شہدا سے متعلق منفی پروپیگنڈا کرنیوالوں کیخلاف تحقیقات کاآغاز

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ( ایف آئی اے ) نے گزشتہ دنوں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے اور شہدا کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا۔
ایف آئی اے نے پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے کریش ہونےا ور چھ شہید افسران کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کے خلاف تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ کے ایڈشنل ڈی جی کی سربراہی میں چار افسران پر مشتمل چار رکنی جے آئی ٹی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق ایڈیشنل ڈی جی سائبر کرائم ونگ محمد جعفر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تحقیقات کرے گی، جس میں ڈائریکٹر آپریشن سائبرکرائم ونگ نارتھ وقار الدین سید،ایڈیشنل ڈائریکٹر ایاز، اور عمران حیدر بھی تفتیشی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
یادرہے کہ دو روز قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ لسبیلہ میں ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر چند لوگوں نے غلط قسم کا پروپیگنڈا کیا، تضحیک آمیز اور غیر حساس تبصرے شروع کر دیے جو انتہائی تکلیف دہ ہے، بے حسی کا رویہ ناقابل قبول ہے اور ہر سطح پر اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا پہلے ہی شہدا کے اہل خانہ اور پوری قوم کرب ناک کیفیت سے گزر رہی تھی، اس دوران اس طرح کی قیاس آرائیاں کرنا، اور اپنی ذاتی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر اس قسم کے تبصرے دینا بہت ہی غیر حساس تھا، جس کی وجہ سے ادارے، افسران، جوانوں اور خاص طور پر شہدا کے لواحقین کو بہت تکلیف پہنچی۔
واضح رہے کہ یکم اگست کو بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف پاک فوج کا ہیلی کاپٹر لاپتا ہوگیا تھا جس میں کور کمانڈر سمیت 6 افراد سوار تھے، بعد ازاں 2 اگست کو لاپتا ہوجانے والے فوجی ہیلی کاپٹر کا ملبہ مل گیا تھا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہونے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت تمام 6 افسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔
