زراعت ، پانی اورمعیشت کی تباہی کا ذمہ دارعمران خان ہے

پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ملک میں زراعت ، پانی اور معیشت کی تباہی کا ذمہ دار عمران خان ہے ، جو اب مجھے کیوں نہیں بچایا کی تحریک چلا رہا ہے، عمران خان عدلیہ اور اداروں پر حملے کر رہا ہے، اور آئینی و قانونی دائرے میں رہنے کے بجائے جمہوریت پر حملے کر رہا ہے۔

کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھاآصف زرداری نے جیل برداشت کی اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے، ہم نے پہلے دن کہا تھا یہ الیکٹڈ نہیں سلیکٹڈ ہے، ہم غیر جمہوری شخص کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے، سلیکٹڈ کو ملک پر مسلط کیا گیا تھا،ہم نے غیرجمہوری لوگوں کے خلاف تحریک چلا کر کامیابی حاصل کی، مشرف کے بعد اب عمران خان کے خلاف تحریک کو جیالوں نے کامیاب بنایا،آج ملک میں جمہوریت کی جیت ہوگئی ہے، جیالوں نے آمر ضیا کا مقابلہ کیا، جیالے جب میدان میں نکلتے ہیں تو کامیاب ہوتے ہیں، ہم نے سلیکٹڈ کو گھر بھیج دیا ہے،جس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔

انکا کہنا تھا سینیٹ الیکشن میں ہم نے یوسف رضا گیلانی کو جتوایا، 2018 میں وہ الیکشن نہیں سلیکشن سے آئے تھے، پارلیمان میں رہ کر ہر ضمنی الیکشن جیتا، ساتھیوں کو سمجھایا پارلیمان سے باہر نہ نکلو، پی ڈی ایم کی جب بنیاد رکھی تو کہا تھا پارلیمان کے ذریعے اس کو گھر بھیجیں گے، ہم نے اپنی سیاسی مخالفت بھول کر پی ڈی ایم قائم کی، اس کی گواہی، جیالے، سیاسی کارکن اور پاکستان کے عوام دیں گے، ہم نے 3 سال جدوجہد کی ہے، یہ تبدیلی اصل تبدیلی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا آپ کے خلاف سازش وائٹ ہاؤس میں نہیں بلاول ہاؤس میں ہوئی، سلیکٹڈ کہتا ہے یہ بیرونی سازش تھی، یہ بیرونی سازش نہیں قانونی عمل تھا، یہ بیرونی سازش نہیں جمہوریت کی کامیابی ہے، اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے، جدوجہد جاری رکھی، عوامی مارچ جب کراچی شہر سے شروع ہوا تو عمران خان کو وارننگ دی تھی، کہہ دیا تھا کہ جیالے میدان میں نکلے ہیں اسلام آباد پہنچنے سے قبل اپنی اسمبلی ختم کرے، جمہوری طریقے سے غیر جمہوری سلیکٹد کو گھر بھیجا، ہم نے عدم اعتماد کا اعلان کیا اور جمہوری طریقے سے اس کو گھر بھیج دیا، عوامی مارچ جب نکالا تھا تو وزیراعظم اقتدار کے نشے میں بے ہوش تھا۔

انکا کہناتھا ملک میں زراعت، پانی اور معیشت کا بحران ہے، جس کی وجہ عمران خان ہے، پیپلزپارٹی روزِ اول سے پاکستان میں پانی کی سیاست کے خلاف ہے کیونکہ یہ کسی جماعت کا نہیں بلکہ سارے صوبوں کا مسئلہ ہے،ا ٓج ہمارے سر سبز علاقے پانی بحران کیوجہ سے خشک سالی اور ریگستانوں میں تبدیل ہورہے ہیں، یہ نقصان کسی صوبے کا نہیں بلکہ وفاق کا ہے، بلوچستان اور ڈیرہ بگٹی میں بھی پانی کا بحران ہے وہاں کے عوام گندا پانی پی کر بیمار ہورہے ہیں، چولستان کی تصاویر بھی سامنے آئیں جس میں پانی کی قلت کی وجہ سے جانور مر گئے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھاسندھ میں پانی بحران کی وجہ سے کپاس کی فصل خراب ہورہی ہے، اگر کسان فصل کے لیے پانی کا انتظام کرتے ہیں تو پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں ہے، کراچی میں بھی پانی کا بحران بڑھ رہا ہے، ہمیں امید ہے کہ موجود حکومت کے فور منصوبے سمیت دیگر پانی کے منصوبوں پر کام کرے گی اور ماضی کی طرح اس سنجیدہ مسئلے کو نظر انداز نہیں کرے گی۔

Back to top button