20 روپے یونٹ بجلی سے صنعتیں چلانا ممکن نہیں

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے حکومت خبردار کیا ہےکہ ٹیکسٹائل صنعتوں کو تمام سرچارجز سمیت بجلی کے بل ادا کرنا پڑے تو پنجاب کی متعدد ملیں بند ہو جائیں گی۔ اس سے قبل ٹیکسٹائل صنعتیں تقریباً 12 روپے فی یونٹ کے حساب سے بل ادا کر رہی تھیں، 20 روپے فی یونٹ بجلی کے بل سے انڈسٹری نہیں چل سکتی۔
برآمدی ٹیکسٹائل صنعتوں کو سرچارجز سمیت بجلی کے بل ملنے پر اپٹما نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہےکہ لیسکو نے ٹیکسٹائل صنعتوں کو تمام سرچارجز عائد کرکے بجلی کے بل بھجوا دئیے اور اس طرح ٹیکسٹائل ملوں کوبجلی 20 روپے فی یونٹ میں پڑے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے بجلی کے بلوں پر عائد سر چارج وصول کرنے سے روک دیا تھا، قائمہ کمیٹی نے سرچارج کا معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھجوانے کا کہا تھا، وزیراعظم نے بھی جنوری 2019 میں سر چارجز ختم کردیئے تھے لیکن بیورو کریسی وزیر اعظم کے فیصلوں پر عمل نہیں کر رہی،حکومت کو ناکام بنایا جارہاہے۔
اپٹما کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ٹیکسٹائل صنعتیں تقریباً 12 روپے فی یونٹ کے حساب سے بل ادا کر رہی تھیں، 20 روپے فی یونٹ بجلی کے بل سے انڈسٹری نہیں چل سکتی۔
