کیا فحش فلموں میں عمران کا چہرہ استعمال کیا جائے گا؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی چند قابلِ اعتراض ویڈیوز کے ممکنہ طور پر لیک ہونے کی افواہوں میں تیزی آنے کے بعد تحریک انصاف نے الزام لگایا گیا ہے کہ خان صاحب کی کردار کشی کا ایک بھیانک منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جدید ترین ڈیپ فیک ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی اور کسی کے چہرے پر عمران کا چہرہ لگا دیا جائے گا۔
عمران خان کے قریبی ساتھی اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے سابق وزیرِ اعظم کی ’کردار کشی‘ کی ایک نئی مہم تیار کی جا رہی ہے جس کے لیے مبینہ طور پر ’ویڈیوز اور جعلی آڈیوز‘ کا استعمال کیا جائے گا۔ اُنھوں نے یہ دعویٰ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کیا۔ واضح رہے کہ چند دن قبل عمران خان خود بھی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ عید کے بعد اُنکی کردار کشی کی مہم شروع جائے گی۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ خبر انہیں کہاں سے ملی۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ عمران نے انھیں دو بار جیل بھیجا اور سزائے موت کی چکی میں بند رکھا لیکن وہ کسی کی کردار کشی پر یقین رکھتی ہیں نہ ہی انتقام لینے پر۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے استعمال کے الزام کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ انسان کی نجی زندگی، اس کا اور اللہ تعالیٰ کے بیچ کا معاملہ ہے، برائے مہربانی مجھے اس گند سے دور رکھا جائے کیونکہ میرا ایسے کسی معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔
لیکن پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر تبصرے کیے جا رہے ہیں کہ یہ مبینہ ویڈیوز اور آڈیوز جعلی ہوں گی جنہیں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے بنایا جائے گا اور کسی کی جگہ عمران کا چہرہ لگا دیا جائے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جو ویڈیوز لیک ہونے کو تیار ہیں ان میں جانوروں اور چھوٹے بچوں کو استعمال ہوتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کیا ہے اور فیک اور حقیقی مواد میں کیسے فرق کیا جا سکتا ہے؟ خیال رہے ایک زمانے میں انٹرنیٹ اور کمپیوٹر سے زیادہ واقفیت نہ رکھنے والوں کو فوٹوشاپ کے ذریعے تصاویر میں معمولی ردوبدل کر کے دھوکہ دینا بہت آسان ہوا کرتا تھا۔ ایسی چیزیں اب عام ہیں لیکن تصویر یا ویڈیو کو غور سے دیکھنے پر ان کے جعلی پن کو پکڑنا بہت مشکل نہیں ہوتا۔
تاہم ڈیپ فیک تصاویر اور ویڈیوز کسی انسان کے ہاتھ کی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کمپیوٹر تیار کرتا ہے۔ ڈیپ فیک تیار کرنے والے سافٹ ویئرز میں جتنی زیادہ معلومات اِن پٹ کی جائیں گی ان کا نتیجہ حقیقت سے اتنا ہی قریب تر ہو گا۔ تاہم کچھ لوگوں کے نزدیک اس ٹیکنالوجی میں فیک یعنی جعلی کا لفظ استعمال نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ کئی کمپنیاں اس کا کمرشل استعمال بھی کر رہی ہیں مثلاً خبریں پڑھنے میں، اپنے ملازمین کو مختلف زبانوں میں ٹریننگز دلوانے کے لیے وغیرہ۔ لیکن وہ ٹیکنالوجی ہی کیا جس کا غلط استعمال نہ ہو۔ اب تو دنیا بھر میں مشہور شخصیات کو ڈیپ فیک کے ذریعے پورن فلموں کا کردار بھی بنا دیا جاتا ہے اور جتنی دیر میں کوئی ان کے جعلی ہونے کا پتا لگاتا ہے تب تک خاصا نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ڈیپ فیک کردار کیسے بنائے جاتے ہیں؟ ایسی ویڈیوز بنانے کے لیے عام طور پر ایک مخصوص سافٹ ویئر کا استعمال کیا جاتا ہے۔حالانکہ لوگوں کی عام تصاویر کو جنسی نوعیت دے دینا کوئی نئی بات نہیں لیکن پھر بھی کسی فوٹو ایڈیٹنگ سافٹ ویئر کے ذریعے ایسا کرنا کافی مشکل اور محنت طلب ہوتا اور غور سے دیکھنے پر کہیں نہ کہیں جعلی تصویر پکڑی جاتی ہے۔ ویڈیوز کے لیے تو یہ کام اور بھی زیادہ مشکل تھا۔ تاہم ڈیپ فیک میں آسانی یہ ہے کہ آپ نے کمپیوٹر سافٹ ویئر کو بہت سی معلومات فراہم کرنی ہوتی ہیں، مثلاً کہ آپ کا ہدف دکھتا کیسا ہے، بولتا کیسے ہے، بولتے وقت اس کی حرکات و سکنات کیسی ہوتی ہیں، وہ کس طرح کی صورتحال میں کیا ردِ عمل دیتا ہے، وغیرہ۔ بس اس کے بعد کمپیوٹر آپ کی فراہم کردہ ویڈیو پر آپ کے ہدف کی شکل چسپاں کرنے کا کام شروع کرے گا اور اس کے لیے یہ آپ کی فراہم کردہ ان تمام معلومات کا بھرپور استعمال کرے گا۔ نتیجتاً جو ویڈیو سامنے آئے گی وہ حقیقت سے نہایت قریب تر ہو گی۔
ڈیپ فیک بنانے والے سافٹ ویئرز کا انحصار مشین لرننگ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر ہوتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں ڈیپ فیک اور حقیقی ویڈیو میں فرق کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے پروفیسر ہاؤ لی کے مطابق کہ ہم اس نقطے پر پہنچ چکے ہیں جہاں آپ ڈیپ فیک اور حقیقت میں فرق نہیں بتا سکتے۔ رواں سال فروری میں شروع ہونے والی روس یوکرین جنگ اپنے خاتمے سے ابھی دور دکھائی دیتی ہے تاہم مارچ میں ٹوئٹر پر ایک ویڈیو جاری ہوئی تھی جس میں ‘روسی صدر’ امن کا اعلان اور ‘یوکرینی صدر’ ہتھیار ڈالنے کا اعلان کرتے نظر آئے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے یہ ویڈیوز فوراً ہی ہٹا دی گئیں تاہم کہا جا رہا ہے کہ ایسا اس لیے ممکن ہوا کیونکہ ان ویڈیوز میں اتنی نفاست تھی ہی نہیں چنانچہ انھیں جعلی ویڈیو کے طور پر شناخت کر لینا کافی آسان تھا۔
ڈیپ فیک کمیونٹیز میں سب سے زیادہ مشہور اداکارہ ایما واٹسن اور نیٹلی پورٹمین کی جعلی پورن ویڈیوز ہیں۔ لیکن مشل اوباما، ایوانکا ٹرمپ اور کیٹ مڈلٹن کی پورن ویڈیوز بھی بنائی گئی ہیں۔ تاہم صرف سیاست اور پورن نہیں بلکہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی دفاع، مالیات، مذہب غرض زندگی کے ہر شعبے میں مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
ان ہی مسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیس بک اور گوگل نے حال ہی میں اپنے اپنے پلیٹ فارمز پر ڈیپ فیک کو روکنے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے پلیٹ فارم پر ڈیپ فیک ویڈیوز پر پابندی عائد کر دی ہے اور ایسی ویڈیوز کو ہٹا دیا جائے گا۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی قابل اعتراض ویڈیوز کب آتی ہیں اور کیا وہ واقعی ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا نتیجہ ہوں گی یا اصلی ویڈیوز ہوں گی؟
