امریکہ مخالف کپتان کی PTI نے امریکی امداد کس منہ سے لی؟

اپنی اقتدار سے بے دخلی کا الزام امریکی سازش کا نتیجہ قرار دینے والے سابق وزیر اعظم عمران خان کی خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے امریکی سفیر سے امداد قبول کرنے کے بعد پی ٹی آئی قیادت شدید تنقید کی زد میں ہے اور سوال کیا جا رہا ہے کہ خان صاحب کا امریکی مداخلت کا بیانیہ کہاں گیا؟
اسی دوران تحریک انصاف کی سینیئر رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی حسب روایت ایسی چول مار دی کہ وہ بھی سخت تنقید کا نشانہ بن رہی ہیں۔ شیریں مزاری نے پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے خیبر پختون خواہ کے دورے کی تصاویر سوشل میڈیا پر لگا کر کہا کہ انہیں حساس ترین مقامات پر جانے کی اجازت کس نے دی؟ اس پر سوشل میڈیا صارفین نے یاد دلایا کہ خیبرپختونخوا میں پچھلے سات برس سے تحریک انصاف کی حکومت ہے اور امریکی سفیر کو حساس مقامات کے دورے کی اجازت بھی انہی کی حکومت نے دی۔ صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ انہوں نے تب تنقید کیوں نہ کی جب یہی امریکی سفیر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان کو 36 بڑی ویگنیں تحفہ دے رہے تھے؟ شیریں مزاری نے اپنی پوسٹ میں صرف وہ تصاویر شیئر کیں جن میں فوجی حکام امریکی سفیر کو طورخم بارڈر کے قریب ایک پوسٹ پر بریفنگ دے رہے ہیں جبکہ انہون نے اس دورے کی وہ تصاویر شیئر نہیں کیں جن میں امریکی سفیر پی ٹی آئی کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان سمیت دیگر وزرا اور صوبائی حکام سے ملاقات کر رہے ہیں اور انہیں ویگنوں کی چابیاں گفٹ کر رہے ہیں۔
یاد رہے عمران خان یہ الزام بارہا دہرا چکے ہیں کہ ان کی حکومت گرانے کے پیچھے امریکی سازش تھی جس کی امریکی محکمہ خارجہ تردید کر چکا ہے۔ شیریں مزاری نے تین اور چار اگست کو ہونے والے امریکی سفیر کے دورے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’امریکی سفیر اور ان کا گینگ طورخم کی راہ میں پاکستان کے حساس علاقوں پر پرواز کرتے ہوئے زمین کا معائنہ کر رہے ہیں جبکہ موصوف کو سرکاری بریفنگ بھی میسر ہے اور قدم رنجہ ہونے کو سرخ قالین بھی!! ان علاقوں میں تو عام پاکستانی بھی قدم نہیں رکھ سکتے! کیا ہم غلام ہیں؟‘ اس پر کئی سوشل میڈیا صارفین نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہاں، آپ غلام ہیں، آپ امریکہ کے غلام ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کو ملانے والی طورخم سرحد کے قریب مچنی پوسٹ پر امریکی سفیر کو اس علاقے سے متلعق فوجی حکام کی طرف سے بریفنگ دی گئی تھی۔ اس بریفنگ کا اہتمام فرنٹیئر کور نے کیا تھا۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے اگلے دن یعنی چار اگست کو امریکی سفیر نے صوبائی دارالحکومت پشاور کا دورہ کیا اور پھر نہ صرف وزیر اعلیٰ سے ملے بلکہ مختلف تقریبات میں بھی شرکت کی جہاں انھیں صوبائی وزرا اور حکام کی طرف سے بریفنگ دی گئی۔
اس کے بعد امریکی سفیر نے وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں صوبے کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کو ہسپتالوں کے لیے 36 گاڑیوں کی چابیاں بھی دیں، جو تحریک انصاف کے وزیر نے شکریے کے ساتھ وصول کیں۔ اس دو روزہ دورے کے دوران امریکی سفیر سے ہونے والی ملاقاتوں سے متعلق خود تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے تفصیلات شئیر کیں اور اسے ’ایک انتہائی کامیاب دورہ‘ قرار دیا ہے۔ تصاویر کے ساتھ صوبائی حکومت کی طرف سے ایک پریس ریلیز بھی جاری کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے صوبے کے پہلے دورے پر امریکی سفیر کو خوش آمدید کہا اور مختلف شعبوں میں صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون اور اشتراک کار پر امریکی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
وزیر اعلیٰ نے واضح انداز میں کہا کہ صوبائی حکومت اور صوبے کے عوام مختلف شعبوں میں امریکی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صوبائی حکام کے مطابق اس دورے کے دوران دونوں اطراف سے عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں باہمی تعاون کے سلسلے کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ دودری جانب شیریں مزاری کے مطابق اس دورے کا اہتمام فوج نے کیا تھا۔ صوبائی حکام کی طرف سے امریکی امداد وصول کرنے کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومتوں کے درمیان متعدد سماجی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے مگر یہ دورہ صرف فوج کی طرف سے ہی ترتیب دیا گیا تھا۔
امریکی سفیر کے خیبر پختونخوا دورے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے۔ جب شیریں مزاری نے اپنی مرضی کی تصاویر شیئر کیں تو اینکر پرسن ندیم ملک نے وہ تصویر جس میں امریکی سفیر صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کو 36 گاڑیوں کی چابی تھما رہے ہیں، شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ رہی ایک رجیم چینج کی چابی۔ اس تصویر میں نظر آنے والہ سرخ کارپٹ بارے بھی کئی صارفین نے سوالات پوچھے کہ اگر یہ دورہ اتنا ہی ناگوار تھا تو پھر موصوف کا اتنا شاندار استقبال کیوں کیا گیا۔ ان کے مطابق امریکی سفیر تو امریکی صدر جو بائیڈن کا نمائندہ ہے تو پھر یہ ڈونلڈ لو سے ڈونلڈ بلوم تک رویے اور بیانیے میں تبدیلی کیسے واقع ہو گئی۔
سینیئر صحافی حامد میر نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے اہلکاروں کے ساتھ امریکی حکام کی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ان میں سرخ قالین تلاش کریں۔‘ صحافی عادل شاہ زیب نے لکھا کہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جس صوبے کا امریکی سفیر دورہ کر رہے ہیں وہ پی ٹی آئی کے وزیرِ اعلیٰ کی پیشگی اجازت کے بغیر ناممکن ہے۔ ٹوئٹر صارف نجمہ حکیم نے شیریں مزاری کو ریٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اس سے پہلے امریکی سفیر اور ان کے گینگ کا آپ کے وزیرِ اعلیٰ نے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں استقبال کیا اور خیبر پختونخواہ محکمہ صحت کے لیے 36 گاڑیوں کا تحفہ بھی قبول کر لیا، تو کیا وہ ٹھیک تھا؟
شفیع وزیر نامی صارف نے شیریں مزاری کے جواب میں لکھا کہ اس دورے کا اہتمام خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے کیا تھا، پی ٹی آئی حکومت کو بلوم سے 36 گاڑیاں ملیں جس سے رجیم چینج کی سازش بے بنیاد قرار پاتی ہے۔ شیریں مزاری نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے ٹوئیٹر پر کہا کہ دو حکومتوں کے درمیان معاشی شراکت داری معاہدوں کے تحت ہوتی ہے۔ لیکن ایک سفیر کا کسی حساس مقام پر جانا سکیورٹی کا معاملہ ہے تو کیا امریکہ سے کوئی سکیورٹی معاہدہ ہو چکا ہے؟ اگر ہوا ہے تو ہمیں علم ہونا چاہیے۔
