22 ملین پاکستانی کنوارے نوجوان ڈپریشن کا شکار کیوں رہتے ہیں؟

سنگل نوجوان اپنی شادی کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں جبکہ شریک حیات کے انتخاب کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں، پاکستان میں تقریبا ہر گھر ہی بچے یا بچی کیلئے رشتے کے لیے پریشان ہے، کوئی رشتہ داروں سے عاجز آکر غیروں میں رشتہ داری کرنا چاہتا ہے تو کوئی غیروں سے تنگ آ کر اپنوں کو منانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
پاکستان میں والدین اپنے بچوں کی شادیاں کزن سے کرواتے ہیں اور کزن کے رشتے نہ ہونے کی صورت میں اپنے خاندان سے باہر رشتے کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں لیکن ذات برادری سے باہر اچھے اور مناسب رشتوں کا میسر کا نا ہونا اور معتبر ساتھ نہ ملنے کی وجہ سے والدین کافی ہچکچاہٹ کا شکار بھی ہیں اور یہ پاکستان میں بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
لڑکے ہیں تو ان کی عمریں ڈھلتی جا رہی ہیں اور لڑکیاں ہیں تو بیٹھے بیٹھے بالوں میں چاندی آ گئی ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں، ایک وجہ معاشرتی ناہمواری یا ’’بہتر سے بہترین‘‘ کی تلاش ہے، لڑکے اور لڑکیاں ادھیڑ پن میں چلے جاتے ہیں لیکن ان کی ’’بہترین‘‘ کی تلاش ختم نہیں ہوتی، وہ اسی تلاش میں ابدی منزل پا جاتے ہیں۔
ایک کنوارہ شخص جس کی عمر تقریباً چالیس سال کے قریب ہے، اس کے سر کے بال تقریباً ختم ہونیوالے ہیں،چہرے پر جھریاں پڑ چکی ہیں، جناب فرماتے ہیں کہ ابھی تک مجھے میرے لیول کی لڑکی ہی نہیں ملی، ابھی تو میں جوان ہوں، میری عمر ہی کیا ہے، 30 سال۔‘‘ مجھے وہ لڑکی چاہئے جو پڑھی لکھی ہو، گوری چٹی ہو، پاک باز، باحیا ہو، میرے حکم کی پابند رہنے والی ہو۔ میں نے جب کہا کہ آپ تو ایسے ہیں؟ آپ کا تو فلاں فلاں کے ساتھ ’’چکر‘‘ چل رہا ہے۔ تو کہنے لگے کہ میں مرد ہوں، میری مرضی۔ادھر یہی مزاج صنف نازک کا بھی ہے۔
ایک اور مسئلہ ذات برادری کا ہے۔ کوئی معیاری رشتہ مل بھی جائے تو ذات برادری آڑے آ جاتی ہے، کوئی اپنی ذات برادری سے باہر رشتہ کرنے کو تیار نہیں جو نوجوان غلطی سے اپنے والدین سے ایسی بات کر دیتا ہے تو توپوں کا رخ اس کی طرف کر دیا جاتا ہے۔
صرف بیٹی ہی نہیں بیٹوں کے بارے میں بھی یہی نظریہ ہے، ضرورت رشتہ کو نظریہ رشتہ بنا دیا جاتا ہے، پرکھوں کو دی گئی ’زبان‘ کو بچانے کے لیے چاچے، تائوں کی قبروں کو دیکھتے ہوئے اولاد کو قربانی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ بیٹا انجینئر ہوتا ہے تو اس کی شادی اَن پڑھ لڑکی سے کر دی جاتی ہے۔ بیٹی ڈاکٹر تو اسے کسی ’’بابے دلہے‘‘ کی دلہن بنا دیا جاتا ہے۔ جیسے اولاد نہ ہو بھیڑ بکری ہو، جہاں چاہا، جیسے چاہا کھونٹے کے ساتھ باندھ دیا۔ مان جائے تو دیوی نہ مانے تو چھنال۔
اگر بات بن بھی جائے تو لوگ لڑکیوں کا رشتہ دیکھنے جاتے ہیں، وہاں کیا دیکھتے ہیں؟ لڑکی چلتی کیسے ہے؟ اٹھتی، بیٹھی کیسے ہے؟ اس کا رنگ کیسا ہے؟ ناک اور آنکھیں کیسی ہیں؟ ٹیڑھا تو نہیں دیکھتی، بات کرتے ہوئے ہکلاتی تو نہیں۔ گھر میں کیا کیا ہے؟ جہیز میں کتنا ملے گا؟ چاہے ماں باپ کا گھر بمشکل چلتا ہو لاکھوں کا جہیز مانگ لیا جاتا ہے۔ جب کھا پی کر تسلی ہوجاتی ہے تو جاتے ہوئے کہا جاتا ہے ’’ہمیں آپ کی لڑکی پسند نہیں آئی‘‘۔ سوچیے اس لڑکی پر کیا گزرتی ہوگی۔
جب کسی لڑکی یا لڑکے کے رشتوں کے حوالے سے بار بار انکار کیا جاتا ہے تو وہ ان کےلیے روگ بن جاتا ہے۔ ذہنی بیماریوں، خودکشیوں میں اضافے کی وجہ یہ رویے ہیں جو معاشرے میں تیزی سے پنپ رہے ہیں۔ ان کے آگے دیوار نہ کھڑی کی گئی تو یاجوج ماجوج کی قوم کی طرح انسانوں کو چاٹ جائیں گے۔
’’لڑکی پسند نہیں آئی‘‘ کی ذہنیت سے نکل کر مناسب رویے اپنانے ہوں گے، وگرنہ یہی سماج ریاست، پنچایت، پولیس، کچہری میں بدلتا رہے گا، اس معاملے میں حکومت کو بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہئے، پارلیمنٹ میں قانون سازی ہونی چاہئے،اگر خواتین کی تعداد زیادہ اور مرد کم ہیں تو صاحب حیثیت مرد حضرات کو دوسری،تیسری شادی کی بھی اجازت ہونی چاہئے، دوسری ،تیسری شادی کرنیوالے افراد کو حکومت مالی معاونت فراہم کرے،جب دین اسلام مرد کو زیادہ شادیوں کی اجازت دیتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں روکنے والے!

Back to top button