امریکی اور یورپین سفیر کو عمران خان کے گھر ملا تھا، برطانوی سفیر کو اگر آپ حکومت میں آنے سے پہلے مل سکتے ہیں تو حکومت میں کیوں نہیں، آپ ملیں تو محب وطن کوئی اور ملے تو غدار، اپنے وزرا کو دیکھیں کون سفیروں کو ملتا رہا، یہ کیا اسٹینڈرڈ ہے کہ جو آپ کے علاوہ ملا وہ غدار ہےہم مصلحت کے تحت خاموش ہیں، آپ سیاست کریں لوگوں کو ورغلائیں جھوٹ بولیں لیکن میں سچ بولوں گا۔
خیال رہے کہ عمران خان نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ علیم خان اور جہانگیر ترین کا مقصد اقتدار میں آنے کے بعد فائدہ اٹھانا تھا۔علیم خان اپنی 300 ایکڑ زمین لیگل کروانا چاہتے تھے جبکہ جہانگیر ترین کا مسئلہ شوگر کمیشن تھا۔
