وٹامنز کی گولیوں کا زیادہ استعمال کینسر کا سبب بن سکتا ہے

طبی ماہرین نے ایک نئی تحقیق سے متعلق انکشاف کیا ہے کہ وٹامن کی گولیوں کے استعمال میں زیادتی پھیپھڑوں کے مہلک کینسر کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

چین کی پیکنگ یونیورسٹی کے ماہرین نے کا کہنا ہے کہ عام طور پر لوگ وٹامن اے کی گولیاں مدافعتی نظام اور بینائی بہتر کرنے کے لیے کھاتے ہیں۔ البتہ،انہوں لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وٹامن کی یہ گولیاں پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔

چینی محقیقن نے بتایا کہ گزشتہ تحقیق میں یہ معلوم ہوا تھا کہ وٹامن اے کازیادہ استعمال بیضہ دانی کےکینسر کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ وٹامن اے کی گولیوں کا کوئی تعلق پھیپھڑوں کے کینسر سے سامنے آیا ہے۔

فرنٹیئرز اِن نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ وٹامن اے کی گولیوں کے استعمال میں زیادتی اسکوامس خلیوں اور ایڈینوکارسِنوما پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔

تحقیق کے مطابق برطانیہ میں کینسر سےہونےوالی اموات میں سب سے زیادہ اموات پھیپھڑوں کے کینسر سے ہوتی ہیں۔ہر سال برطانیہ میں 47 ہزار لوگوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جبکہ 34 ہزار 700 افراد کی اس بیماری سے موت واقع ہوجاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اسکوامس سیل کارسِنوما اور ایڈینوکارسِنوما دونوں پھیپھڑوں کے کینسر کی عام اقسام ہیں۔ان دونوں میں ایڈینوکار سِنوما سب سے عام قسم ہے اور یہ بلغم بنانے والے غدود کے خلیوں سے ہونا شروع ہوتی ہے۔

Back to top button