کیا عمران راولپنڈی پہنچ کر مارشل لا لگوانا چاہتے ہیں؟


فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار عمران خان کی جانب سے منہ بھر کر ملک میں مارشل لاء لگانے کی بات نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ ان کے لانگ مارچ کا اصل مقصد خونریزی کے ذریعے مارشل لگوانا ہے، یعنی اگر وہ حکومت میں واپس نہیں آ سکتے تو بھلا فوج اقتدار پر قبضہ کر لے لیکن ان کی مخالف سیاسی جماعتوں کا اقتدار ختم ہونا چاہیے۔ یاد رہے کہ اس وقت تحریک انصاف کے حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اگر عمران خان کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو وہ اپنے لانگ مارچ کا رخ اسلام آباد کی بجائے راولپنڈی کی طرف کر کے جی ایچ کیو کے باہر دھرنا بھی دے سکتے ہیں۔

عمران خان کے لانگ مارچ کے حوالے سے بی بی سی کے لیے لکھے گے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں معروف اینکر پرسن اور صحافی عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ ‏طوفان آئے اور چُپ چاپ گُزر جائے، معاملات ایسے بھی نہیں۔ اسوقت ملک میں غیر معمولی حالات پیدا ہو چکے ہیں اور غیر معمولی واقعات ہو رہے ہیں۔ جو کچھ پردے پر چل رہا ہے اس سے کہیں زیادہ پردے کے پیچھے چل رہا ہے۔ پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ناکام ترین پالیسیاں اب بچے پیدا کر رہی ہیں اور رخصتی کے وقت پچھتاوے بازو پھیلائے دہلیز پر کھڑے ہیں۔ یعنی یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ، اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا۔۔۔

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ جا رہے ہیں اور جاتے جاتے اپنے حصے کا سچ بتا رہے ہیں۔ الوداعی ملاقاتیں شروع ہیں، اُن کے جانے سے قبل البتہ غیر معمولی واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ادارے کے جملہ حقوق بحق آئین محفوظ کیے گئے ہیں یا کم از کم جاتے ہوئے جنرل باجوہ ایسی وراثت کا اعلان کر رہے ہیں جس کا اظہار ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے بھرپور پریس کانفرنس میں کیا۔ کیمروں کی چکا چوند روشنی میں غیر سیاسی ہونے کا اعلان محض سادہ اور آسان نہیں۔ ایسا کیونکر ہوا؟ یہ واقعہ دلچسپ بھی ہے اور انوکھا بھی۔ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم نے مہارت کے ساتھ پراجیکٹ عمران کی ناکامی کی نہ صرف ذمہ داری لی بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ آئندہ ادارہ کسی طور سیاسی نہیں ہو گا۔ انہوں نے ادارے کا ماضی داغدار ہونے کا اعتراف بھی کیا اور آئندہ داغ اچھے نہیں ہوتے کا پیغام بھی دیا، انہوں نے فوج کے ادارے کے غیر آئینی کردار پر اظہار معذرت بھی کی اور آئین کی حدود میں رہنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ یعنی ادارہ آئینی بھی ہو گیا اور غیر سیاسی بھی۔۔۔ کسی کو اس بات پر یقین البتہ آتے آتے ہی آئے گا۔

لیکن عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ اصل سوال یہ ہے کہ ایسا کیسے ہو گیا؟ اس کا کریڈٹ کس کو جائے گا؟ ایک طرف آئین پسند شادیانے بجا رہے ہیں تو دوسری جانب عمران خان ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس سے ناخوش ہیں اور اب تمام حدیں کراس کرتے ہوئے فوجی جرنیلوں کے نام لے کر الزامات لگا رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے پریس کانفرنس کر کے عمران خان کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ مجبوری تھا نہ ضروری، البتہ جمہوری ضرور تھا۔ ادارہ اپنے پراجیکٹ سے اظہار لاتعلقی کر چکا ہے اور آئندہ کسی نئی پراڈکٹ کو لانچ نہ کرنے کا اعلان بھی۔ آئی ایس آئی کے ’سیاسی ونگ کا خاتمہ‘ نہ تو کسی کی فتح ے اور نہ ہی شکست یہ صرف اور صرف آئین کی سر بلندی کے لیے ہے البتہ اس پر قائم رہنا بھی اصل چیلنج ہو گا کیونکہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی پریس کانفرنس سیاسی اور آئینی گیلری کا حصہ بن گئی ہے۔حالات حاضرہ کی دنیا میں ڈی جی آئی ایس آئی کی غیر معمولی پریس کانفرنس لانگ مارچ کی گرینڈ لانچنگ کی نذر ہوئی تاہم اس لانگ مارچ کا آغاز ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف بیانیے سے ہی کیا گیا۔گویاجی ٹی روڈ پر بریکیں لگاتے عمران خان بضد ہیں کہ انھیں اب بھی ایسا ادارہ چاہیے جو انکے فین کلب کا کردار ادا کرے۔ تاہم اب ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ اصل سوال یہ ہے کہ عمران کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے غیر سیاسی ہونے کر صرف آئینی کردار تک محدود ہونے کا فیصلہ منظور کیوں نہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ جنرل قمر باجوہ نے جانے سے قبل فوج کو غیر سیاسی کیوں کرنا چاہا، جس کا شکوہ عمران کئی انٹرویوز میں کر چکے، اور کہہ چکے ہیں کہ جب ملک لوٹا جا رہا ہو تو چوکیدار نیوٹرل کیسے رہ سکتا ہے۔ عمران خان دراصل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ اُنھیں وزیراعظم بنانے والے جاتے ہوئے نگاہیں بدل لیں گے جبکہ اسٹیبلشمنٹ نے یہ فیصلہ ناکامیوں کی افزائش نسل کے بعد کیا۔ عمران خان نے یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ انتخاب میں جنرل باجوہ سے مدد مانگی تھی تاہم جنرل باجوہ کے بقول حکومت کو اپنے مسائل خود طے کرنے کا درست مشورہ دیا گیا تھا مگر اپنی جماعت کو خود بچانے کا یہ مفت مشورہ بھی رائیگاں گیا اور نتیجتاً گھات میں لگی گھاگ سیاسی جماعتیں عدم اعتماد کی تحریک لے آئیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ بطور وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر اسلام آباد کے حساس ادارے کے میس میں جنرل باجوہ نے سیاسی قائدین کو ظہرانے پر انتخابات کے انعقاد سے مشروط تحریک عدم اعتماد واپس لینے کی پیشکش کی جو سیاسی قائدین نے ٹھکرا دی۔ آنے والے حالات نے ادارے کو باور کرایا کہ فوج یا تو فرد واحد کی خواہش بن کر رہے یا اپنا آئینی کردار ادا کرے لہذا ادارے نے غیر سیاسی ہونے کا فیصلہ کیا۔ عمران خان نے جنرل باجوہ کو غیر معینہ مدت تک ملازمت میں توسیع کی پیشکش کی تو جواب انکار کی صورت ملا۔ ‏

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کیا سب تدبیریں الٹی ہونے کے بعد اب عمران خان ایک بار پھر اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں، فوج سے مستقل مخاطب ہیں کہ وہ اُن کا ساتھ دے، یوں تو ادارہ جملہ حقوق آئین اور جمہوریت کے نام کر چکا ہے تاہم اصل آزمائش تب ہو گی جب عمران خان جنرل باجوہ کے خلاف ہر طرح کی زبان کی مشق کرتے ہوئے راولپنڈی پہنچیں گے۔ تو کیا راولپنڈی کی فخریہ پیشکش راولپنڈی میں ہی انجام پذیر ہو گی؟ آخری اطلاعات تک فوج عمران خان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے دروازے اب بند کر چکی ہے۔ وزیر اعظم نئے چیف کا اعلان نومبر کے تیسرے ہفتے میں کر سکتے ہیں، تب تک عمران خان صاحب جی ٹی روڈ پر ’اچھے دنوں‘ کی امید میں ماحول گرما سکتے ہیں۔

Back to top button