جنرل باجوہ کے اثاثوں سے متعلق اعدادوشمار گمراہ کن قرار

ہاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مذموم مہم کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپہ سالار اور ان کی فیملی کے اثاثوں سے متعلق سوشل میڈیا پر گمراہ کن اعداد وشمار شیئر کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کابیان تحقیقاتی نیوز ویب سائٹ ’فیکٹ فوکس‘ کی جاری ہونے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے، فیکٹ فوکس اپنا تعارف ’ڈیٹا پر مبنی تحقیقاتی خبروں پر کام کرنے والی پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا نیوز آرگنائزیشن‘ کے طور پر کراتی ہے، فیکٹ فوکس کی رپورٹ میں مبینہ طور پر ٹیکس گوشواروں اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ آرمی چیف کے خاندان نے مبینہ طور پر گزشتہ 6 برسوں میں اربوں روپے کمائے۔
بیان کے مطابق ایک خاص گروپ نے نہایت چالاکی و بددیانتی کے ساتھ جنرل قمر جاوید باجوہ کی بہو کے والد (سمدھی) اور فیملی کے اثاثوں کو آرمی چیف اور خاندان سے منسوب کیا ہے، یہ سراسر غلط تاثر دیا جارہا ہے کہ یہ اثاثے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے 6 سالہ دور میں ان کے سمدھی کی فیملی نے بنائے، یہ قطعی طور پر حقائق کے منافی اور کھلا جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ، ان کی اہلیہ اور خاندان کا ہر اثاثہ ایف بی آر میں باقاعدہ ڈکلیئرڈ ہے، آرمی چیف اور ان کا خاندان باقاعدگی سے ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے نطابق ہر شہری کی طرح آرمی چیف اور ان کی فیملی ٹیکس حکام کے سامنے اپنے اثاثہ جات سے متعلق جواب دہ ہیں،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی فیملی کے اثاثوں سے متعلق سوشل میڈیا پر گمراہ کن اعدادوشمار شیئر کیے گئے ہیں، یہ گمراہ کن اعداد و شمار مفروضوں کی بنیاد پر بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ فیکٹ فوکس کی رپورٹ میں مبینہ طور پر ٹیکس گوشواروں اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ آرمی چیف کے خاندان نے مبینہ طور پر گزشتہ 6 برسوں میں اربوں روپے کمائے،اس ویب سائٹ نے اس سے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف سمیت پاکستان کے متعدد سیاست دانوں اور دیگر طاقتور شخصیات سے متعلق فنڈز کے غلط استعمال کے بارے میں تحقیقاتی خبریں شائع کی ہیں۔
یاد رہے اسی ویب سائٹ نے 2020 میں سی پیک اتھارٹی کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ اور ان کے خاندان کی مبینہ آف شور جائیدادوں اور کاروبار کے حوالے سے بھی ایک رپورٹ جاری کی تھی،گزشتہ سال فیکٹ فوکس نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سزا دینے کے حکم کی آڈیو حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
فیکٹ فوکس کی رپورٹ کے دعوئوں کے مطابق پاکستان کے اندر اور باہر آرمی چیف کے معلوم اثاثوں اور کاروبار کی موجودہ مارکیٹ ویلیو 12 ارب 70 کروڑ روپے ہے،رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی اہلیہ عائشہ امجد کے اثاثے جو 2016 میں صفر تھے، وہ (معلوم اور ڈیکلیئر) اثاثے بعد کے 6 برسوں میں 2 ارب 20 کروڑ روپے ہوگئے،رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس رقم میں فوج کی جانب سے ان کے خاوند کو ملنے والے رہائشی پلاٹ، کمرشل پلاٹ اور مکانات شامل نہیں ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ اکتوبر 2018 کے آخری ہفتے میں جنرل قمر جاوید باجودہ کی بہو ماہ نور صابر کے ڈیکلیئر اثاثوں کی کُل مالیت صفر تھی اور صرف ایک ہفتہ بعد ہی یعنی 2 نومبر 2018 کو ان کے اثاثے ایک ارب 27 کروڑ روپے سے زائد ہوگئے۔
ویب سائٹ نے دعویٰ کیا کہ ماہ نور کی بہن ہمنا نصیر کے اثاثے 2016 میں صفر تھے جو 2017 تک ’اربوں‘ میں پہنچ گئے،رپورٹ میں مزید الزام لگایا گیا کہ آرمی چیف کے دوست اور ان کے صاحبزادے کے سسر کے ٹیکس گوشوارے 2013 میں 10 لاکھ سے بھی کم تھے، تاہم آنے والے برسوں میں وہ بھی ارب پتی ہوگئے اور لاہور کے طاقتور بزنس ٹائیکون بن گئے اور بیرون ملک اثاثے منتقل کرنے شروع کر دیے،فیکٹ فوکس کے مطابق وہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے 2 بیٹوں کے نام پر موجود اثاثوں کا ڈیٹا حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
فیکٹ فوکس کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہل خانہ کے ٹیکس ریکارڈ کے ’غیر قانونی لیک‘ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو طارق محمود پاشا کو ہدایت کی تھی کہ وہ خود ٹیکس قانون کی خلاف ورزی کے معاملے کی فوری تحقیقات کریں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ڈیٹا کے تحفظ اور رازداری سے متعلق قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر ذمہ دار افراد کا تعین کریں اور 24 گھنٹے کے اندر رپورٹ جمع کروائیں۔
اس کے بعد نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام گفتگو کرتے ہوئے اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ عبوری رپورٹ دیکھی ہے، امید ہے کہ فائنل رپورٹ بھی آج مل جائے گی، اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ عدالتی حکم کے بغیر کسی کے بھی ٹیکس ریکارڈز کو نکالا جائے یا لیک کیا جائے، یہ غیر قانونی ہے،عبوری رپورٹس سے پتا چلا ہے کہ ایک کا تعلق لاہور اور ایک کا پنڈی سے ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ مجاز ہوں کیونکہ راولپنڈی میں سرکل ہے وہاں پر اسسمنٹ ہوتی ہے، ان لوگوں کو اس بات کی اجازت ہوتی ہے، اس کو ہم منطقی انجام تک لے کر جائیں گے، غیر قانونی کام کی اجازت دینا یا آنکھیں بند کرنا فرائض کی ادائیگی سے غفلت برتنا ہے۔
