جنرل مشرف کی بیماری کی دوا پاکستان میں کیوں نہیں ملتی؟


جنرل مشرف کے خاندان کی جانب سے انکو لاحق موذی مرض کی دوا پاکستان میں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے انہیں پاکستان نہ لانے کے اعلان کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر وہ کونسی دوا ہے جو پاکستان میں دستیاب نہیں یا یہاں نہیں منگوائی جا سکتی؟ پاکستان میں یہ رائے عام ہے کہ سیاستدانوں سے لے کر جرنیل، جج اور بیورکریٹس ملک سے باہر علاج کو ترجیح دیتے ہیں اوراکثر اس حوالے سے بحث ہوتی رہتی ہے کہ یہی حکمران اور جرنیل اپنے دورِ اقتدار میں ملک میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے پر توجہ کیوں نہیں دیتے۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران پاکستان میں ٹی وی سکرینوں سے لے کر سوشل میڈیا پر سابق صدر پرویز مشرف کی وطن واپسی کی خبریں گرم ہیں۔ پرویز مشرف کو وطن واپس آنا چاہیے یا نہیں۔۔۔ اس حوالے سے پاکستانی فوج سے لے کر سیاستدانوں تک کے بیانات کے بعد ان کے خاندان کا موقف سامنے آیا ہے۔ پرویز مشرف کے خاندان کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وطن واپسی کے حوالے سے خاندان کو اہم طبی، قانونی اور حفاظتی چیلنجز پر غور کرنا ہو گا اور سابق صدر کی متعلقہ دوا کی بلا تعطل فراہمی اور علاج سے متعلق انتظامات کی بھی ضرورت ہے جو فی الحال پاکستان میں دستیاب نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ مشرف کی وطن واپسی کے حوالے سے گذشتہ ہفتے پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ دبئی میں پرویز مشرف کی صحت کافی خراب ہے اور فوج کا موقف ہے کہ انھیں واپس پاکستان آ جانا چاہیے جس کے لیے خاندان سے رابطہ کیا گیا ہے۔ اس بیان کے بعد نواز شریف، جو خود اس وقت علاج کے سلسلے میں لندن میں مقیم ہیں، نے ٹوئٹر پر بیان دیا کہ پرویز مشرف سے ان کا کوئی ذاتی عناد یا دشمنی نہیں ہے اور اگر وہ پاکستان واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے۔

اس بیان پر لوگوں نے نواز شریف پر سخت تنقید بھی کی ہے۔ سینیٹ کے اجلاس میں بھی پرویز مشرف کی واپسی کا معاملہ زیر بحث آیا تھا اور انھیں واپس لانے کے لیے ایئر ایمبولینس تیار کرنے کی خبریں بھی سامنے آئیں تھیں۔ تاہم پرویز مشرف کے خاندان کی جانب سے جاری بیان کے بعد بظاہر ان کی واپسی کے حوالے سے ہونے والی بحث کا اختتام ہو گیا ہے مگر اب ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آخر یہ کون سی دوائی ہے جو پرویز مشرف کو پاکستان میں نہیں مل سکتی؟

پرویز مشرف دبئی میں زیر علاج ہیں اور رواں مہینے سوشل میڈیا پر ان کی وفات کی افواہیں گردش کرنے لگیں تھیں جن کی تردید کرتے ہوئے ان کے خاندان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف ایک پیچیدہ بیماری امولائی ڈوسس (Amyloidosis) سے متاثرہ ہیں اور ان کی صحتیابی ممکن نہیں کیونکہ اس بیماری میں اعضا ناکارہ ہو رہے ہیں۔ برطانیہ کے محکمہ صحت کے مطابق یہ ایک ایسی بیماری ہے جو انسانی جسم میں پروٹین کی ایک قسم ’امیلائڈ (amyloid)‘ کے بڑھنے کا سبب ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق اس پروٹین کی اضافی مقدار انسانی جسم کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے اور اعضا اپنا کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔ اس بیماری کا شکار مریضوں کا علاج کیموتھراپی یا دوسرے طریقوں سے بھی کیا جا سکتا ہے۔

حالیہ بیان میں پرویز مشرف کے خاندان نے بتایا ہے کہ انھیں دی جانے والی دوا کی بلا تعطل فراہمی ان کے علاج کے لیے ضروری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ دوا ہے کیا اور پاکستان میں کیوں دستیاب نہیں ہے۔ اس دوا کو ڈرژیلکس Darzalex کے نام سے فروخت کیا جاتا ہے جو خون کے کینسر کی ایک قسم کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ دوا کیموتھراپی تو نہیں ہے لیکن ایک ٹارگٹڈ اینٹی باڈی ہے۔ تاہم یہ دوا پاکستان میں دستیاب نہیں۔ ابتدائی طور پر اس دوا کو ڈنمارک کی ایک کمپنی نے بنانا شروع کیا مگر اب جانسن اینڈ جانسن کی ذیلی کمپنی جانسن بائیو ٹیک اسے تیار کر رہی ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کے ڈپٹی ڈائریکٹر اختر عباس نے بتایا کہ ایسی ادوایات جو پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں یا ایسی ادوایات جن کے پیٹنٹ کے کوئی مسائل ہوں یا جنھیں ادوایات کی کمپنیوں نے ابھی پاکستان میں لانچ نہ کیا ہو، انھیں مریض خود بھی باہر سے منگوا سکتا ہے اور ہسپتال بھی درآمد کر سکتے ہیں۔ مریض یا ان کے خاندان کی جانب سے ڈریپ کی ویب سائٹ پر این او سی کے لیے اپلائی کیے جانے کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر اجازت نامہ جاری ہو جاتا ہے۔ اختر عباس نے بتایا کہ کچھ کیسز میں تو دفتر میں بیٹھی بیٹھی ہی انھیں این او سی مل جاتا ہے۔ لہٰذا مشرف کے خاندان کا یہ موقف درست نہیں کہ یہ دوا پاکستان میں دستیاب نہیں ہو سکتی۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر بیشتر افراد یہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں کہ جب وہ پاکستان پر حکومت کر رہے تھے تو انھوں نے غریبوں کے لیے ایسی سہولیات مہیا کرنے پر غور کیوں نہیں کیا؟

Back to top button