کیا بندیال نے عدالتی مارشل لا ء نافذ کردیا ہے؟

عدلیہ نے قانون اور آئین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کو مدر آف لاء کی بجائے ہاؤس  آف مدر ان لاء ثابت کرنے میں کوئی کسر روا نہیں رکھی اور آئین کی بجائے ذاتی خواہشات کی تسکین اور فرمائشوں کی تکمیل میں عمران خان کو وہ ریلیف بھی فراہم کر دئیے جن کا انھوں نے تقاضا بھی نہیں کیا تھا۔سپریم کورٹ کی جانب سے ریمانڈ میں فراڈ اور غبن کے ایک ملزم عمران خان کو ریلیف کی فراہمی کا سلسلہ 12 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی جاری رہا۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو نہ صرف القادر ٹرسٹ کرپشن مقدمے میں 17 مئی تک ضمانت مل گئی بلکہ اس کے ساتھ لاہور میں درج دہشت گردی کے مقدمات اور ظل شاہ قتل کے مقدمے میں بھی دس روز کی ضمانت مل گئی اس کے ساتھ ساتھ انہیں ‘اومنی بس‘ضمانتیں مل گئیں۔

اب عمران خان کو کسی بھی مقدمے میں 15 مئی تک گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی عمومی زبان میں عمرانڈو ججز اپنے لاڈلے کو فوری گرفتاری سے بچانے کیلئے بالکل ننگے ہو کر سامنے آ گئے ہیں۔ عمران دار ججز کے عمران خان کیلئے ضمانتوں کی سیل نے جہاں قانون دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے وہیں حکومتی اتحادی جماعتوں نے بھی اس پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک طرف پی ڈی ایم نے 15 مئی کو سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے وہیں مریم نواز نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو عمران خان کو غیر قانونی ریلیف کی فراہمی پر سیاسی رد عمل کی دھمکی دی ہے جبکہ ناقدین کے مطابق عمران خان کو قانون سے ماوراء ریلیف کی فراہمی سے لگتا ہے کہ ملک میں جوڈیشل مارشل لاء لگ چکا ہے اور عنقریب یہ حکم بھی آنے والا ہے کہ عمران خان تا حیات پاکستان کے سربراہ رہیں گے۔

عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے تھوک کے حساب سے ضمانتوں کی فراہمی پرسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایک تو سپریم کورٹ نے عمران خان کی رہائی کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ ان کو اسلام آباد پولیس کی تحویل میں دیا تھا۔ دوسرا عدالت کے احاطے سے عمران خان کی گرفتاری کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے مطابق ان کی گرفتاری قانونی تھی۔امان اللہ کنرانی نے کہا کہ یہ حکمنامہ موجود ہے اور اس کو چیلنج نہیں کیا گیا اور سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کے بارے میں بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر یہ تھا کہ جہاں سے گرفتاری ہوئی وہاں ہی سے اس عمل کو دوبارہ شروع کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ 37 سال سے وکالت کر رہے ہیں اور ان کا زیادہ کام فوجداری مقدمات سے متعلق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انوکھا باب رقم کیا گیا ہے۔ جو بندہ پہلے سے گرفتار ہو اسے ضمانت قبل از گرفتاری یا حفاظتی ضمانت نہیں بلکہ ضمانت بعد از گرفتاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

القادر ٹرسٹ میں عمران خان کی ضمانت پر بات کرتے ہوئے امان اللہ کنرانی نے کہا کہ نیب مقدمات میں پہلے ہائی کورٹ ضمانت دیتی تھی لیکن اب یہ اختیار احتساب عدالت کو مل گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق عمران خان کو ضمانت کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے تھا نہ کہ ہائی کورٹ سے اور ایسی صورت میں جب وہ پہلے سے گرفتار تھے۔ امان اللہ کنرانی نے کہا کہ ان کی نظر میں عمران خان کو غیرقانونی فیور دی گئی ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اکرام چوہدری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ملنے والا ریلیف بالکل قانون کے مطابق ہے اور اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرنا لاقانونیت تھی اور عدالت کے اندر جب ایک شخص آ جاتا ہے تو وہ عدالتی پناہ میں تصور کیا جاتا ہے۔اکرام چوہدری نے کہا کہ 99 فیصد نیب مقدمات میں جب کوئی بندہ ضمانت کے لیے پہلی بار آتا ہے تو اس میں مقدمے کے میرٹس اور ڈی میرٹس پر بات نہیں کی جاتی اور ضمانت مل جاتی ہے جس کو بعد کنفرم یا منسوخ کیا جاتا ہے۔

عمران خان کو اومنی بس ضمانتیں ملنے پر ردعمل دیتے ہوئے اکرام چوہدری نے کہا کہ جب کسی شخص کے خلاف مقدمات کی بھرمار ہو جائے تو عدالتیں اومنی بس آرڈر جاری کرتی ہیں۔ یہ روٹین کا آرڈر ہے اور حکومتی اتحاد جو اس کو فیورٹزم کا رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ نیب مقدمات میں عام آدمی کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل نے نام نہ لکھنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ایک مؤ کل پر دس کروڑ غبن کا الزام تھا۔ مقدمہ نیب میں درج تھا۔ مذکورہ وکیل نے اپنے مؤکل کی ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا کیونکہ نیب کے پرانے قانون کے تحت نیب مقدمات میں ضمانت دینے کا اختیار ہائی کورٹ کے پاس تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت نے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو کہ 48 دن کے بعد سنایا جانا مقرر ہوا۔ لیکن فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد جب میرا مؤکل احاطہ عدالت سے باہر نکلا تو اسے نیب حکام نے نا صرف گرفتار کر لیا بلکہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر احتساب عدالت سے اس کا ریمانڈ بھی حاصل کر لیا۔

 لیکن یہاں تو اربوں روپے کے کیس میں ضمانت ایسے لی گئی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ریمانڈ میں عام ملزم کو ریلیف تو کجا ملاقات بھی مشکل ہوتی ہے لیکن یہاں نہ صرف ملزم کو مل کر جناب چیف جسٹس کو خوشی ہوتی ہے بلکہ ان کو ان چاہا ریلیف فراہم کر کے دیگر ججز بھی اپنے من کو تسکین پہنچاتے ہیں۔

نیب مقدمات میں پیش ہونے والے ایک اور وکیل امجد اقبال قریشی نے اپنے مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ نیب سے متعلق ایک مقدمے میں وہ ملزمان کی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تو عدالت نے کہا کہ نئے ترمیم شدہ قانون کے مطابق اب ضمانت کا اختیار احتساب عدالت کو مل گیا ہے اس لیے وہاں جائیں۔انہوں نے کہا کہ نیب مقدمے میں عمران خان کو ہائی کورٹ سے ضمانت ملنا ان کے لیے باعث حیرت ہے۔

دوسری جانب عمران خان کو ریلیف کی فراہمی پر حکومتی اتحادی جماعتیں بھی برہم دکھائی دیتی ہیں وفاقی کابینہ نے عمران خان کی گرفتاری میں چیف جسٹس کی غیر معمولی مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’مس کنڈکٹ‘‘ قرار دیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے عمران خان کو کرپشن میں این آر او دے دیا ہے۔ 60 ارب روپے کی کرپشن کا معاملہ ہے لیکن عدلیہ عمران کے تحفظ کے لیے آہنی دیوار بن گئی ہے۔

اگر ایسا سلوک کرنا ہے تو ملک میں جتنے چور ڈاکو ہیں ان سب کو بھی چھوڑ دیں۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ کاش عدلیہ نواز شریف کو بھی کہتی آپ کو دیکھ کر اچھا لگا لیکن یہ دہرا معیار ہے جس نے انصاف کا جنازہ نکال دیا۔ دوسری جانب چیف جسٹس کی جانب سے عمران دار ججز بننے پر پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 15 مئی کو سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔

چیف جسٹس بندیال کے عمران خان بارے ریمارکس پر مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو عمران خان کو یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ آپ قوم کا 60 ارب روپیہ لوٹ کر آئے ہیں اس لیے آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔ لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتھ ہوئے انہوں نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ: چیف جسٹس آف پاکستان کو ان کو یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ ’آپ قوم کا 60 ارب روپیہ لوٹ کر آئے ہیں اس لیے آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔

اس سے قبل مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے چیف جسٹس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان! آپ اپنی کرسی کوعمران کی سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں تواب سیاسی ردعمل کے لئے بھی تیار رہیں۔ کیا ایک مجرم کو عدالت کو پناہ گاہ بنانے کی اجازت دینا بھی کوئی نیا قانون ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری دو مختلف ٹویٹس میں میریم نواز نے لکھا کہ: ’فتنہ گرفتاری کے ڈر سے عدالت میں چھپا بیٹھا ہے۔ اگر عدالت سے گرفتار کرنا غلط ہے تو کیا ایک مجرم کو عدالت کو اپنی پناہ گاہ بنانے کی اجازت دینا بھی کوئی نیا قانون ہے؟ شرم آتی ہے اس دہرے معیار پر!‘

ایک دوسرے ٹویٹ میں مریم نواز نے لکھا کہ:’چیف جسٹس ہونے کا مطلب ریاست کو اس شخص کی غلامی میں دینا نہیں جس نے اپنے ’پالتو غنڈوں‘ کے ذریعے قومی وقار اور ملکی دفاع کی ہرعلامت کو جلا کر راکھ کردیا۔‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایسے شخص کو کسی بھی مقدمے میں گرفتاری سے روکنا، اسے شاہی مہمان بنا کررکھنا، اس کے نخرے اٹھانا ہر پاکستانی کے علاوہ ان شہیدوں اور غازیوں کی توہین ہے جن کی ہر نشانی پرحملہ کیا گیا۔مریم نواز نے چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’صاحب! آپ اب عدلیہ ہی نہیں، آئین و قانون نظام انصاف اور ملکی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔‘ملکی تقدیر سے کھیلنے والے ایک ’دہشتگر‘ کے سہولت کار بننے کے بعد آپ اپنا وقار کھو چکے ہیں- آپ اپنی کرسی کوعمران کی سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو اب سیاسی رد عمل کے لئے تیار رہیں۔

Back to top button