ترکیہ،شام: زلزلوں سے اموات کی تعداد 11000سے تجاوز کر گئی

ترکیہ اور شام میں  آنیوالے حالیہ خوفناک زلزلوں کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر ساڑھے 11000 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

ملبے تلے سے نوزائیدہ بچی کا زندہ نکل آنا اور ایک والد کا اپنی مردہ بیٹی کا ہاتھ تھامے رکھنے جیسے مناظر ترکیہ اور شام میں آنے والے بدترین زلزلے کے نتیجے میں جنم لینے والے انسانی المیے کی عکاسی کرتے ہیں ،زلزلے کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر ساڑھے 11000 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

ریسکیو ورکرز تیسرے روز بھی ملبے تلے دبنے والوں تک پہنچنے کی کوششوں میں لگے رہے جبکہ سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اب تک ترکیہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 6 ہزار 957 جبکہ شام میں مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 547 ہوچکی ہے۔جب سے 7.8 شدت کے زلزلے نے تباہی کی داستان رقم کی ہے تب سے مسلسل 2 دن اور 2 راتوں سے منجمد کردینے والے موسم میں غیر منظم ریسکیو ورکرز کی ایک فوج ان کھنڈرات میں دبنے والوں کو تلاش کررہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ایڈھانوم گیبریئیسس نے خبردار کیا کہ ہزاروں زخمیوں اور ملبے تلے دبے زندہ افراد کے لیے وقت تیزی سے کم ہوتا جارہا ہے۔زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ترکیہ کے شہر قہر مان مرعش کے رہائشی نے کہا کہ پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے، وہ اس ملبے کے ڈھیر پر بیٹھے تھے جہاں ان کی 15 سالہ بیٹی کی لاش کنکریٹ کے ٹکروں کے درمیان پھنسی ہوئی تھی اور انہوں نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔

حتیٰ کے زلزلے میں بچ جانے والوں کے لیے بھی مستقبل انتہائی تاریک نظر آتا ہے۔بہت سے متاثرین نے مسلسل آنے والے آفر شاکس، سرد بارش اور برف باری سے بچنے کے لیے مساجد، اسکولوں اور بس شیلٹرز تک میں پناہ لی ہوئی ہے اورحرارت کے لیے کچرا جلا رہے ہیں،تاہم امداد آنے میں سست روی سے لوگوں کا غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔

علی صغیروگلو نامی ایک شخص کا کہنا تھا کہ میں کھنڈر سے اپنے بھائی اور بھتیجے کو واپس نہیں لاسکتا، آپ یہاں آس پاس دیکھیں، کوئی بھی ریاستی عہدیدار موجود نہیں ہے،دو روز سے ہم نے یہاں کسی سرکاری اہلکار کو نہیں دیکھا بچے ٹھنڈ میں جم رہے ہیں،قریبی علاقے غازی انتیپ میں دکانیں بند ہیں اور حرارت کا کوئی انتظام نہیں کیوں کہ دھماکوں سے بچنے کے لیے گیس لائنیں منقطع کردی گئی ہیں جبکہ پیٹرول ملنا بھی انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔

ایک اور شہری نے بتایا کہ ریسکیو ٹیموں کے منتظر بے چین ہجوم نے بغاوت کردی جس پر پولیس کو مداخلت کرنی پڑی ،کمبلوں میں لپٹے تقریباً 100 دیگر افراد نے ایئرپورٹ ٹرمینل کے لاؤنج میں رات گزار جہاں سے عمومی طور پر ترک سیاستدان اور اہم شخصیات آیا کرتے تھے۔شمالی شام میں سرحد کے اس پار، ایک دہائی کی خانہ جنگی اور شامی-روسی فضائی بمباری نے پہلے ہی ہسپتالوں اور معیشت کو تباہ کر اور بجلی، ایندھن اور پانی کی قلت پیدا کردی تھی۔باغیوں کے زیر قبضہ علاقے جندیرس میں ایک نوزائیدہ بچی کو بچانے کی خوشی بھی ماند پڑ گئی، بچی نال کے ذریعے اپنی ماں سے جڑی ہوئی تھی جو اس آفت کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئی۔

بچی کے رشتہ دار خلیل السوادی نے اے ایف پی کو بتایا کہ جب ہم کھدائی کررہے تھے تو ہم نے ایک آواز سنی، ہم نے مٹی ہٹائی تو ایک نال سے جڑی بچی دیکھی جسے ہم نے کاٹا اور میرے کزن اسے ہسپتال لے گئے۔بچی کا پورا قریبی خاندان زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہوچکا ہے جس کی تدفین منگل کے روز اجتماعی قبر میں کردی گئی تھی۔

دوسری جانب امریکا، چین اور خلیجی ریاستوں سمیت درجنوں ممالک نے مدد کا وعدہ کیا ہے، سرچ ٹیموں کے ساتھ ساتھ امدادی سامان بھی فضائی راستے سے پہنچنا شروع ہو گیا ہے،موسم سرما کے طوفان نے بہت سی سڑکوں کو، جس میں کچھ زلزلے سے تباہ ہوئیں، تقریباً ناقابل رسائی بنادیا ہے، جس کے نتیجے میں کچھ علاقوں میں کئی کئی کلومیٹر تک ٹریفک جام ہے،ترک صدر رجب طیب اردوان نے جنوب مشرقی 10 صوبوں میں تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے،

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر زلزلے سے 2 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوسکتے ہیں اور ممالک پر زور دیا کہ وہ آفت زدہ علاقے میں فوری مدد کریں،شام کی ہلال احمر نے مغربی ممالک سے پابندیاں اٹھانے اور امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ صدر بشار الاسد کی حکومت مغرب میں ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہے جس سے بین الاقوامی امدادی کوششیں پیچیدہ ہو رہی ہیں۔

امریکا کا وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ امریکا دمشق حکومت کے ساتھ کام نہیں کرے گا، یہ رقوم یقیناً شام کے عوام کو جاتی ہے حکمرانوں کو نہیں، یہ تبدیل نہیں ہوگا،امدادی اداروں نے شامی حکومت سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں تک مدد پہنچانے کے لیے سرحدی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دینے کا بھی کہا ہے۔ترکی-شام کی سرحد دنیا کے سب سے زیادہ فعال زلزلے والے علاقوں میں سے ایک ہے، پیر کا زلزلہ 1939 کے بعد ترکی میں دیکھا گیا سب سے بڑا زلزلہ تھا، جب مشرقی صوبہ ارزنجان میں 33 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پرواز کے ذریعے امدادی سامان کی پہلی کھیپ شام کے دارالحکومت دمشق روانہ کردی۔امدادی سامان میں 260 خیمے اور 2 ہزار 600 کمبل شامل ہیں، این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ آئندہ روز (جمعرات کو) میڈیکل ٹیم بھی شام بھیجی جائے گی۔این ڈی ایم اے کے امدادی سامان کا ایک اور قافلہ 10 فروری کو دمشق کے لیے روانہ ہوگا جس کے 16 فروری تک وہاں پہنچنے کا امکان ہے۔اس کے علاوہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اضافی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم بھی شام بھیجنے کے انتظامات کررہی ہے۔

Back to top button