وکیل رہنما لطیف آفریدی کے قتل کی کہانی کیا ہے؟

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے 80 سالہ سابق صدر لطیف آفریدی کا پشاور ہائی کورٹ بار روم میں بہیمانہ قتل ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے،ان کو 6 گولیاں مار کر قتل کرنے والا عدنان دراصل سوات میں اپریل 2021 میں اپنے خاندان کے ہمراہ قتل ہونے والے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج آفتاب آفریدی کا بھانجا ہے۔ آفتاب آفریدی کے قتل کے الزام میں لطیف آفریدی اور ان کے بیٹے دانش آفریدی سمیت پانچ افراد کو ملزم نامزد کیا گیا تھا لیکن انھیں حال ہی میں بری کردیا گیا تھا۔ لطیف آفریدی کا موقف تھا کہ ان کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ویسے بھی پٹھانوں میں یہ روایت نہیں کہ گھر کے بچوں اور خواتین کو اس طرح قتل کیا جائے۔
یاد رہے کہ ضلع سوات میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج آفتاب آفریدی، ان کی اہلیہ، حاملہ بہو اور کم سن پوتے کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ یہ واقعہ موٹروے پر صوابی کی حدود میں پیش آیا تھا۔ پولیس نے آفتاب آفریدی کے بیٹے عبد الماجد آفریدی کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کرتے ہوئے تب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی ایڈووکیٹ اور ان کے بیٹے کو ملزم نامزد کیا تھا۔ لیکن لطیف آفریدی نے کہا تھا کہ وہ آفتاب آفریدی کے قتل کی مذمت کرتے ہیں اور اُنھیں یقین ہے کہ سچ ضرور سامنے آئے گا۔
16جنوری 2023 کو لطیف آفریدی کے قتل کے حوالے سے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس پشاور کاشف عباسی نے بتایا کہ آفریدی پشاور ہائی کورٹ کے بار روم میں دیگر وکلا کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جب مسلح شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ سینئر وکیل رہنما کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کرنے کے لیے قریبی واقع لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تالاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کی شناخت عدنان آفریدی کے نام سے ہوئی ہے، حملہ آور سے اسلحہ، شناختی کارڈ اور ایک سٹوڈنٹ کارڈ بھی برآمد ہوا ہے۔ انہوں نے لطیف آفریدی کے قتل کو ’ذاتی دشمنی‘ کا شاخسانہ قرار دیا کیونکہ حملہ آور عدنان آفریدی کے ماموں آفتاب آفریدی کو بھی قتل کیا گیا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پشاور ہائی کورٹ بار روم، ہائی کورٹ کے احاطے میں ہی واقع ہے جہاں داخلی راستے پر باقاعدگی سے سخت سکیورٹی تعینات کی جاتی ہے اور لوگوں کو صرف شناختی کارڈ دکھانے پر ہی اندر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے واقعے کو سکیورٹی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک شخص اسلحہ کے ساتھ بار روم تک کیسے پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ خیال رہے کہ لطیف آفریدی ایڈوکیٹ 14 نومبر 1943 کو پیدا ہوئے، وہ 2020 اور 2021 کے دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رہے، لطیف آفریدی پاکستان بار کونسل کے نائب صدر اور پشاور ہائی کورٹ بار کے صدر بھی رہے۔ لطیف آفریدی 1986 سے 1989 تک عوامی نیشنل پارٹی کے پہلے صوبائی صدر رہے جبکہ 1997سے 1999 کے دوران قومی اسمبلی کے رکن رہے۔
دوسری جانب مقتول جج آفتاب آفریدی کے بھائی طاہر آفریدی نے بتایا کہ 1974 سے پہلے آفتاب آفریدی اور لطیف آفریدی کا ایک ہی خاندان تھا جن کی مشترکہ طور پر ایک تیسرے فریق سے دشمنی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ اس دشمنی کے دوران ان کے خاندان کے چند افراد کی ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد ان میں بھی اختلافات پیدا ہوگئے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں معاونت کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی مقدمے میں ان کے ماموں سمیع اللہ آفریدی وکالت کر رہے تھے۔ شکیل آفریدی کے کیس میں لطیف آفریدی بھی وکیل تھے لیکن پھر اچانک سمیع اللہ آفریدی کو دھمکی آمیز فون کالز موصول ہونے لگیں جس پر سمیع ایک خلیجی ملک چلے گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ واپسی پر ان کے ماموں سمیع اللہ آفریدی اسامہ بن لادن کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہونے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کیس سے دستبرادار ہو گئے تھے لیکن مارچ 2015 میں انھیں قتل کر دیا گیا تھا۔
قتل ہونے والے جج آفتاب آفریدی کے چھوٹے بیٹے طاہر آفریدی نے بتایا کہ ابتدائی طور پر کچھ علم نہیں تھا کہ سمیع آفریدی کا قتل کس نے کیا کیونکہ بظاہر اشارے شدت پسندوں اور دیگر تنظیموں کی طرف کیے جا رہے تھے۔ اس کے بعد ہم نے سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ کو درخواست دی جس میں اس قتل کی انکوائری کے لیے کہا گیا تھا۔ انکوائری میں پولیس سے جو معلومات ملیں ان کے مطابق یہ قتل کسی شدت پسند گروہ کی واردات نہیں تھا بلکہ اس میں پرائیویٹ لوگ ملوث تھے۔ اس واقعے کے کچھ عرصے بعد لطیف آفریدی کے ایک رشتہ دار وزیر آفریدی کو دسمبر 2019 میں پشاور میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا جسکا الزام سمیع آفریدی کے بیٹے عدنان آفریدی پر عائد کیا گیا تھا لیکن وہ بری ہو کر کچھ مہینے پہلے گھر واپس آ گیا تھا۔ اس قتل کے بعد اپریل 2021 میں آفتاب آفریدی قتل ہو گئے اور الزام لطیف آفریدی پر لگ گیا۔ لیکن لطیف آفریدی کا کہنا تھا کہ میں اس روز گاؤں میں اپنے بچوں کے ساتھ شجرکاری کے لیے گیا ہوا تھا۔ جب واپس آیا تو معلوم ہوا کہ یہ افسوسناک واقعہ ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر ذاتی دشمنی کی بات کی جائے تو پٹھانوں میں یہ روایت نہیں کہ گھر کے بچوں اور خواتین کو اس طرح قتل کیا جائے۔
