پاکستان تیزی سے مارشل لا کی جانب بڑھ رہا ہے

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سید طلعت حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورت حال میں مارشل لا کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم انہوں نے کہا کے مارشل لاء کی صورت میں پاکستان کا وجود خطرے کا شکار ہو جائے گا۔ نیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سید طلعت حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی نئے مارشل لا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن ملک کے حالات ایسے بن چکے ہیں کہ فوجی ٹیک اوور کو خارج الامکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ زمانہ چاہے جتنا بھی بدل چکا ہے لیکن پاکستان جس تیزی سے معاشی تباہی کی کھائی کی طرف لڑھک رہا ہے، اس میں مارشل کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔
سید طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اب اس پر کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اپنے بیانات اور تقریروں میں مسلسل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کو اٹیک کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عمران خان، میر جعفر اور میر صادق کی بات کرتے ہیں تو سب جانتے ہیں کہ ان کے ذہن میں کیا چل رہا ہوتا ہے اور وہ کس کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران کا یہ بیانیہ فوج کے اندر بھی رخنہ ڈال رہا ہے جس کا نقصان نہ صرف اس قومی ادارے کو ہو گا بلکہ پاکستان کو بھی ہوگا۔ طلعت نے کہا کہ اگر عمران خان نے دباؤ زیادہ بڑھایا تو فوجی قیادت مارشل لا لگانے کا بھی سوچ سکتی ہے۔
طلعت نے انکشاف کیا کی غیر ملکی خط کے معاملے پر بلائی گئی پہلی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں عمران خان سے کہا گیا تھا کہ امریکا میں تعینات سفیر اسد مجید خان کو بلوایا جائے اور اس حوالے سے بریفنگ لی جائے لیکن انہوں نے بطور وزیر اعظم ایسا کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ بعد ازاں عمران خان کی اقتدار سے رخصتی کے بعد شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں اسد مجید خان نے واضح کیا تھا کہ انہوں نے اپنے لکھے ہوئے خط میں کسی امریکی سازش یا دھمکی کا ذکر نہیں کیا تھا۔ دوسری جانب عمران خان اب تک مصر ہیں کہ مبینہ امریکی سازش کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے۔
