بالآخر نواز شریف کی جانب سے عمران کے لیے ایبسلوٹلی ناٹ

بائیڈن انتظامیہ کو فوجی اڈے فراہم کرنے کے مطالبے پر ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان کو اب سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے مذاکرات کے مطالبے پر ایبسلوٹلی ناٹ کہہ کر فارغ کر دیا گیا ہے۔ نواز شریف نے بہت واضح اور دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ عمران نے لانگ مارچ کے ذریعے جو سانپ نکالنا ہے ایک مرتبہ نکال لے لیکن مگر اب اسے مذاکرات کی صورت میں کسی قسم کی فیس سیونگ نہیں دی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کو عمران سے کسی قسم کے مذاکرات نہ کرنے کا حکم دے کر نواز شریف نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب روز روز کا تماشا ختم ہو جانا چاہئے۔
یاد رہے کہ نواز شریف نے عمران خان کے لانگ مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کو بتا چکے ہیں کہ عمران کا کوئی مطالبہ نہ سنا جائے اور نہ ہی اسے کسی طرح کی کوئی فیس سیونگ ملنی چاہئے۔ ایک ٹوئٹر تھریڈ میں سابق وزیر اعظم نے لکھا کہ دس لاکھ بندے اکٹھے کرنے کا دعویٰ کرنے والا خان ابھی تک دو ہزار بندے اکٹھے نہیں کر سکا۔ لانگ مارچ میں عوام کی لا تعلقی کی وجہ وہ شر انگیز جھوٹ ہیں جن کا کچا چٹھہ قوم کے سامنے آ چکا ہے۔ نواز شریف نے لکھا کہ اس نے ایک کے بعد ایک جھوٹ اتنی بے دردی اور ڈھٹائی سے بولا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو بھی مجبوراً اپنی خاموشی توڑ کر قوم کو سچ بتانا پڑا جس کا جواب عمران اتنے دن گزرنے کے بعد بھی نہیں دے سکا۔ اسلئے اس کا سارا زور حسبِ عادت صرف گالی گلوچ تک محدود ہے۔ اس کے بعد سابق وزیر اعظم نے انکشاف کیا کہ انہوں نے شہباز شریف سے کہہ دیا ہے کہ یہ 2 ہزار کا جتھہ لے آئے یا 20 ہزار کا، نہ اس فتنے کا کوئی مطالبہ سننا ہے اور نا ہی اسے کوئی فیس سیونگ دینی ہے، جس کے حصول کے لئے یہ بیتاب ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے سابق وزیراعظم عمران خان خود بھی ایک جلسے میں یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے اور صرف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بیٹھیں گے جن کے جوتے موجودہ وزیر اعظم پالش کرتے ہیں۔ یعنی خان صاحب کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ وہ شہباز شریف کے جوتے پالش کرنے کی بجائے اب بھی جنرل قمر باجوہ کے جوتے پالش کرنے کو ترجیح دیں گے جنہیں کہ وہ صبح شام گالیاں دیتے ہیں۔ خیال رہے کہ کپتان کی اس گالی گلوچ کا جواب دینے کے لیے پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ مل کر ایک دھواں دھار پریس کانفرنس کی تھی اور عمران خان کو چارج شیٹ کر دیا تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار اور لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے گزشتہ ہفتے غیر متوقع ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کے فوج مخالف بیانیے، ارشد شریف قتل سمیت مختلف اہم نوعیت کے قومی امور پر تفصیلی گفتگو کی تھی۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے عمران کا نام لیے بغیر انکشاف کیا تھا کہ ’آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ان کی مدت ملازمت میں غیر معینہ مدت کی توسیع کی ’پرکشش پیش کش‘ کی گئی، مگر جنرل باجوہ نے یہ پیش کش ٹھکرا دی، انہوں نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ سپہ سالار غدار ہے اور ان سے پس پردہ ملتے بھی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ ملکی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ آئی ایس آئی کے حاضر سروس سربراہ نے میڈیا سے براہ راست گفتگو کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ پریس کانفرنس اصرار کرکے کی کیونکہ ان کا موقف تھا کہ وہ عمران خان کے حوالے سے بہت ساری ایسی باتوں کے شاہد ہیں جن پر سابق وزیراعظم کی جانب سے غلط بیانی کی جا رہی ہے۔
