حمزہ شہباز سادہ اکثریت حاصل کرنے کیلئے پراعتماد


وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پنجاب اسمبلی میں دوبارہ گنتی میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے پرامید ہیں اور ان کی وزارت اعلیٰ کو کسی قسم کا کوئی خطرہ درپیش نہیں۔ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے یکم جولائی کو لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق کارروائی شروع ہو گی، چیف ایگزیکٹو کے انتخاب کے لیے دوبارہ ہونے والی گنتی میں کامیابی کے لیے حکومت اور اپوزیشن پارٹیاں اپنی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے رات گئے تک متحرک اور سرگرم رہیں۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ حمزہ شہباز دوبارہ گنتی کے معاملے پر خوش نظر آتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ انہیں ایوان میں ’واضح سادہ اکثریت‘حاصل ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) نے وزارت اعلی کے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، اپوزیشن اتحاد سمجھتا ہے کہ کارروائی کے دوران ایوان میں ان کی موجودگی سے اس عمل کی توثیق ہوگی۔ لاہور ہائی کورٹ کے لارجر بینچ کے پنجاب اسمبلی کے 40ویں اجلاس کو دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے نے اپوزیشن اور ٹریژری کی جانب سے پنجاب اسمبلی کی عمارت اور ایوان اقبال میں الگ الگ بلائے گئے 41ویں اجلاس کو کالعدم کردیا ہے، ایوان اقبال میں بلائے گئے 41ویں اجلاس کے دوران حکمران اتحاد نے مالی سال 2022.23 کے لیے پنجاب کا بجٹ پیش اور منظور کیا تھا۔

آج کے اجلاس کے سلسلے میں پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ نے حفاظتی اقدامات کیے ہیں، ایس او پیز بنائی ہیں اور تمام ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ہمراہ مہمانوں کو نہ لائیں اور اپنے موبائل فون اور ہینڈ بیگ سکیورٹی کے پاس جمع کرائیں، اراکین سے کہا گیا ہے کہ وہ ایوان میں بلا روک ٹوک داخلے کے لیے اپنا قومی شناختی کارڈ اور اسمبلی کارڈ ساتھ لائیں۔

وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے مقامی ہوٹل میں مقیم مسلم لیگ (ن) کے ایم پی ایز سے طویل اور اہم میٹنگ کی اور اپوزیشن سے نمٹنے اور صاف شفاف الیکشن کرانے کی حکمت عملی طے کی۔ مسلم لیگ (ن) کے چیف وہپ کا کہنا تھا کہ حکمران اتحاد کو 177 ایم پی ایز کی حمایت حاصل ہے، ان اراکین پنجاب اسمبلی میں سے زیادہ تر ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔
حمزہ شہباز وزارت اعلیٰ کے عہدے پر دوبارہ منتخب ہونے کے لیے پر اعتماد ہیں کیونکہ انہیں واضح سادہ اکثریت حاصل ہے، رن آف الیکشن کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کی زیرقیادت حکمران اتحاد 9 ووٹوں کی اکثریت حاصل کر سکتا ہے جب کہ پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ابھی تک 5 مخصوص نشستیں الاٹ نہیں کی گئیں اس لیے اس کی جیت کا امکان نظر نہیں آتا۔ تاہم پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) تین وجوہات کی بنا پر وزیراعلیٰ کے لیے اس ‘ہنگامی’ انتخاب میں دلچسپی نہیں لے رہیں، ان وجوہات میں سے ایک وجہ 5 مخصوص نشستوں کا اعلان نہ کیا جانا، دوسری وجہ ان پارٹیوں کے 6 ارکان کا ملک سے باہر ہونا ہے جن میں حج کے لیے جانے والے بھی شامل ہیں۔ تیسری وجہ پنجاب اسمبلی کی 20 عام نشستوں پر 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات ہیں۔

ان پارٹیوں کا مؤقف ہے کہ جب پنجاب اسمبلی ہی مکمل نہیں ہے تو 24 گھنٹے کے نوٹس پر وزیر اعلیٰ کے اہم ترین انتخاب کا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے؟ اسی لئے ان جماعتوں نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما مونس الہٰی نے کہا کہ دونوں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ہم لاہور ہائی کورٹ کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے جا رہے ہیں۔
مونس الہٰی نے بتایا کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کرکے اس کے درست ہونے کا جواز نہیں دیں گے، ہم 24 گھنٹوں میں ہنگامی بنیادوں پر حمزہ شہباز کو ان کے ‘جعلی’ عہدے سے ہٹائے بغیر انتخابات کرانے کے لاہور ہائیکورٹ کے لارجر بینچ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر رہے ہیں۔

اسمبلی میں موجودہ پارٹی پوزیشن سے پتہ چلتا ہے کہ پی ٹی آئی اور پی ایم ایل (ق) کو کل 168 ارکان کی حمایت حاصل ہے جن میں سے پی ٹی آئی کی 158 نشستیں اور مسلم لیگ (ق) کی 10 سیٹیں ہیں، پی ٹی آئی ای سی پی کی جانب سے 5 مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن کی بھی منتظر ہے۔ پنجاب میں حکمران اتحاد کے 177 ارکان ہیں جن میں مسلم لیگ( ن) کے 165، پیپلز پارٹی کے 7، راہ حق پارٹی کا ایک اور 4 آزاد اراکین شامل ہیں۔

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا ہے اور اب بھی کریں گے۔ ماڈل ٹاؤن میں پارٹی کے ایم پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ پنجاب میں گزشت 3 ماہ سے جاری آئینی بحران عدالت کے فیصلے سے ختم ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں سیاست برائے سیاست پر یقین نہیں رکھتا، ہمارا مقصد عوامی خدمت ہے، میری زندگی اور سیاست کا مقصد لوگوں کی زندگیوں کو آسان کرنا اور ان کی پریشانیوں کو دور کرنا ہے۔

حمزہ شہباز نے اپنے اتحاد کے 177 ارکان کے اعزاز میں اس ہوٹیل میں عشائیہ بھی دیا جہاں ان میں سے زیادہ تر اراکین پنجاب اسمبلی ٹھہرے ہوئے ہیں، عشائیے گا مقصد عدالت کے حکم کے مطابق دوبارہ ہونے والی گنتی کے لیے یا صوبائی چیف ایگزیکٹو کے دوبارہ انتخاب کے لیے حکمت عملی طے کرنا تھا، میٹنگ رات گئے تک جاری رہی۔ اس سے قبل، مسلم لیگ (ق) کے رہنما و پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے عدلیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں لیکن جس پریزائیڈنگ افسر کی وجہ سے سارا کچھ ہوا اس کو دوبارہ پریزائیڈنگ افسر بنا دیا گیا ہے جو کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ پرویز الہٰی نے کہا تھا کہ جس سے امید ہی نہیں ہے، جس نے سارا گند کروایا اور لوگوں کو زخمی کروایا اب اس افسر کو دوبارہ کرسی پر بٹھا دیا گیا ہے تو یہ کہاں کا انصاف ہے۔ تاہم حکمران جماعت مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ پرویز الہی کا موقف الیکشن سے فرار کا ایک بہانہ ہے اور عدالتی حکم نامے کی توہین ہے۔

Back to top button